فیاض چوہان صاحب، اثاثہ نہیں، بوجھ ہیں

مبشر اکرم


مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کی بہاریں ہیں، جو محترمی جنرل ضیا الحق مدظلہ علیہ کہ مہربانی سے وطن عزیز کے ذہین لوگوں پر پچھلے چالیس برس سے طاری ہیں۔ جیسے ہی مجھ جیسے گمراہ لوگ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کا نام لیتے ہیں تو میرے وطن کے محب الوطن اور پاکباز فورا سے بھی پہلے جذباتیت میں ردعمل دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان علامات پر بات کرنا ہی آپ کو کم محب الوطن اور اک کمزور مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

میں تعلیمی ماہر تو نہیں، مگر میرے خیال میں تو پرائمری جماعت کے بعد سے یہ دونوں مضامین بچوں پر بوجھ ہی ہیں۔ مجھ پر بھی تھے اور اب میری بیٹیوں پر بھی ہیں۔ اک گمراہ خیال ہے کہ ان مضامین کی مسلسل تکرار کی مطلب تو یہی ہے کہ ہمارے بچے سولہ سولہ برس کی تعلیم کے باوجود بھی اچھے پاکستانی اور پکے مسلمان نہیں بن پاتے۔ تو لہذا ان دونوں مضامین کی گُھٹیاں زبردستی دیتے چلے جانا بہت ضروری ہے۔

اک خال دماغی کا گھن چکر ہے، جو جاری ہے۔ نامعلوم کب تک جاری رہے گا۔

جبکہ ان دونوں مضامین کو اگر ریاست کے پچھلے چالیس برس سے جاری بیانیہ کے ساتھ مِکس کیا جائے تو جناب فیاض چوہان صاحب جیسے نمونے ہی پیدا ہو ہو کر معاشرے میں گویا پھینک دیے گئے۔ انہی مضامین کے مطابق ہی تو ہندو اک بزدل اور تنگ ذہن قوم ہے جن کے گھر بھی تنگ تنگ ہوتے تھے اور ان کے مقابل، مسلمان اک دلیر اور کھلے ذہن کی فراخ دل قوم ہے، جن کے گھر بھی بہت کھلے کھلے ہوتے تھے۔
بشکریہ ہم سب

یہی مضامین ہی تو ہیں جو سولہ برس، اور پھر میرے معاشرے میں جاری نیکی اور عبادات کے نہایت ہی کھوکھلے مظاہر اور مقابلے اک ایسی ذہنی کیفیت پیدا کیے ڈالتے ہیں کہ جس کے تحت، جناب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی تلوار جب چلتی تھی تو اس کی لمبائی چالیس فٹ ہو جاتی تھی اور اور ایک ہی وار میں چالیس ”بت پرستوں“ کے سر اتر جایا کرتے تھے۔

یہ بت پرستی کے وہی عام فہم اور معاشرتی حوالہ جات ہیں جو برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے جزیرہ نما عرب سے بلند ہونے والے اسلام کے اہم تاریخی، انسانی اور معاشرتی پیغام کی جُزئیات نہیں، بلکہ تاریخ کے عجب اور بیمار گھوٹالے کو لگاتار نگلتے ہوئے اسی خطے میں بسنے والے ہندؤں، جین اور بُدھ مذہب کے پیروکاروں سے منسوب کر ڈالے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی تخلیق کی عمل اور اس کے پیچھے کرم فرما جذبات اور سیاسی خیالات پر گفتگو ابھی تک جاری ہے۔ میرے نزدیک تو یہ ملک اسلام، بطور مذہب، کے لیے حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ میرے نزدیک تو پاکستان مسلمان، بطور اک سیاسی اقلیت، کی اور معاشرتی آزادی کے لیے حاصل کیا گیا تھا جو اس وقت کے زمان و مکاں کے دباؤ کے تحت بابا جناح اور تحریکِ پاکستان دیگر اکابرین کو اک بہت بڑی ہندو اکثریت کے ہاتھوں دباؤ میں رہنے کا اندیشہ تھا۔

اگر سمجھنا چاہیں، تو بات بہت سادہ سی ہے۔
جس دو قومی نظریہ کو بنیاد بنا کر، اور اسے اک آفاقی سچائی بنانے پر مصر، جناب فیاض چوہان صاحب جیسے گرم محب الوطن اور نیک پاک مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں بڑھکیں مارتے ہیں، وہی دو قومی نظریہ تو پھر پاکستان میں ہی بسنے والے غیر مسلم پاکستانیوں پر بھی تو لاگو ہوتا ہے۔ تو کیا پھر پاکستان میں بسنے والے ہندو، مسیحی ( ”عیسائی“ کہنا درست حوالہ نہیں ) ، سکھ، جین، بدھسٹ، پارسی، یہودی، بہائی اور آئینی طور پر غیرمسلم قرار دیے گئے، احمدی، اپنے لیے الگ ”اقلیستان“ کا مطالبہ کر ڈالیں؟

قومیں، مذہبی نہیں، سیاسی حقیقتیں ہوتی ہیں۔ اور ان کے مذہبی نہیں، جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی مفادات ہوتے ہیں جو انہیں اک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ اگر مذہب ہی قوم اور اقوام کو بنانے اور جوڑنے کا ”صمد بونڈ“ ہوتا، تو آج سارے کا سارا جزیرہ نما عرب، اک قوم ہوتا اور اس خطے میں بھی اک عظیم اسلامی حکومت کی مرغی پاکستان، افغانستان، ایران، ترکی اور بہت سارے وسطی ایشائی ممالک کے انڈوں پر بیٹھی کٗڑکڑا رہی ہوتی۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا۔ ایسا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا۔

مذہب کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا اور اپنے لاشعور میں موجود مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کے برچھے محفوظ رکھتے ہوئے، بالخصوص ہندو مذہب اور ہندؤں کی مسلسل دل آزاری کیے چلے جانا، بہت ہوا تو آپ کو جناب فیاض چوہان ہی بنائے گا، جو بہت ہی فیاض چوہان ہیں۔ ایسے حوالہ جات پاکستان کی عام معاشرت میں گُھس بیٹھا ہوئے ہیں اور یہ نہایت ہی قبیح، گھٹیا اور بدنما رویہ ہے جو میرے معاشرے میں موجود اک اقلیت مسلسل اپنائے ہوئے ہے۔ یہ اقلیت محض اپنی بلند، بھدی اور بے سری آواز کی وجہ سے اکثریت کا منظر پیش کرتی ہے۔

جناب فیاض چوہان صاحب بھی اسی اقلیت کے اصیل میں سے ہیں، اور میں بحثیت اک پاکستان، انہیں اپنا سیاسی اور معاشرتی نمائندہ ماننے سے صریحا انکاری ہوں۔ وہ بہت ہوا تو خود اپنی اور پاکستان میں موجود پرتشدد رویے رکھنے والی ایک فیصد سے بھی کم آبادی کے نمائندہ ہیں جس نے میرے وطن کو پچھلے بیس برس میں اک دہشتگرد اور پرتشدد ملک کے طور پر پیش کر رکھا ہے۔

جناب فیاض چوہان صاحب جیسے افراد اثاثے نہیں ہوتے۔ بوجھ ہوتے ہیں۔ ان جیسوں کو سیاسی جماعتوں اور معاشرے کو اپنے کندھوں سے اتار پھینکنا چاہیے۔ اس لیے بھی کہ پاکستان نے ان جیسے ہی پچھلے چالیس برس سے اپنے کندھوں پر سوار کر رکھے ہیں۔ نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں