غریب کے لۓ یہ تدابیر کارگر نہیں ہیں


تحریر۔ اسرارالدین اسرار

چونکہ میڈیااور سرکاری محکموں میں متوسط طبقہ جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں صاحب ثروت اور امیر لوگ بیٹھے ہیں اس لۓ موجودہ وبا ٕ سے نمٹنے کی جتنی تدابیر بیان کی جارہی ہیں وہ مذکورہ دونوں طبقات کی سماجی اور معاشی حثیت کو ذہن میں رکھ کر پیش کی جارہی ہیں۔ انتہاٸی غریب، محنت کش ، مزودر ، دیہاڈی دار، بے روزگار، نچلے درجے کے ملازمین، بھیک مانگ کر گزارہ کرنے والے، بے گھر، کم آمدنی والے، افراد باہم معذوری اور وہ تمام طبقات جو کہ مجموعی طور پر ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہیں اور تمام تر بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ان کے لۓ روزانہ صبح شام کورونا واٸرس کی وبا ٕ سے بچنے کے لۓ میڈیا کے توسط سے فصاحت و بلاغت کے ساتھ بیان کی جانے والی تدابیر قابل عمل نہیں ہیں۔

مثلاً جب ماہرین کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ کورونا سے بچنے کے لۓ روزانہ کئی دفعہ صابن سے بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونا لازمی ہے تو یہ متوسط، صاحب استطاعت اور امیر طبقہ کے لۓ قابل عمل اور سود مند تدبیر ضرور ہے مگر اس ملک کی ایک بڑی آبادی وہ ہے جو مہنہ بھر مشکل سے صرف ایک دفعہ ایک سستاسا صابن خریدنے کی استطاعت رکھتی ہے۔ یہ غیر معیاری صابن کسی انتہاٸی غریب فردکے اہل خانہ کا مشترکہ اثاثہ ہوتا ہے جس کو چھوٹے بڑے سب مل کر سر سے پائوں تک دھوتے ہیں۔ ایسے میں ہر گھنٹے میں بیس سکینڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے کی تدبیر ان کے لۓ قابل عمل نہیں ہے۔

اسی طرح لاک ڈوان کے دوران گھروں میں رہنا تنخواہ دار اور صاحب حیثیت لوگوں کے لۓ قابل عمل تدبیر ہے کیونکہ اس سے ان کی آمدنی اتنی متاثر نہیں ہوتی ہے کہ وہ فاقوں کا شکار ہوجائیں۔ مگر غریب ترین طبقہ جن کے گھروں میں روٹی، چاۓ، دوائی یا دیگر ضروریات زندگی روز کی محنت سے حاصل کردہ محدود کمائی سے یا مانگ تانگ کر جمع کیے گئے پیسوں سے لاٸی جاتی ہے ان کے لۓ بچوں کے سوکھے ہونٹوں اور تکتی نظروں کے سامنے گھروں میں رہنا قیامت سے کم نہیں اور جن کا گھر ہی نہیں ان کے لۓ گھروں میں رہنے کی تلقین کرنا ان پر ستم ڈھانے کے مترادف ہے کیونکہ ملک میں اب بھی لاکھوں نہیں تو ہزاوں لوگ بے گھر ہیں جو فٹ پاتھوں میں سو کر زندگی بسر کرتے ہیں ۔

آپس میں ایک سے دو گز کا فاصلہ رکھنااور سوشل ڈسٹنسنگ کی اصطلاح کچی آبادیوں، فلیٹس اور گنجان آباد محلوں میں رہنے والوں کے لۓ ایک دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہے۔ کورونا کی علامات کی صورت میں بیمار کو آئسولیشن میں رکھنے کی تجویز پر ان لوگوں کو ہنسی بھی آتی ہوگی جو ایک ایک کمرے میں جگیوں  میں دس دس لوگ اکھٹے کھاتے، بیٹھتے، کپڑے بدلتے اورسوتے ہیں۔

ماسک نامی شے اس ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے غریب ترین اور محنت کش آبادی کے لۓ ایک انوکھی اور عیاشی والی چیز ہے جو نہ اس آبادی کے لۓ دستیاب ہے اور نہ ہی ان کی استطاعت میں ہے کہ وہ منہ پر رکھنے والی ایک چیز پیسے دیکر خرید سکیں البتہ اپنا رومال جو ہفتہ یا مہنہ میں ایک دفعہ دھویا جاسکتا ہے اس کو اپنے منہ اور چہرے پر باندھنے کی تجویز قابل عمل ہوسکتی ہے مگر اس آبادی کا نصف حصہ رومال کی سہولت سے بھی محروم ہے جو اپنے بازو اور بوقت ضرورت اپنے پھٹے دامن سے پسینہ اور ناک صاف کرتے ہوۓ خوشی محسوس کرتا ہے ۔

سنیٹائزر کا نام سنتے ہی اس آبادی کے لوگوں کولگتا ہوگا کہ یہ تو ہے ہی امیروں کے لۓ کیونکہ غریب اور محنت کش اپنے ہاتھوں کی حفاظت پر جب عام حالات میں ہی کچھ خرچ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو کہاں وہ ان مشکل حالات میں ایسی کوئی چیز خرید سکیں گے جس کی ان کی زندگی میں کھبی عمل دخل نہیں رہا ہے۔

گھروں میں باہر سے لائی گئی چیزوں کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں رکھنے کے بعد استعمال کی تجویز تو ایسے لوگوں کے لۓ ہے جن کے گھروں میں اشیاۓخوردو نوش کا ڈھیر لگا ہو۔ بھوک سے نڈھال غریب کے اہل وعیال صبح و شام باہر سے کسی چیز کے آنے کے انتظار میں دروازہ تکتے رہتے ہیں ایسے میں کوٸی چیز باہر سے لاتے ہی اس کو حلق سے نیچے اتارے بغیر وہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ اس لٸے یہ تدبیر کچی آبادیوں کے مکینوں پر صادق نہیں آتی۔

راشن کی تقسیم کی خبرمعاشرے کی اس قابل ذکر آبادی کو ابھی تک ایسے بھی نہیں پہنچی ہوگی جو کہ لاک ڈائون کے اصل متاثرین ہیں۔ کیونکہ جہاں ٹی وی ، اخبار اور انٹر نیٹ ہی نہیں پہنچ پایا ہے وہاں یہ خبر ان تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟ فرض کریں اگر کسی مہربانی نے یہ خبر ان تک پہنچا بھی دی ہے تو اس راشن کے حصول کا طریقہ کار کا سن کر غریب سمجھ جاۓ گا کہ یہ کام تو سفارش کے بغیر ممکن ہی نہیں جیسے آج سے پہلے ایسےکاموں میں ہوتا رہا ہے۔ جب راشن تقسیم کرنے والے لوگ اپنا اور اپنے عزیزو اقارب کا حصہ اٹھاتے ہیں اور بہت تھوڑا حصہ تصویر کشی کے لۓ آس پاس کے کسی غریب کو تھام دیا جاتا ہے۔

رہی بات اس وباء سے بچنے کی تو غریب طبقہ ضرور اس سے بچنا چاہتاہو گا مگر ان کےمعاشی حالات اور رہن سہن کا طور طریقہ ان کو وبا ٕ سے بچائو کی احتیاتی تدابیر پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہے اس لۓ حالیہ دنوں صحت کے ماہرین ، میڈیا، حکومت اور دیگر افراد کی طرف سے بیان کی جانے والی تدابیر ان کے لیۓ ناقابل عمل ہیں کیونکہ یہ انتہاٸی غریب طبقہ ہے جو قدرتی آفات، وبائوں، بیماریوں، حادثوں، ذخموں، سیلابوں، بارشوں، ہوائوں ،طوفانوں اور ہنگاموں سے اتنا نہیں ڈرتا ہے جتنا بھوک، افلاس ، معاشی تنگ دستی اور بد حالی سے ڈرتا ہے جو ان کے بچوں کی آنکھوں سے چھلک کرکچی دیواروں کے گھرکے ماحول کو پژمردہ کرتی ہے۔ اس وقت یہی طبقہ حکمرانوں اور حکومت کی توجہ کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اس وقت ہر لاٸحہ عمل اسی انتہاٸی غریب طبقہ کو ذہن میں رکھ کر بنا لیں ورنہ لاک ڈائون ان غریبوں کو وبا ٕ سے تو بچاۓ گا مگر فاقوں سے مار دینے کا سبب بنے گا۔


اسرارالدین اسرار صحافی، انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے گلگت بلتستان میں انچارج ہیں. وہ حال ہی میں بام جہان کے کالم نگار کی حیثت سے وابستہ ہوئے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں