فانوس گوجر کی یاد میں

تحریر: ڈاکٹر عاصم سجاد

میں یہ دعوی تو نہیں کر سکتا کہ فانوس گجر کے ساتھ بہت پرانا یا گہرا تعلق تھا مگر ان کی زندگی کے آخری سالوں میں ان کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملا۔ عوامی ورکرز پارٹی کے قیام سے تھوڑا عرصہ پہلے ان سے ملاقات ہوئی اور مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا کہ وہ حقیقی معنوں میں بائیں بازو کے سیاسی کارکن ہیں جو کہ صرف بند کمروں میں فلسفے نہیں بلکہ عملی جدو جہد پر یقین کرتے تھے۔ ہماری بائیں بازو کی تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ رہے ہیں مگر گزشتہ چند دہائیوں میں ہماری روایت کمزور پڑی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی سوشلسٹ تحریک کی شکست کے بعد بے شمار سیاسی کارکنان حتی کہ بڑے بڑے لیڈروں نے سیاسی جدو جہد سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ہاں عوامی ورکرز پارٹی سمیت دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ کئی سارے لوگ منسلک رہے لیکن ایک دوسرے سے الجھنا ہی بائیں بازو کے نظریات اور سیاست کو زندہ رکھنے کا نام دیتے رہے۔ فانوس گجر مختلف تھے۔ اول تو انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ ہمارے نظریات بے معنی ہیں اگر ہم ان کو عوام تک پہنچانے میں نا کام ہیں۔ وہ صحیح کہتے تھے کہ بائیں بازو کے اکثر ساتھی دانشوری زیادہ کرتے ہیں اور زمینی کام کم۔

انقلابیوں کا رستہ کٹھن ہوتا ہے، ان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں تو ہمیں شروع دن سے منفی پروپیگنڈہ سے نمٹنا پڑا، لیکن ایک وقت تک ہماری تحریک کی بہت گہری سماجی جڑیں تھیں۔ 1980 ء کی دہائی کے بعد بائیں بازو کی سیاست کی بنیادیں کمزور پڑتی گئیں لیکن فانوس جیسے ساتھیوں نے پھر بھی عوام کے اندر اپنی حیثیت برقرار رکھی۔ اور یہی ان کا کما ل تھا۔ وہ دیگر انقلابیوں کو چیلنج کرتے تھے کہ وہ بھی رستے تلاش کریں ، زبان وہ استعمال کریں جو کہ عوام سمجھ سکتے ہیں، کہ وہ ان حلقوں کے ساتھ بھی جڑنے کی کوشش کریں جو کہ ہمارے نظریات سے دور ہیں۔ ان کے جنازے میں ہزارون لوگوں کی شرکت اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عوام کے ساتھ جڑنے میں ہم سب سے زیادہ کامیاب تھے: ہزاروں عام محنت کشوں نے ان کو خراجِ عقیدت پیش کی اور وہ بھی بونیر کے ایک چھوٹے سے دیہات میں جہاں پر کم لوگ ہونگے جو کہ مارکسزم یا کسی اور جدید فلسفے سے واقف تھے۔

یاد رہے کہ فانوس گوجر ایک ایسی برادری سے تعلق رکھتے تھے جوکہ پختون علاقوں میں سب سے زیادہ استحصال زدہ اور سماجی طور پر سب سے نچلی سطح میں شمار ہوتی ہے۔ سوات، بونیر اور مالاکنڈ بحیثیت مجموعی میں گوجر اور کوہستانی قومیں سب سے زیاہ قدیم ہیں لیکن جدید دور میں ان کو اپنی ہی سر زمین پر سماجی جبر کا شکار بنایا گیا۔ 16ویں صدی میں مغرب سے یوسفزئی پختون اس خطہ میں آئے تو انہوں نے وادیوں کی زمینوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا اور وقت کے ساتھ ساتھ گوجروں کو (جو کہ تاریخی طور پر ایک جگہ پر مستقل بنیادوں پر آباد ہونے کے عادی نہیں تھے) زمینوں کو کاشت کرنے کے لیے مزارعین بنادیا۔ چنانچہ خطہ میں ایک نیا طبقاتی ڈھانچہ وجود میں آیا جو کہ آج دن تک قائم و دائم ہے۔ 1960اور1970ء کی دہائیو ں میں اگر چہ بے زمین کسانوں کی تحریکیں بہت چلیں تاہم مجموعی طور پر گوجر برادری معاشی اور ثقافتی لحاظ سے آج بھی پختونوں کے برابر نہیں ہے۔ فانوس گوجر نے 1980ء کی دہائی میں گوجر یوتھ فورم کے نام سے تنظیم اسی لیے بنائی کہ اپنی برادری کے حالات کو بہتر بنایا جاسکے اور اپنی ساری زندگی مختلف پارٹیوں اور تحریکیوں کے ذریعے گوجروں کے لیے جدو جہد کرتے رہے۔

لیکن وہ اپنے پس منظر کو فخر سے تسلیم کرتے ہوئے آگے بھی بڑھے۔ طویل عرصہ تک کراچی کی مزدور تحریک کے ساتھ منسلک رہے جہاں پر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی میں بھی رکنیت حاصل کی۔ ضیاء آمریت کے دوران انہوں نے بہت زیادہ تکالیف دیکھیں اور ڈھائی سال تک جیل میں بھی رہے۔ اس عرصے میں ٹارچر کی اذیت سے گزرنے کے باعث صحت بہت متاثر ہوئی جس کی وجہ سے 2015ء میں ان کو گردے کا ٹرانسپلانٹ بھی کرنا پڑا۔ مسلسل صحت کی خرابی کے باوجود وہ کل وقتی سیاست کرتے رہے۔ اور آخر کاریکم دسمبر 2017 کو ان پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ہم سے طبعی طور پر جدا ہو گئے۔

فانوس کی زندگی سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اور اگر ہم ان کی سیاسی جدو جہد کو سلام پیش کرنا اور اس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر صورت میں ان اسباق کو سامنے رکھنا ہوگا۔ بنیادی سبق تو یہ ہے کہ سیاست میں کوئی فارمولا نہیں ہوتا (جیسا کہ ہمارے کئی مارکسزم کے دعوے دار اکثر تاثر دیتے ہیں)۔ فانوس اس بات پر یقین ضرور رکھتے تھے کہ مارکسی فلسفہ سماجی تبدیلی کے بہت سے اصولوں کی وضاحت کرتا ہے مگر وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ فلسفہ کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دینا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی گوجر یوتھ فورم تو کبھی ایم آر ڈی تو کبھی عوامی ورکرز پارٹی بنانے اور چلانے کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے ہمیشہ عوام کے وسیع تر حلقوں کو جوڑنے کی کوشش کیں اور اس ضمن میں غلطیاں بھی کیں۔ مگر عوام کے ساتھ جڑنے میں غلطیاں ہوتی ہیں اور اگر ہم دعویٰ کریں کہ ہمارا نظریہ اتنا پکا اور سچا ہے کہ ہم غلط ہی نہیں ہو سکتے تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارا نظریہ صرف بند کمرے تک محدود ہے۔فانوس نے انتخابات میں حصہ لیا اور 14,000تک ووٹ بھی حاصل کئے۔ وہ قطعی طور پر کسی غلط فہمی کا شکار نہیں تھے کہ سرمایہ ادارنہ الیکشن لڑنے سے بنیادی تبدیلی آئے گی یا یہ کہ الیکشن کی سیاست میں استعمال ہونے والے حربے خود بائیں بازو کی سیاست کے لیے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ مگر ان کا بار بار الیکشن میں جانے کا فیصلہ اس لیے درست تھا کہ اس کے نتیجہ میں انہوں نے اپنے نظریات کو عام کیا۔ بے شک صرف الیکشن لڑنا درست نہیں ہے مگر اس سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنا، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جب بائیں بازو کے وجود کو ہی قائم رکھنا چیلنج ہے، یہ بھی مارکسزم کی دفاع کے مترادف نہیں۔

یاد رہے کہ فانوس نے گزشتہ کئی سالوں میں ایک ایسے خطہ میں کھل کر ترقی پسند سیاست کی جہاں پر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور طالبان دونو ں نے عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی تھیں۔ جنگ زدہ علاقے میں سیاسی کام کرنا ویسے ہی مشکل ہے اور پھر ایک ایسے ماحول میں جہاں پر عوام کو مارنے والوں کا نام لینا بھی خطر ناک ہے۔۔۔۔ ایسے میں فانوس نے سامراجی جنگ کے تناظر میں اپنے خطہ میں امن کا دیا جلائے رکھا جو کہ غیر معمولی بات تھی۔۔۔

گو کہ فانوس بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر وہ اس بات کو بہت سے زیادہ پڑھے لکھے مارکسسٹوں سے بہتر سمجھتے تھے کہ ایکیسویں صدی میں سیاست کرنے کے تقاضے ماضی کی نسبت بہت مختلف ہیں۔ ان کو نظر آرہا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کا سیاست پر اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کو یہ نظر آرہا تھا کہ سیاست کی جیوگرافائی بنیادیں تبدیل ہو رہی ہیں (یعنی کہ سیاست صرف اس جگہ تک محدود نہیں جہاں پر انسان physically موجود ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے زریعے اب آپ ساری دنیا تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں)۔ ان کو یہ نظر آرہا تھا کہ نوجوان نسل اب نئی چیزوں سے متاثر ہورہی ہے اور بائیں بازو کا وجود قائم رکھنے کے لیے ہمیں بہت سے نئے طور طریقے اپنانے پڑیں گے۔ ان کویہ بھی سمجھ آرہا تھا کہ صرف روایتی طبقاتی تنظیمیں بنانے سے کام نہیں بن سکتا۔ کہ اب عورتوں کا سوال، ماحولیات کا سوال اور دیگر بہت سے سوالات کو طبقاتی سوال کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ انہوں نے اس سمجھ کو عملی شکل دینے کے لیے بہت سے منجھے ہوئے مارکسسٹوں کو چیلنج کیا اور ان کو لعن طعن کا سامنا بھی ہوا۔ مگر یہ ہر دور میں ہوتا ہے کہ ماضی کے ساتھ چمٹے ہوئے لوگ اپنے آپ کو بڑے فلسفی کہتے ہیں اور تبدیل شدہ حالات کے ساتھ مطابقت بنانے کی کوشش کرنے والوں کو نظریہ سے باغی کہتے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ آنے والے سالوں میں دنیا اور سیاست کا میدان اتنی تیزی سے بدلے گا کہ فرسودہ خیالات اور تازہ سوچ کے درمیان لڑائی اور شدت اختیار کرے گی۔ کسی حد تک اس لڑائی کا نتیجہ تو پہلے سے بیان کیا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی کے نعرے لگانے والے آخر ختم ہو جاتے ہیں اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق چلنے والے بحر حال قائم رہتے ہیں (جب تک کہ وہ فرسودہ نہ ہو جائیں )۔ سوال تو یہ ہے کہ انسانیت کی بقاء کے لیے جدو جہد کی خوبصورت روایات کو نئے دور میں کیسے زندہ رکھا جائے۔ مقصد اصولوں کو زندہ رکھنے کا ہے، جبکہ طور طریقوں کو وقت اور حالات کے ساتھ ضرور تبدیل ہونا چاہیے۔

میں سمجھتا ہوں کہ فانوس کی وفات سے ہمیں بہت بڑا نقصان اسی لیے تو ہوا ہے کہ وہ بائیں بازو کی قیادت میں ان چند لوگوں میں سے تھے جو کہ نئی چیزوں سے ڈر تے نہیں تھے، جن کے لیے یہ اہم نہیں تھا کہ ان کی ذات کا وجود رہے بلکہ یہ کہ آزادی، برابری اور انسانیت کا پرچم بلند ہوتا رہے اور زیادہ سے زیادہ عام لوگ اس پرچم کے ساتھ اپنی جڑت بنائیں۔ آنے والے سالوں میں سیاست کی اشکال کیا ہونگی اور بنیادی سیاسی و معاشی آزادیوں کی جدو جہد کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا یہ فی الوقت طے کرنا مشکل ہے۔ ہاں یہ بات واضح ہے کہ بائیں بازو کے حلقے ابھی تک ایک دور رس حکمت عملی بنا نہیں پائے جو کہ سماج کے تمام تضادات (بمعہ ماحوالیاتی بحران) کو سامنے رکھتے ہوئے محنت کش اکثریت کو ٹھوس متبادل کی شکل میں پیش کر سکیں۔ فانوس نے اپنی جدو جہد میں وہ تمام اصول اپنائے جن کو ہمیں لیکر آگے چلنا ہوگا۔ سب سے اہم یہ کہ فکر و عمل کو جدا کیا جائے تو ہم بائیں بازو کی سیاست کے دعوے دار نہیں رہ سکتے۔ ٹیکنالوجی اور انسانی شعور جہاں تک پہنچ چکا ہے اس کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عملی جدو جہد کی نئی اشکال کو ترتیب دینا بھی ضروری ہے۔ وگرنہ رجعتی قوتیں اور بھی زیادہ عوام کے ذہنوں پراثر انداز ہونگے اور انسانیت اور دنیا کی بقاء کا وہ رستہ۔ سوشلزم۔ کے قیام کے لیے وقت ختم ہوتا جائے گا۔

  • ڈاکٹر عاصم سجاد اختر آکسفورڈ یونیورسٹی لندن میں فیلوشپ پروگرام کے تحت پڑھا رہے ہیں- وہ عوامی ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور پنجاب کے صوبائی صدر ہیں
  • اپنا تبصرہ بھیجیں