فیس میلہ، غیرت بریگیڈ اور نمایاں شرح خواندگی کی روشن مثالیں!

تحریر. میمونہ عباس

عجیب بات ہے کہ ایک طرف جہاں بھر میں ہنزہ کا حسنِ بے مثال اور اہلِ ہنزہ کی نمایاں شرح خواندگی کے چرچے ہیں تو دوسری طرف یہی اہلِ علاقہ اپنے اعمال سے صدیوں پرانے پدرسری سماج کی فرسودہ رسومات کی ان دیکھی زنجیریں اپنی سوچ کو پہنا کر فرضی کالر چڑھا کر رعونت سے مرد راج کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بھلا پوچھیے تو سہی کہ عورت پر تفریح اور رنگ و ادب کے دروازے بند کرنے والے یہ جیالے کون ہیں تو جواب جان کر آپ کو مایوسی ہی ہوگی۔ کہ یہ سب نہ صرف ہنزہ کی شرح خواندگی کے اعدادو شمار پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ ان کا علم و ادب سے دور دور تک کوئی واسطہ بھی نہیں۔ زندگی برتنے کے لیے درکار سنجیدگی انہیں چھو کر نہیں گزری۔اور انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ کیا ہے اور کیوں ہے؟ اگر کچھ معلوم ہے تو بس اتنا کہ تقریبات ہوں اور ڈھیر ساری ہوں۔ میوزک میلہ ہو،کلچر ڈے ہو، بینڈ باجا ہو، اور انہیں مردانہ ثقافتی رقص کے جوہر دکھانے کا موقع ملے۔ مردوں کے لیے ہوں ۔ لیکن جو میلہ عام عوام کے لیے سجے،اور جس میں خواتین کی شرکت کا بھی خدشہ ہو تو ان کی غیرت کو یہ ہرگز گوارا نہیں۔ پھر چاہے وہ پھسو کا میلہ ہو یا کریم آباد کا۔ ان کی غیرت کے بودے ستون ان میلے ٹھیلوں سے لرزنے لگتے ہیں۔ یاد رہے یہ وہی غیرت ہے جو لڑکیوں کی ہر جنبش ابرو کے ساتھ ڈھے جاتی ہے۔فیس میلہ اگر صرف لڑکوں کے لیے سجتا تو یہ سب سے آگے ہوتے۔ لیکن افسوس! انتظامیہ نے ان کی قدر نہ کی اور اپنا میلہ مخلوط رکھا۔ ان کی منافقت کی انتہا دیکھیے کہ جو چند ویڈیوز اور تصاویر دوستوں کے ذریعے مجھے موصول ہوئیں ان میں یہی شاہین سپوت جھومتے گاتے نمایاں نظر آئے۔ سو ان تمام نوجوانوں سے کہنا تھا کہ عورتوں پر تسلط جمانے کا اتنا ہی شوق ہے تو ذرا دیجیے انہیں ان کے جائز حقوق۔چاہے وہ معاشرے میں برابری کا حق ہو، جائیداد میں حصے کا یا پھر اپنے لیے آپ اپنی راہیں متعین کرنے کا۔ کیونکہ صرف اسی صورت میں آپ کی قدر کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں