فیسوں میں اضافے کے خلاف قراقرم یونیورسٹی کے طلباء کا احتجاج جاری

https://youtu.be/E3qO3xfTZZc

رپورٹ: علی احمد جان

گلگت: قراقرم یونیورسٹی کے طلباء کا فیسوں میں اضافہ کےخلاف احتجاج کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے مگر حکام بالا ابھی تک خاموش تماشایئ بنی ہے.
احتجاجی طلباء نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو منظورنہیں کیا گیا اور فیسوً میں اضافہ کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو وہ وزیراعلی اورگورنرہاوس کے سامنے دہرنا دیں گے.

Students of KIU stage a protest against 50% hike in fees.

یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں 50 فیصد اضافہ کیا ہے. یہ اس سال فیسوں میں دوسری مرتبہ اضافہ ہے.جس کے رد عمل میں طلباء سراپا احتجاج بنے ہوے ہیں. طلباء کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثریت کا تعلق نچلے متوسط خاندانوں سے ہے جواس ہوشرباء مہنگایی کے دورمیں اظافی بوجھ برداشت نہں کرسکتے.
یونیورسٹی کے طلباء نے فیسوں میں اضافے کے خلاف قراقرم یوتھ فورم کے نام سے ایک اتحاد قائیم کیا ہے جس میں علاقائی, سیاسی اور مذہبی طلباء تنظیمیں شامل ہیں.
طلباء کا کہنا ہے کہ سات دن گزرنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے.
یاد رہے موجودہ تبدیلی سرکار نے قومی بجٹ میں سماجی شعبے بشمول ہائرایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں 50 فی صدی کٹوتی کی ہے جس کے خلاف ملک بھرمیں احتجاج ہورہے ہیں.
طلباء کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں کی طرح تبدیلی سرکارنے بھی دربارِ واشنگٹن میں اپنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ کشکول کے توڑنے کے تمام تردعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور پورا ملک ہی گروی رکھ دیا گیاہے۔

طلباء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے مقامی حکمران طبقہ اسلام آباد کے اشرافیہ طبقہ کی صرف دلالی کرتے ہیں، ان کو عام لوگوں کے مسائیل سے کوئی دلچسپی نہٰن ورنہ ایک ہفتیے سے احجاج کرنے والے طلباء کے پاس آتے اوران کے شکایات کو سنتے۔
انھوں نے کہا کہ سرمایہ داروں اورمالداروں کی عیاشیوں کا تمام تربوجھ غریبوں پرلادا جا رہا ہے۔
تعلیم وعلاج سمیت ہربنیادیی حق عام انسان سے چھینی جا رہی ہے۔ طالبعلم تعلیم سے محروم ہیں، نوجوانوں کو بیروزگار کیے جا رہے ہیں، محنت کش فاقوں پر مجبور ہیں۔
ایچ ای سی کے بجٹ میں 50 سے60 فیصد کٹوتیوں کا مطلب فیسوں میں 100فیصد اضافہ، تمام ترسکالرشپس اورپسماندہ علاقہ جات کے طلبہ کے لئے مختص وزیرِاعظم کی خصوصی فنڈ کا خاتمہ اوردرجنوں ڈگریوں کا معطل ہونا ہے۔

KIU students hold protest demo against fee hike in Gilgit on Sept 3, 2019. Credit: Asif Naji

اس کے علاوہ مستحق طلبہ کے وظیفوں کا خاتمہ بھی کیا گیا ہے۔ متعدد اداروں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پروگرام ہی ختم کر دیے گئے ہیں۔
طلباء کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت نوجوانوں کی طاقت کی بنیاد پر اقتدارمیں آئی لیکن حکومت میں آتے ہی اپنے وعدوں سے پھر گیا اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی انسانی ضروریات کو آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اورسکالرشپ کے خاتمے جیسے فیصلوں کو کالعدم کرتے ہوئے جی ڈی پی کا 5 فیصد تعلیم کے لئے مختص کیا جائے۔
نوجوانوں کی ایک محدود تعداد کوہائیرایجوکیشن تک رسائی حاصل ہے اور ڈگری کے بعد بھی ان کا مستقبل محفوظ نہیں ہے۔ اورحکومتِ وقت آئی ایم ایف کے ایما پرتعلیمی بجٹ میں کٹوتیاں کرتے ہوئے تعلیم کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے.
ہم نے یونیورسٹی کے ترجمان سے رابطہ کی کوشیش کیں لیکن آن سے بات ہو نہں ہو پایئ

علی احمد جان بام دنیا کے ایڈیٹر ہیں اوراس وقت گلگت میں موجود ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں