قراقرم یونیورسٹی کے اہلکار کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ثابت نہیں ہوسکا: رپورٹ

ہراسانی تحقیقاتی کمیٹی نے اسکالرشپ سیکشن کے آفیسر کو ان کے "سخت لہجہ اور نا مناسب رویہ "کی وجہ سے ذمہ داری سے ہٹا نے کی سفارش کی ہے۔

بام جہان رپورٹ

گلگت: قراقرم یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کمیٹی نے اسکالر شپ سیکشن کے آفیسر کے خلاف ایک طالبہ کی ہراسگی کی شکائیت کو رد کیا ہے ۔تاہم یونیورسٹی نے متعلقہ آفیسر جن کے خلاف ہراسانی کی شکائیت کی گئی تھی کو ان کے ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا ہے۔
قراقرم یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز ڈائریکٹر میرتعظیم اختر کے دفتر سے جاری اعلامیہ کے مطابق مذکورہ آفیسر کے خلاف ہراسگی کا الزام ثابت نہیں ہو سکا البتہ ان کو ان کے” نامناسب لہجہ اور سخت گیر رویہ” کی وجہ سے ان کو اسکالرشپ سیکشن سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کو تنبہہ کیا گیا ہے کہ وہ طلباء بالخصوص طالبات کے ساتھ اپنا رویہ درست کریں ورنہ ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہوگی۔
اعلامیہ کے مطابق قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے 17نومبر 2020کو یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی شکایت پرایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر منظورعلی کی سربراہی میں سینئر فیکلٹی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کردی تھی۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سرتاج علی، اسسٹنٹ پروفیسر شمیم آراء شمس اور اسسٹنٹ پروفیسر سعدیہ بیگ شامل تھے۔جنہوں نے روزانہ کی بنیادپر کیس کی سماعت کی اور اپنی سفارشات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ کو پیش کی ۔ انہوں نے 30دسمبر کو کمیٹی کی سفارشات سینڈیکیٹ کی میٹنگ میں پیش کی جس نےاس کی توثیق کی۔

کمیٹی کی سفارشات کے مطابق سکالرشپ سیکشن کے آفیسر کی جانب سے طالبہ کو ہراسانی کی شکایت ثابت نہ ہوسکی۔ البتہ مذکورہ آفیسر کے سخت رویہ اور لہجہ کی وجہ سے طالبات ذہنی طورپر متاثر ہوئیں۔ جس پر کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ مذکورہ آفیسر کو فوری طور پر سکالرشپ سیکشن سے ہٹانے اور آئندہ کسی بھی سٹوڈنٹس ڈیلنگ آفس میں نہ رکھا جائے اور اپنا لہجہ اور رویہ کو ٹھیک نہ رکھنے کی صورت میں سخت تادیبی کاروائی عمل میں لانے کی وارننگ جاری کردی جائے۔
کمیٹی رپورٹ کے مطابق "طالبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ 17نومبر کو جب وہ سکالرشپ فارم جمع کرنے مذکورہ آفیسر کے آفس گئی تو انہوں نے سکالرشپ فارم تاریخ ختم ہونے پر لینے سے انکار کیا اور 8سے 10طلباء کی موجودگی میں انہیں ہراساں کیا۔
” طالبہ کی شکایت کا ہر پہلو سے جائرہ لیا گیا لیکن کمیٹی کو ہراسانی کی کوئی ثبوت نہ مل سکی ، نہ طالبہ نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔لیکن سوشل میڈیا میں اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔”
خیال رہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر وائس چانسلر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے یونیورسٹی ملازمین کے ساتھ طلبا کے رابطے کو کم کرنے کے لیے ون ونڈو آپریشن سروس کو شروع کروایا ہے۔جہاں پر طلبا کےضرورت کا ہرکام ہوگا ۔ وائس چانسلر نے زیادہ سے زیادہ معاملات کو آن لائن چلانے پر زور دیاہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے طالبات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے طلباء معاملات کی دیکھ بھال کے دفاتر میں یونیورسٹی کی خواتین اہلکاروں کو بھی تعینات کیاہے۔

کمیٹی کے سفارشات پر وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں سی سی ٹی وی کیمرہ سروس کو مزید بہتربنانے کی ہدایت کی ہے اور تمام دفاتر اور پبلک مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نسب کرنے کی بھی تاکید کی ہے۔
انہوں نے ہدایت کیاہے کہ یونیورسٹی کے فیکلٹی،اسٹاف اور طلبا کے تمام ضروری بلوںکی ادائیگی بھی بنک اکاؤنٹ کے ذریعے کرنے اور چیک کے ذریعے ادائیگی نہ کرنے کی سختی سے احکامات جاری کئے ہیں۔
وائس چانسلر نے ڈائریکٹویٹ آف سٹوڈنٹس آفیئرز کو احکامات جاری کئے ہیں کہ وہ یونیورسٹی اسٹاف و طلبا کے لیے اینٹی ہراسمنٹ قوانین اور ایکٹ سے متعلق شعور وآگاہی فراہم کرنے کے لئے ورکشاپ اور سیمینار ز منعقد کریں ۔
اس کے ساتھ ہی وائس چانسلر نے فعال اینٹی ہراسمنٹ سیل بھی قائم کرنے کا اعلان کیاہے جو فعال انداز میں ایسے معاملات کو نمٹائے گا۔ اس سیل میں ہرکوئی بلا خوف اپنے شکایات درج کرسکے گا۔
وائس چانسلر اور یونیورسٹی کے منیجمنٹ فیکلٹی اراکین نے امید ظاہر کیاہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے نئے اقدامات سے مادرعلمی میں درس وتدریس کے حوالے سے سازگار ماحول پید اہوگا۔
خیال رہے کہ نومبر 17 کو ہراسانی کی خبر منطر عام پر انے کے بعد طلباء اور دیگر سماجی و سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں ایا ۔ طلباء نے گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں مظاہرے بھی کئے اور سوشل میڈیا میں تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں میں روز افزوں جنسی ہراسانی کے واقعات پر تشویش کا اظہا ر کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں احتجاج کرنے والے طلباء پر یونیورسٹی کے باہر سے آئے ہوئے ایک گروہ نے حملہ کرکے چند طلباء کو زخمی بھی کیا. لیکن حملہ آوروں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لایا گیا. بلکہ الٹا احتجاج کرنے والے دو طلبا، توقیر اور فیصل کو یونیورسٹی تھانہ کے ایس ایچ او نے گرفتار کیا.
اس پر بھی طلباء میں مزید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے وائس چانسلر کے خلاف سماجی رابطہ کے پلیٹ فارم پر مہم چلائی۔

قراقرم یونیورسٹی کے اہلکار کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام ثابت نہیں ہوسکا: رپورٹ” ایک تبصرہ

  1. کمیٹی کا فیصلہ مشکوک ہے اگر متعلقہ شخص اگر قصور وار تھا تو اسے سزا دینی چاہیے تھے اور اگر بے گناہ تھا تو اس عہدےے کیوں ہٹایا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں