عوامی ایکشن کمیٹی کا بلتستان یونورسٹی کی فیسوں میں اضافہ کی مخالفت

بام دنیا رپورٹ

عوامی اکشن کمیٹی بلتستان کے رہنماء بلتستان یونیورسٹی کے بحران پر غورو خوص کر رہیں ہیں۔ (2)

اسکردو: عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کا ایک ہنگامی اجلاس جمعرات کے روز دیوسائی ہوٹل سکردو میں منعقد ہوا. اجلاس میں بلتستان یونیورسٹی میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات بلخصوص بلتستان یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے درپیش انتظامی بحران اورتدریسی کمزوریوں پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا.
اجلاس میں ایڈووکیٹ بشارت غازی، حاجی منظور یولتر، نجف علی،ایڈووکیٹ آصف ناجی،شبیر مایار محمد علی دلشاد، راجہ محمد جاوید، آغا انور کاظمی، قمر نجمی، انجینئر منور اور شریف اخونزادہ نے بھی شرکت کیں .
شرکاء اجلاس نے وائس چانسلر اور رجسٹرار کی طرف سے فیسوں میںاضافہ اور فییں ادا نہ کرسکنے والے طلباء کو یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کی مہم پرشدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا. انھوں نے کہا کہ بلتستان یونیورسٹی علاقے کی واحد یونیورسٹی ہے جس میں بلا تفریق، امیر وغریب کے بچے زیر تعلیم ہیں. علاقے کی اکثریت غریب لوگوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اکثر والدین کی اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اتنی بھاری فیسیں ادا کریں.
انھوں نے کہا کہ یہ حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو تعلیم کی سہولیات فراہم کرے. اگر یونیورسٹی کیلئے گرانٹس کی کمی ہے تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس میں اضافہ کرے. شرکاء نے کہا کہ اگر فیسوں کی وجہ سے اگر کوئی طالب علم تعلیم جاری نہ رکھ سکا تو یہ حکومت اور معاشرہ کے منہ پر طمانچہ ہوگا.
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان ایسے کسی بھی علم دشمن اقدام کی بھر پور مذمت کرتی ہے.اور یونیورسٹی انتظامیہ وی سی، رجسٹرار اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر فیسوں میں کمی کا اعلان کرے. حکومت کو چاہیے کہ کہ یونیورسٹی سطح کی تعلیم مفت مہیا کرے.
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان نے قراقرم یونیورسٹی گلگت کے طلبہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ کی بھی بھر پور حمایت کا اعلان کیا . اور طلبہ ایکشن کمیٹی کے تمام کے مطالبات کے منظور ہونے تک انکے شانہ بشانہ کھڑی ہے. انھوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست اور حکومت گلگت بلتستان میں مفت معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کرے. حکومت عوام کے سڑکوں پر آنے، سراپا احتجاج ہونے تک مسائل کو حل نہ کی روش کو یکسر ترک کردے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں