فرزندِ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ شیر ولی پونیالی

تحریر: شفقت انقلابی

جب ہم چھوٹے سے تھے اکثر گھر پر لگنے والی محفلوں میں اکثر ایک نام سنتے تھے اور وہ نام تھا شیرولی۔
یہ سال 84 – 1983کی بات ہے ابھی گلگت سکول میں داخل ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے ایک روز والد نے امی سے کہا بچوں کو تیار کرو شیر ولی چاچا کے گھر ہو آتے ہیں۔ اُس زمانے میں ہمارے پاس سبز رنگ کی ویلیز جیپ ہوا کرتی تھی۔ دماس گاوں والا نانیار المعروف پائلٹ ہمارا ڈرائیور ہوتا تھا۔ وہ کسی کام سے اپنے گاوں گیا تھا ان کی غیر موجودگی میں چھوٹے چاچا صحت ولی گاڈی چلاتے تھے۔ چاچا نے گاڈی سٹارٹ کی تو ہم لوگ شیرولی دادا سے ملنے نکلے۔ ہم لوگ تب گلگت شہر میں پونیال روڈ پررہتے تھے۔ گاڑی پُل روڈ سے نکل کے پرانے پل جو مہاراجہ جموں کشمیر کے زمانے میں 1905 کے آس پاس تعمیر کرایا گیا تھا سے گزر کے کونوداسکے میدان کراس کرکے چاچا نے گاڈی ایک مکان کے گیٹ پر روکی۔ لکڑی کا گیٹ کھول کے گھر میں داخل ہوئے تو چھوٹے سے مکان کے صحن میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ایک شخص کچھ لکھ رہا تھا۔ ابو نے جاکے سلام کرکے ملاقات کیا تو ہمیں بھی علم ہوا کی یہی شخص دادا شیر ولی ہو سکتے ہیں۔

ان دنوں دادا شیرولی اپنی زوجہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے ساتھ کو نوداس کےسرکاری کالونی کے ایک مکان میں قیام پذیر تھے۔ ان کی پہلی بیوی سرکاری سکول میں پڑھاتی تھی اور یہ مکان ان کو سرکار کی جانب سے ملا تھا۔ گھر میں چار ہی افراد تھے شیرولی دادا ، ان کی پہلی بیوی جن کا تعلق کراچی خوجہ کمیونٹی سے تھا۔ ان کے بیٹے کا نام فراست تھا اور فراست چاچا عمر میں مجھ سے ڈیڑھ سال بڑا تھا اور بیٹی فریحہ مجھ سے عمر میں سال دو سال چھوٹی تھی۔ یہ شیرولی دادا اور ان کے خاندان سے میری پہلی ملاقات تھی۔
ابو نے واپسی پر ہمیں صرف اتنا آگاہ کیا کی یہ میرا چاچا ہے اور آپ کے دادا کا پھوپھی زاد بھائی ہے ۔ نام شیر ولی پونیالی ہے ، پیشے کے لحاظ سے وکیل ہے۔ غذر کے پہلے لا گریجویٹ بنے جو اُس زمانےمیں بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہ بڑا لیڈر ہے اس نے راجگی نظام کا خاتمہ کے لئے بڑی جدوجہد کیا ہے۔
کچھ باتیں سمجھ آئی اور کچھ باتیں سر کے اوپر سے گزرگئی کیونکہ تب ہم نرسری میں پڑھتے تھے۔اس کے بعد میں اکثر فراست چاچا کے ساتھ شیرولی پونیالی کے گھر جانے لگا۔ شیرولی دادا بھی ہفتے میں ایک دو بار ہمارے گھر آجاتے تھے۔ پونیال کے لوگ بھی عدالتی کاموں سے گلگت ہی آتے تھے بوبر اور ہاتون سے مقدمات کی خاطر آنے والے اکثر عزیزوں کا پڑاو ہمارے گھر ہوتا تھا۔ کورٹ کچہری کے لئے آنے والے رشتہ داروں کو شیر ولی دادا کے گھر دیکھانے کی ذمہ داری بھی اکثر میری ہی لگتی تھی۔
کچھ عرصے بعد شیرولی دادا نے مجاہد کالونی میں اپنےذاتی گھر کی تعمیر شروع کرادی۔ میں اور فراست چاچا اکثر ان کی سائکل پر زیر تعمیر گھر کی طرف بھی جاتے رہتے تھے۔ گھر کے تعمیر کے ساتھ ہی ان کی زوجہ بیمار ہوگئے کافی عرصہ گلگت میں علاج کرانے کے بعد انہیں لے کے کراچی گئے۔ جہاں ان کا انتقال ہوا۔ 1990

میں ان کی دوسری شادی اسلام آباد سے کرانے کی سابق سیکرٹری عبداللہ دماس والے نے بھرپور کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ دوسری شادی پھر سے کراچی کی خوجہ کمیونٹی سے کی ۔ ان کے بطن سے ایک ہی بیٹا ہوا۔ پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے فراست چاچا گلگت کورٹ میں ملازم ہے جبکہ بیٹی فریحہ سندھ میں ڈاکٹر ہے۔
ہم جب بڑے ہوئے تو ان کے متعلق آگاہی ہوئی جو کچھ یوں تھی۔

شیرولی پونیالی بیسوی صدی کی تیسری دہائی یعنی 1933/34 کے آس پاس حیاقو کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق کشیرو کروک (کشمیری کروک) کی نسل کی شیرمت شاخ سے تھا۔ یہ خاندان صدیوں پہلے کشمیر سے بوبر آکے آباد ہوئے۔ بیسوی صدی میں ان کے والد بھی بوبر کے دیگر لوگوں کے ساتھ ہاتون منتقیل ہوئے تھے۔ ان کی والدہ بی بی ریحان میرے دادا ابو کی سگی پھوپھی تھی۔ شیر ولی پونیالی کے والد اپنے زمانے میں پونیال بھر میں خوشحال شخص تھے۔ گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ اس لئے اُس دور میں تعلیمی سہولیات کی ناپیدگی کے باوجود شیر ولی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے چھ بھائی تھے۔ ان کےبڑےبھائی نمبردار شکرت خان راجوں کے زمانے میں گاؤں کا با اثر نمبردارتھے۔ ان کے بڑے بھائی شاہ ولی جو میرے مرحوم چاچا عزیز احمد کے سُسر تھے ،بھی اپنے عہد کے قدآور شخصیت تھے۔ ان کے ایک بھائی نام پہلوان تھا ، ایک کا دوستان المعروف دوستی ماسٹر ) ، ایک بھائی کا نام چینو جبکہ ایک بھائی کا نام ہوالت خان جوگاوں کے نائب نمبردار رہے۔

سیاسی خدمات

وکالت کے بعد گلگت پہنچنے کے بعد اُس دور کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ مل کے قومی تنظیم گلگت بلتستان جمہوری محاز کی بنیاد ڈالی ۔ اُس زمانے میں گلگت میں جوہر علی صاحب کی تنظیم ملت اکلوتی قومی تنظیم تھی۔ شیرولی پونیالی کے اس وقت کے ساتھیوں میں فضل الرحمن عالمگیر مرحوم ، ایس ایس پی امیر حمزہ مرحوم ، جج مصطفی مرحوم ، آر ای محمد علی مرحوم ، جسٹس الطاف مرحوم ، ایڈوکیٹ شیرولی جگلوٹی مرحوم (والد موجودہ وزیر قانون اونگزیب ایڈوکیٹ) ، ہوم سیکرٹری سعید احمد خان مرحوم اور وکیل عسٰی وغیرہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ مرحوم جوہر علی خان ایڈوکیٹ اور جے کے ایل ایف کے سربراہ مرحوم امان اللہ خان وغیرہ سے خاصی قربت تھی۔۔
گلگت میں پولیس فائرنگ سے رجب علی نامی شخص کی موت کے بعد فسادات پھوٹ پڑے ۔ شیرولی پونیالی اور ان کے ساتھیوں سوائے امان اللہ خان کے اس تحریک میں پہلی بار ابھر کے سامنے آئے۔ سنئیر ہونے کی بنیاد پر جوہر علی خان اس کارواں کے لیڈر قرار پائے۔ شیرولی پونیالی بھی اس تحریک کے اہم رہنماوں میں شامل تھے۔ قومی قیادت نے گرلز ہائی سکول گلگت میں ہونے والے واقع کے ساتھ جمہوری حقوق اور ایف سی آر کے خاتمے پر بھی بات شروع کی۔ جوں ہی حالات بے قابو ہونے شروع ہوئے غیر مقامی پاکستانی پی اے کے حکم پر گرفتاریاں شروع ہوئی اور جوہر علی خان کے ہمراہ ساری قومی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔ انہیں مختلیف تھانوں میں رکھنے کے بعد بدنام زمانہ گوپس قلعہ منتقیل کیا گیا۔ وہاں کئی روز تک زمین دوز زندان میں انہیں رکھ کر ان کے ارادوں کو متزلزل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعدازاں انہیں گلگت جیل منتقیل کیا گیا۔ پاکستان میاس وقت یحیی خان کا مارشل لا نافظ تھا۔ سرکار نے دوران قید ان کو تکڑی آفرز بھی کی مگر وہ انکار ہوئے۔ ان کے کارکنوں کی احتجاج کی وجہ سے گلگت شہر کے لوگوں نے جیل پر حملہ کیا اور جیل توڈ کے تمام سیاسی قدیوں کو جیل سے نکال کے ریلی کی شکل میں بازار لے آئے۔ اے آر صدیقی نامی غیرمقامی بیروکریٹ کے حکم پر گولی چلی ۔ گلگت شہر سےتعلق رکھنے والے رجب علی شہید ہوئے۔
راویوں کے مطابق جیل میں حکومت نے جب قومی قیادت کو آفر کیا کہ اگر سیاسی قائدین معافی نامہ جمع کرادے تو ان کی سزائیں معاف کرکے رہا کیا جائے گا۔ تمام ساتھیوں کی رضامندی کے باوجود شیر ولی اور آر ای محمد علی استوری نے معافی مانگنے سے انکار کیا۔ کچھ عرصے بعد سب ہی غیر مشروط طور پر رہا ہوئے۔ رہائی کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے اصلاحات کا اعلان ہوا ۔
راجہ پونیال اور پی اے نے شیرولی ایڈووکیٹ کو جدوجہد سے دستبرداری کی صورت میں کئی بار پُرکشش پیش کشیں کی مگر ہر بار انہوں نے انکار کیا۔ ایک بار راجہ پونیال نے انہیں کہا شیرولی تم نے یہ کیا قوم قوم لگا رکھا ہے ہم اس قوم کو اچھی طرح جانتے ہیں یہ آپ سے کبھی وفا نہیں کرے گی۔ اس لئے میں آپ اور فضل الرحمن کی ریذڈنٹ صاحب سے سفارش کرتا ہوں اپنی پسند کی نوکریاں لو اور جہاں جتنی زمین چاہتے ہو لے لو بعد میں پچتاوگے۔ شیرولی نے ان کی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔
دو انتخابات کےبعد عوام کےوفا کے بارے میں پونیال کے راجہ کی بات سو فیصد سچی ثابت ہوگئی کیونکہ شیرولی جب پہلی بار گلگت سے الیکشن لڑا تو گلگت کے الیکشن میں حق پرستی کے مقابلے میں فرقہ پرستی جیت گئی۔ دوسری بار غذر آکے الیکشن لڑا تو وہاں حق پرستی کے مقابلے میں تعویز بنانے والا الیکشن جیت گیا ۔ جیل سے رہائی کے بعد بڑے بڑے قائدین پی پی پی اور تحریک استقلال کا حصہ بنے ۔ بہت سو ں نے تحصلیدار، تھانیدار اور جج کی نوکری کو ترجہی دی۔ پونیال کے دونوں بیٹے شیر ولی اور فضل الرحمن عالمگیر نے اس قسم کے مراعات کوٹھکرا دیا ۔ ۔ پہلے الیکشن میں گلگت سے وزیر غلام عباس (وزیر مظفر عباس چیف انجنئر و مالک نسا وومن مارکیٹ ) کا مقابلہ کیا۔ گلگت میں زمین نہ ہونے پر کاغذات پر اعتراض ہوا تو کشروٹ سے تعلق رکھنے والے ایک محب وطن شخص نے اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد شیر ولی کے نام کرکے ان کے الیکشن فارم کو مکمل کرایا۔
ایف سی آر کے خاتمے کے بعد انہوں نے دوسرا چیلنج پیری مریدی کو کیا۔ پونیال میں پیر کرم علی شاہ کی پوجا ہوتی تھی ۔ایسے معاشرے میں شیر ولی نے پیر کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ اُس دور میں ایسا کرنا عام اسماعلیوں کے حساب سے بدترین کفر تھا۔ لوگوں نے کہا کہ پیر کا مقابلہ کرنا گناہ ہے مگر شیر ولی نے جمود کو توڈا اور میدان میں اُترا۔ بوبر الیکشن مہم میں جب اُس دور کے ترقی پسند طالب علم رہنما عبدل خان (میجر ڈاکٹر عبدل گرونجر ) والے نے شیر ولی کے حق میں اور پیر کرم علی شاہ کے خلاف تقریر کیا تو لوگوں نے ان پر دوران تقریر حملہ کیا ۔ میرے والد اور ملک حیدر قصاب نے ان کی جان بچائی. ہمارے گاؤں میں ساری انتخابی مہم میرے والد اور مرحوم دادا ماسٹر سلطان اکبر نے کی ۔ پولنگ کے دن صرف 36 گھرانوں نے شیرولی کے حق میں ووٹ دیا۔ جس کے بعد گاؤں کے لوگوں نے دو سال تک پیر کے خلاف ووٹ دینے پر ہمارے 36 گھرانوں کے سماجی بائیکاٹ کیا۔ صرف شیر قلعہ سےواضع ووٹ ملے۔ ہاسیس گاوں میں لوگوں نے شیر ولی کے پولنگ ایجنٹ بننے سے روکا۔
ہاتون سے شیرولی کے بھانجے ولایت کو لاکے پولنگ ایجنٹ بیٹھایا گیا۔ پولنگ شروع ہوتے ہی شیرولی کے پولنگ ایحنٹ کو بھگایا گیا۔ اُس دور میں ہاسیس فمانی برگل کا ایک ہی پولنگ سٹیشن ہوتا تھا۔ جب اس واقع کا راجہ شاہ زمان مرحوم کو پتہ چلاتو وہ آکے شیرولی کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر سیٹ پر بیٹھے ۔ راجہ صاحب باآثر آدمی تھے اس لئے وہ ٹک گئے۔ راجہ شاہ زمان مرحوم راجہ شکیل ایڈوکیٹ سابق صوبائی ہائیکورٹ بار کے والد تھے۔
نتائج آنے کے بعد قوم کے لئے قربانیاں دینےوالا شیر ولی کے مقابلے میں پیر کرم علی شاہ پیری مریدی کے چکر میں واضع اکثریت سے الیکشن جیت گئے۔ شیرولی نے آخری کوشش ضلع کونسل میں کیا مگر پھر بھی قوم نے ساتھ نہیں دیا جس کے سبب وہ دلبرداشتہ ہوئے اور 1984 کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کش ہوئے مگر بار کی سیاست اور مذا حمتی سیاست جاری رکھی 1995کے بعدصحت کی ناسازی کے سبب جلد وکالت بھی چھوڈ دی۔
گلگت بلتستان کے پرانے سارے سیاسی رہنما روایتی قوم پرست تھے۔ شیرولی ترقی پسند خیالات کے مالک تھے ۔انیں بجا طور پر غذر اور گلگت بلتستان کا ا پہلا ترقی ۔آزاد جموں کشمیر لے اندر ان کا سردار قیوم کے ساتھ اچھا ذاتی تعلق رہا۔ جے کے پی این پی کا وفد بناکے جب بیرسٹر قربان ، شوکت علی کشمیری اور یونیس تریابی وغیرہ اسی کی دہائی میں گلگت کت دورے پر گئے وہاں جاکے کامریڈ کو ڈھونڈنے اور بات کرنے کی کوشش کی تو ان سے گفتگو کرنے اور اس ایشو کو سمجھنے والا بھی شیرولی پونیالی ہی ملا تھا۔
شیرولی پونیالی نڈر اور بے بیک رہنما رہے ہیں۔ اگر ان کی غلطیوں کی بات کی جائے تو سب سے بڑی غلطی دوسرے سماج سے شادی کرنا تھا کیونکہ اسطرح انسان اپنی سوسائٹی سے خاصہ کٹ جاتا ہے۔ دوسری اور آخری خامی یہ ہے کی دادا شیرولی پونیالی کنجوس کچھ زیادہ ہی ہے یہ بھی سیاست کے لئے خاصہ نقصاندہ بات ہے۔ اگر شیرولی پونیالی مایوس ہونے کے بجائے ایک دو بار پیر کرم علی شاہ کا اور مقابلہ کرتے تو پیر کو 2010 کے بجائے 1991 میں بھی شکست ہوسکتی تھی۔ شیرولی پونیالی ہی نے غزر میں فضل الرحمن عالمگیر کے ساتھ مل کے مزاہمتی سیاست کا آغا کیا تھا اور اسی سیاست کو ناجی کی شکل میں آخرکار پونیال اشکومن میں 2011 میں بڑی فتح ملی۔
مجھے اس بات پ پرفخر ہے کی گلگت بلتستان کی مزاحمتی سیاست کے آغاز میں میرے دادا کے فرسٹ کزن کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ شیرولی پونیالی نے جی بی کی سرزمین پر آخری تقریر 2008 میں جی بی ڈی اے کے پلٹ فارم پر گاہکوچ میں کی تھی۔ اور قابل فخر بات یہ تھی کی میں بھی ان ہی کے ساتھ سٹیج پر موجود تھا اور میں بھی مقریر تھا ۔ ایک ہی خاندان کی پہلی اور تیسری جنریشن کا ایک سٹیج سے بولنا بھی میرے لئے قابل فخر بات تھی۔
عرصہ دس سال سے شیرولی پونیالی کراچی میں مقیم ہے ، بہت بزرگ ہوچکے ہیں اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔ ان کی لمبی زندگی اور صحت کے لئے نیک خواہشات۔
زندگی میں کچھ ملے یا نہ ملے ایک بات تو طے ہے آنے والے دور میں آپ کے خاندان کے ساتھ پونیال اور غذر کی تاریخ بھی شیرولی پونیالی پر فخر کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں