عورتوں کی خودمختاری اور عورت مارچ کے مطالبات

احسان علی ایڈووکیٹ

8 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بین الا قوامی یوم خواتین کے طور پہ منایا جاتا ھے- اس سال بھی ملک بھر میں یوم خواتین منانے کیلئے جوش و خروش سے تیاریاں جاری ہیں مگر اسکے ساتھ رجعت پسند قوتیں اسکی مخالفت میں میڈیا پہ شور مچا رہی ہیں ایک مذ ہبی جماعت نے تو باقاعدہ عورت مارچ کو طاقت سے روکنے کی دھمکی بھی دی ھے- رجعت پسند قوتیں عورتوں کے اندر بڑھتی سیاسی شعور اور اسکی بنیاد پہ ان میں مزاحمت سے خوفزدہ ہیں-
عورت مارچ لاہور کے منتظمین نے باقاعدہ ایک منشور بھی شائع کیا ھے مگر اس منشور میں عورتوں کی آزادی و خودمختاری کو یقینی بنانے والے اہم مطالبات میں سے ایک بھی مطالبہ شامل نہیں ان مطالبات کی تیاری میں عورتوں کے حقیقی نمائندوں کا کردار نظر نہیں آ رہا ھے – البتہ ان مطالبات کی تیاری میں غیر سیاسی تنظیموں کا عمل دخل ذیادہ نظر آ رہا ھے۔
سماج کے کسی بھی پسے ھوئے مظلوم اور محکوم حصہ کے حقوق کے لئے جدو جہد بہت ہی مثبت عمل ھے بشرطیکہ اس کی قیادت خود اس پسے ھوئے طبقے/ حصے کے اپنے حقیقی نمائندوں کے ہاتھوں میں ھو۔
موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں مزدور کسان درمیانہ اور امیر طبقے کی طرح عورت بھی الگ سے کوئی سماجی طبقہ نہیں بلکہ اس طبقاتی نظام میں موجود مختلف طبقات کا حصہ ھے- مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ھے کہ اس طبقاتی سماج میں عورتیں ایک بدترین جبر، ناانصافی، نابرابری اور استحصال کے شکار چلی آ رہی ھیں اور جب تک یہ طبقاتی نظام موجود ھے سماج کے دوسرے کچلے ھوئے محنت کش طبقات کی طرح عورتیں بھی جبر و استحصال کی زنجیروں میں جکڑی رہٰن گی-
عورتوں کی حقیقی خودمختاری اور جبر و استحصال سے مکمل چھٹکارا اس سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے مشروط ھے اور سرمایے کی بالادستی اور لوٹ مار کے اس وحشی نظام کے مکمل خاتمے کا واحد حل سوشلسٹ نظام کے قیام میں ھے اسی لئے سوشلسٹ فلسفے کے بانیوں کارل مارکس فریڈرک اینگلز اور لینن نے عورتوں اور دوسرے محنت کش طبقات کی جبر کے نظام سے آزادی کو سوشلزم کے قیام سے مشروط کیا ھے-
اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ جب تک سوشلزم نہیں آتا عورت اپنی آزادی اور خودمختاری کیلئے جدو جہد نہ کرے- عورتوں کو اس سرمایہ داری اور پدرشاہانہ نظام کے اندر بھی اپنے زیادہ سے زیادہ حقوق کیلئے جدو جہد کرنی چاہیئے اور انہیں غیر سرکاری تنظیموں کی غیر سیاسی محدود سوچ کے تحت نامکمل اور مبہم مطالبات کے ساتھ میدان میں نہیں آنا چاہیئے جیساکہ عورت مارچ لاہور کے منتظمین کچھ نامکمل مبہم اور غیر واضع مطالبات کے ساتھ سامنے آئے ہیں جبکہ ضرورت عورتوں کی آزادی سے متعلق مکمل مطالبات کے گرد عورتوں اور دیگر کچلے ھوئے طبقات کو متحد کرنے کی ضرورت ھے جو حسب زیل ہیں:
1 – عورتوں کو ملک کی فیصلہ سازی، پالیسی سازی، اور خاص طور پر حقوق سے متعلق معاملات میں عورتوں کی نمائندہ تنظیموں کی رائے کو اولیت دیا جائے.
2 – پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور لوکل کونسلوں میں خواتین کی تعداد بڑھا کر پچاس فیصد کر دی جائے۔
3 – سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں جن میں انتظامیہ، پولیس اور فوج شامل ہیں، میں عورتوں کو مساوی حصہ دیا جائے۔
4 ۔ تعلیمی نظام اور بلخصوص سکولوں کا مکمل کنٹرول خواتین ٹیچروں کے حوالہ کیا جائے-
5 – عورتوں کی گھریلو محنت کیلئے بھی اجرت مقرر کیا جائے-
6 – گھریلو عورتوں کو محنت کش قرار دیکر انہیں یونین سازی کا آئینی حق دیا جائے-
7 – ہر گاؤں، یونین کونسل اور ضلع کی سطح پہ خواتین کی منتخب کونسلیں قائم کئے جائیں اور مقامی انتظامی معاملات میں خواتین کونسلوں کے قراردادوں اور فیصلوں پہ عمل درآمد کو حکومت کی آئینی ذمہ داری قرار دی جائے۔
8 – خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور کام کی جگہ پہ حراساں کرنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔
9 – بنکوں اور مالیاتی اداروں سے گھریلو خواتین کو بلا سود قرضے آسان اقساط پہ فراہم کیے جائیں۔
10 – دیہاتوں میں خواتین محنت کشوں کو اپنی کمیٹیاں بنانے کا حق دیا جائے-
11- جاگیرداری اور زمینداری نظام کا مکمل خاتمہ کرکے تمام اراضیات غریب کسانوں میں مفت تقسیم کیا جائے-
12۔ فیکٹریوں اور کارخانوں کی منیجمنٹ چلانے اور فیصلے کرنے میں مزدور یونین کے نمائندوں کو مساوی نمائندگی دی جائے ان نمائندوں میں خواتین محنت کشوں کو موثر نمائندگی دی جائے۔

احسان علی ایڈووکیٹ بایاں بازو کے رہنماء، گلگت بلتستان سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور گلگت بلتستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں