عجیب منطق ہے ۔۔!!

تحریر: عبدالقادر غوری

پلاسٹک کی شاپرز پر پابندی لگانا حکومت وقت کا بہترین اقدام ہے اس پر اگر پوری طرح عمل درآمد ہوا تو آلودگی، کچرے ، سیوریج سسٹم میں خرابی سے خاطر خواہ چھٹکارہ ملے گا ۔
لیکن
صرف پلاسٹک کی شاپرز بند کیے ہیں ۔ جس سے دکاندار کو فائدہ ہوا ہے کہ اب اُسے اضافی خرچ نہیں کرنا ہوگا ۔

لیکن عوام پریشان ہیں
آپ اپنے گھر سے سلائی مشین پر سلا ہوا کپڑے کا تھلا یا بیگ دکان پر لیکر جائیں ۔

دکاندار آپ کے کپڑے کے بیگ میں
پلاسٹک کی تیل والی شاپر رکھے گا ۔ پلاسٹک کا چپس پیکٹ رکھے گا ۔ پلاسٹک کے مصالحہ جات کے پیکٹ رکھے گا ۔ کولڈ ڈرنک، سرکہ، کیچپ اور دیگر بوتلیں رکھے گا ۔

صرف گاہک کو سہولت دینے والی شاپرز بند ہیں۔

باقی شاپر کون بند کرے گا ؟

سگریٹ کے پاکٹ پر کور بھی پلاسٹک کا ہوتا ہے ۔

دکاندار مستی میں ہے
آپ اُسے کہو کہ یہ کولڈ ڈرنک تیل اور گھی کی تھیلی کسی شاپر میں ڈال دو
تو بڑے انداز میں کہتا ہے
بھائی پھنسوائیں گے کیا
پلاسٹک کی شاپرز پر پابندی لگ گئی ہے.
اُدھر سیور فوڈ پر بھی دو لاکھ جرمانہ ڈال دیا گیا ہے ۔

میں کہتا ہوں آئل گھی بنانے والی فیکٹریوں پر کب جرمانا لگے گا؟

کیا پابندی اسے کہتے ہیں
ہر چیز پلاسٹک کی پیکنگ میں بک رہی ہے

عوام کو حکم ہے کہ
سلائی مشین پر سلا ہوا کپڑے کا تھیلا لیکر بازار جاؤ
اور سلائی مشینوں سے ارب پتی بننے والوں کو اور زیادہ امیر بناؤ ۔

پلاسٹک کے ہر شاپر پر پابندی ہے اور ہونی چاہیے
میں خوش ہوگیا تھا
لیکن اب لگتا ہے ان کی نیت درست نہیں ہے
بڑی بڑی فیکٹریوں کے مالکان کو نوٹس کیوں نہیں جارہی ہوا ابھی تک کہ آپ شاپرز استعمال نہیں کریں گے
صرف دکاندار اور گاہک کو کیوں کہا گیا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں