عدلیہ کی آزادی اور آئین کی پاسداری کے محافظ وکلاء تنظیمیں خاموش کیوں؟

تحریر:احسان علی ایڈووکیٹ

گزشتہ دو تین دنوں سے غدار مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر جس طرح موقع پرست وزراء حکومت کے نام نہاد قانونی مشیران وزیر قانون دروغ نسیم وغیرہ اور عسکری ادارے کے ترجمان وغیرہ اور کارپوریٹ میڈیا کے زرخرید اینکرز جس ہتک آمیز طریقے سے ایک اعلیٰ عدالت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر عدلیہ اور معزز ججوں کی جس بدترین انداز میں تضحیک و توہین کر رہے ہیں اس کی مثال پاکستان کی تاریخ کیا دنیا کے کسی ملک کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی ۔مشرف کے ان ڈھنڈورچیوں اور سرکاری ترجمانوں کی ڈھٹائی کی انتہا دیکھیے کہ یہ آئین کو بار بار توڑنے والے غدار مشرف کو محب وطن اور آئین توڑنے جیسی سنگین جرم ثابت ھونے پہ سزا دینے والی عدالت کے معزز ججوں پہ سنگین الزامات لگا کر غدار مشرف کو مظلوم ثابت کرنے پہ تلے ھوئے ہیں

پاکستان بھر کے وکلاء اپنی تنظیموں پاکستان بار کونسل تمام صوبائی بار کونسلز سپریم کورٹ بار اور تمام ہائی کورٹس بار اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز آئین پاکستان کی پاسداری عدلیہ کی خودمختاری و آزادیںاور رول آف لاء کی تحفظ کا حلف لیا ھوا ھے اس لئے اب اس حلف کا تقاضہ بنتا ھے کہ ان غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے آئینی اداروں پہ کھلے عام حملے کے خلاف اٹھ کھڑے ھو جائیں تحصیل سے لیکر ڈسٹرکٹ ہائی کورٹ بار اور سپریم کورٹ بار ایسوسی اشنز اور تمام بار کونسلز اور انسانی حقوق کیلئے لڑنے والی وکلاء تنظیمیں اور اپنے بنیادی جمہوری سیاسی معاشی حقوق کیلئے جدو جہد کرنے والی مزدور کسان نوجوان اور طلباء تنظیمیں متحد ھو کر ایک مشترکہ ایجنڈے کے بنیاد پہ موجودہ سامراجی اداروں اور طاقتوں کے ایجنٹ حکمرانوں اور ان کی عوام دشمن جمہوریت دشمن آئین مخالف پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا آغاز کریں مگر اس مرتبہ وکلاء کے درمیان موجود ارب پتی کالی بھیڑوں کو لیڈرشپ سے ہٹانا ھو گا جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے سابقہ وکلاء تحریک کو دیگر کچلے ھوئے عوام سے کاٹ کر حکمرانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اسے منتقی انجام تک پہنچنے نہ دیا تھا اور وکلاء کی شاندار قربانیوں کو ضائع کر دیا تھا.
اب وقت آیا ھے کہ وکلاء اپنی 2007 سے 2009 تک کی شاندار تحریک کو ایک نئے عزم کے اور نئے انقلابی جزبے کے ساتھ ایک بار پھر زندہ کریں وکلاء اتحاد زندہ باد وکلاء انجینئرز ڈاکٹرز اساتزہ مزدور کسان نوجوان اور طلباء اتحاد زندہ باد

احسان علی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن گلگت بلتستان کے سابق صدر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں