غیرت کے نام پر قتل: ’آواز اٹھائی تو مار دیے جاؤ گے‘

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پانچ لڑکیوں کے قتل کا مقدمہ دائر کروانے والے افضل کوہستانی کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر جمعرات کو مظاہرہ کیا گیا جس میں سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی رکن فرزانہ باری نے پولیس کی کاکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ افضل کوہستانی کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ اس قتل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں اب کوئی بھی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکے گا۔ ’یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جو بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا وہ جان سے جائے گا، ریاست، ریاستی ادارے اور سول سوسائٹی اسے تحفظ فراہم نہیں کر سکے گی۔‘
افضل کوہستانی خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے ویڈیو سکینڈل کے واحد مدعی اور مرکزی گواہ تھے۔ انھیں بدھ کی رات ایبٹ آباد کے بس اڈے کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ وہ طویل عرصے سے پولیس اورحکام کو آگاہ کرتے رہے کہ ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

انھوں نے چند روز قبل ایک ویڈیو پیغام میں پولیس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔
اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مطاہرے میں شریک ڈاکٹر فرزانہ باری نے کہا کہ افضل کوہستانی جانتے تھے کہ ایک دن انھیں بھی مار دیا جائے گا مگر وہ ہمیشہ پرعزم رہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والی خواتین کے قاتلوں کو سزا دلوائیں گے اور غیرت کے نام پر قتل کی فرسودہ اور غیر انسانی روایت کو ختم کریں گے۔‘

احتجاج میں شامل سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ نے کہا ’کوہستان جیسے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ تو اس ظلم و زیادتی کی محض ایک جھلک تھی جو سپریم کورٹ میں پہنچی۔ ہمیں ندامت ہے کہ ہم نام نہاد غیرت کے نام پر بے گناہ خواتین کے قتل کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک مرد کو نہیں بچا سکے۔‘

واضح رہے کہ افضل کوہستانی نے سنہ 2012 میں ویڈیو سکینڈل کی نشاندہی کی تھی جو کوہستان کے ایک گاؤں میں موبائل فون پر ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں چار خواتین شادی کی تقریب میں مقامی گیت گاتے ہوئے تالیاں بجا رہی تھیں جبکہ دو نوجوان مرد روایتی رقص کر رہے تھے۔

افضل کوہستانی نے کہا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی چاروں خواتین کو قبائلی جرگے کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا جبکہ سنہ 2013 میں کوہستان وڈیو سکینڈل منظر عام پر لانے کے بعد ان کے دو بھائیوں کو ان کے آبائی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

افضل کوہستانی کی کوششوں سے بالآخر اس واقعے کے سات سال بعد عدالت کے حکم پر پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر فوزیہ سعید نے کہا ’افضل کوہستانی کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کو انصاف دلانے نکلے تھے۔ انھیں کئی سالوں کی تگ و دو کے بعد یہ خوشخبری ملی کہ کوہستان کی تاریخ میں پہلی بار ان خواتین کے قتل کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔ مگر پھر انھیں ہی قتل کر دیا گیا۔‘

مظاہرے کے شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افضل کوہستانی کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے اور ان کے اہلخانہ کو تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں