عوامی ورکرز پارٹی نے بابا جان اور دیگر قیدیوں کی رہائی کو عوام کی فتح قرار دیا ہے

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء بابا جان، افتخار کربلائی اور شکراللہ بیگ کو دماس جیل، گاہکوچ سے جمعے کی شام رہا کیا گیا اور ایک جلوس کی شکل میں ان کے ابائی ضلع ہنزہ پہنچا دیا گیا.

بام جہان رپورٹ

عوامی ورکرز پارٹی نےاپنے انقلابی رہنماؤں بابا جان ، علیم خان ، افتخار کربلائی اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کو عوام اور تمام ترقی پسند مزاحمتی قوتوں کی فتح قرار دیا ہے۔ بابا جان، افتخار حسین کربلائی اور شکراللہ بیگ مٹھو کو جمعے کی شام دماس جیل گاہکوچ سے رہا کیا گیا. ان سے قبل 11 دیگر اسیروں کو 17 اور 22 نومبر کو رہا کیا گیاتھا.
ان کی رہائی اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں علی آباد ہنزہ کے مقام پر شاہراہ ریشم پر ایک ہفتے تک جاری رہنے والے تاریخی دھرنا کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت عمل میں آہا.

اپنے مشترکہ بیان میں عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر یوسف مستی خان ، جنرل سکریٹری اختر حسین ، ڈپٹی سیکرٹری عصمت شاہجہاں، پارٹی کے بانی صدر اور بزرگ رہنماء عابد حسن منٹو، آرگنائزنگ سیکریٹری جاوید اختر، فیڈرل کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر فرزانہ باری، شہاب خٹک، سندھ کے صدر بخشل تھلہو، پنجاب کے صدر عمار رشید ، پختونخواہ کے صدر حیدر زمان، سرائیکی وسیب کے صدر فرحت عباس، بلوچستان کے صدر یوسف کاکڑ، عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کے رہنماوں محمد ہاشمی، ڈاکٹر ذاکر حسین، پرویز فتح، جموں و کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے چئرمین نثار شاہ اور دیگر نے گلگت-بلتستان کے عوام اوربالخصوص ہنزہ کے عوام کو مبارکباد دی ہے جنہوں نے نہایت بہادری کے ساتھ ان رہنماؤں کی آزادی کے لئے گزشتہ نو سالوں میں جدوجہد کیں۔ انہوں نے ان تمام ترقی پسند، بائیں بازو اور مزاحمتی قوتوں کا بھی شکریہ ادا کیا جو ان ضمیر کے قیدیوں کے ساتھ روا رکھی گئی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

بابا جان اور اس کے ساتھیوں کونو طویل سالوں کے بعد رہا کرنا اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ بے انتہا ظلم و جبر سے قطع نظر، ہمیشہ حق اور انصاف ہی کی فتح اور بول بالا ہوتا ہے۔ بابا جان اور اس کے ساتھیوں کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزا سنائی گئی اور انھیں اور انہیں ملک اور عوام کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں عطا آباد کے آفات زدہ افراد کے حق میں آواز بلند کرنے اور اپنے وسائل پر گلگت – بلتستان کے محنت کشوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے اور جدوجہد کرنے کی پاداش میں سزا دی جا رہی ہے۔ ان کی قید ناحق گلگت بلتستان میں فرسودہ، عوام دشمن ، نوآبادیاتی نظام کی عکاسی تھی۔ آج انھیں رہا کرکے ریاست نے خود ہی ان سچائیوں کا اعتراف کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بابا جان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی میں گلگت بلتستان کے حکام کے رویئے میں کسی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ گلگت-بلتستان کےحق پرست، وطن دوست نوجوانوں، بالخصوص اسیران کے خاندانوں، ہنزہ کے عوام کا تاریخی دھرنا اور اے ڈبلیو پی، اے ڈبلیو پی جی بی، این ایس ایف، اے بی ایم، بی ایس ایف اور بائیں بازو کے دیگر ساتھیوں کے ملک گیر احتجاج ، قوم پرست اور دیگر جماعتوں کے ہمدرد رہنماؤں اور کارکنوں ، عالمی انسانی حقوق اور حقوق نسواں کی تنظیموں اور دنیا بھر کے دانشوروں اور وسیع تر محنت کش لوگوں کی حمایت اوریکجہتی کا نتیجہ ہے۔

ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم احسان علی ایڈووکیٹ، امجد حسین ایڈووکیٹ، نذیر احمد ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نےرضاکارانہ طور پربابا جان اور دیگر اسیروں کے مقدمات کی مختلف عدالتوں میں پیروی کرتے رہے۔

"ہم مختلف جماعتوں کے اراکین اسمبلئ کی حمایت کو سراہتے ہیں جو ان کی رہائی کے لئے مستقل طور پر کھڑے رہے، خاص طور پر سابق سینیٹرز افراسیاب خٹک ، فرحت اللہ بابر اور عثمان کاکڑ جنہوں نے بابا جان کی قید کو مستقل طور پر سینیٹ ، میڈیا اور عوامی حلقوں میں اجاگرکیا۔

"ہم حقوق انسانی کمیشن پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے مستقل مزاجی کے ساتھ بابا جان اور دیگر سیاسی قیدیوں کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کی دستاویزی رپورٹ شائع کی اور انہیں ناجائز قرار دیا ۔ ہم دوسرے بائیں بازو ، ترقی پسند اور قوم پرست گروہوں کے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بابا جان کی آزادی کے لئے سخت مہم چلائی۔

"آج ہم مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو بھی یاد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، جنھوں نے گلگت-بلتستان میں طویل عرصے سے بابا جان کے لئے اور انو آبادیاتی استحصالی نظام کے خلاف آخرہ سانس تک آواز بلند کرتی رہیں ۔ ہم پرو فیسر نوم چومسکی اور طارق علی جیسے بائیں بازو کے بین الاقوامی رہنماؤں کی خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہیں جنھوں نے ان کی رہائی کی درخواست کی تھی۔ ہم ان لاتعداد نوجوان شعراء ، گلوکاروں اور موسیقاروں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے اپنا تخلیقی فن بابا جان اور ان کی جدوجہد کے لئے وقف کیا اور نوجوانوں کے اندر انقلابی جذبہ کو بیدار کیا۔

"آج جب ہم بابا جان کی رہائی کا جشن مناتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چائیے کہ بابا جان اور اس کے ساتھیوں نے اپنہ زندگی کے قیمتی دس سال ایک ناکردہ جرم کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ان کی رہائی کوابھی مکمل انصاف نہیں کہا جاسکتاہے۔

"یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ بابا جان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف بے بنیاد الزامات کو ختم نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کی سزا معطل کیا گیا ہے ، تاکہ ریاست جب چاہیں ان کارکنوں کے خلاف ان الزامات کو استعمال کرسکیں۔ ہم سیاسی کارکنوں اور مزاحمتی قوتقں کے خلاف دہشت گردی کے کالے قوانین کی بے دریغ استعمال اور ان کو مذاکرات کا ایک آلہ کے طور پر استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ اور ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ گلگت-بلتستان اور پاکستان کی عدالتوں میں سیاسی کارکنوں کے خلاف ان جھوٹے الزامات ، اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال کے خلاف قانونی اور سیاسی جنگ جاری رکھیں گے، اور گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں نو آبادیاتی آمرانہ غیر جمہوری حکمرانی کے ڈھانچے کا خاتمہ کریں گے۔”

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں نے کہا کہ آج ہم گلگت- بلتستان کے محنت کش عوام کے ہیرو کی اس کے لوگوں میں واپسی کا جشن مناتے ہیں۔ آج ، ہم ایک طویل رات کے اندھیرے کے بعد سخت محنت سے جیتنے والی امید کی صبح کا جشن مناتے ہیں۔
بابا جان اور ان کے ساتھیوں کو سرخ سلام۔

اپنا تبصرہ بھیجیں