عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا نمبرداردی کی مخالفت

پریس ریلیز
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان نے حکومتی اقدامات جن میں گلگت بلتستان میں پھر سے فرسودہ نمبرداری نظام کو بحال کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا.اور یس عزم کا اظہار کیا اور اس کی مزاھمت کرینگے.
بلتستان ایکشن کمیٹی نے اس بات کا اظہار اپنے اجلاس منعقدہ دیوسائی ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ میں 26مارچ کوکیا.
اجلاس کی صدارت کنوئینر غلام شہزاد آغا نے کیا. اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور جلد از جلد اس فرسودہ نظام کے خاتمے کے لئے ایک منظم حکمت عملی مرتب کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا. اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس نظام کے خاتمہ کے لیےمجاز قانونی فورم پر چارہ جوئی کی جائے گی.
کمیٹی نے حکومت سے فوراً سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی کا مطالبہ کیا کیونکہ حکومت بندوبست کے جامع قوانین کو بالاٰ ے طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنا نہ صرف یہاں کے عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے سراسر منافی ہے. بلکہ ایک منظم سازش کے تحت گلگت بلتستان کی آبادی کو تبدیل کرنے کوشش ہے.
آنھوں نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو گلگت بلتستان میں بسا کر اس جدید دور میں بھی کالونیل سسٹم رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ سازشی عناصر لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی پروان چڑھا سکے.
لہذا فوری طور پر حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرے تاکہ یہاں کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہوسکے.
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت کسی بھی پس و پیش عوامی آواز کو دبانے یا تقسیم کرنے کی بجائے عوامی مسائل کو حل کریں. شرکاء اجلاس میں بشارت علی ایڈووکیٹ، محمد علی دلشاد، محمد علی مرغوب ایڈووکیٹ، محمد اقبال ایڈووکیٹ، سید انور علی، آغا عباس موسوی اور اخون غلام نے شرکت کی.

اپنا تبصرہ بھیجیں