‘لڑکیوں کیلئے تو کھیل کی خواہش کرنا بھی جرم ہے’

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کیلئے کھیلوں کی سرگرمیاں آٹے میں نمک کے برابرہیں۔ مواقع اور کھیلوں کے میدانوں کی عدم دستیابی وقت گزرنے کے ساتھ ان کی صلاحتیوں کو زنگ لگتا جا رہا ہےجبکہ خواتین کھلاڑیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

خواتین کھلاڑیوں کو اول تو، گھر سے اجازت ملنا مشکل ہے۔ اگر اجازت مل بھی جائے تو سکول کی سطح پر کھیلوں میں حصہ لینے کا تصور موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس پر مزید ظلم13 اضلاع میں سے کسی بھی ضلعے یا اس کی کسی تحصیل میں الگ سے کھیل کا ایک میدان بھی میسر نہیں۔ تربیت کیلئے کوالیفائیڈ کوچز بھی نہیں ہیں۔ جبکہ خواتین کوچز بھی موجود نہیں ہیں مرد کوچز تربیت دیتے ہیں۔

گرلز کھلاڑیوں کیلئے خاتون کوچز بھی ناگزیر ہیں۔ ۔کھیلوں کی بنیاد پر گرلز کھلاڑیوں کیلئے سپورٹس کوٹہ محدود ہے جس کی وجہ سے گرلز کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ آگے نہیں بڑھ پاتا ہے۔ مقامی یونیورسٹی ملتان کی طالبہ زنیرہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع راجن پور کی رہا ئشی ہیں تاہم زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کیلئے سکول کی عمر سے ہی ملتان کے مختلف ہوسٹلوں میں رہائش پذیر رہی ہیں۔

زنیرہ کےمطابق انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ کھیل سے بھی دلچسپی رہی ہے، بہت کم عمری میں وہ خواب بنتی تھیں کہ وہ فٹ بال کی اچھی کھلاڑی بن کر ملک کا نام روشن کریں گی۔ تاہم گھر میں انکی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جاتی رہی، اور تو اور انہیں اپنےشوق کو پروان چڑھانے کیلئے سکول اور راجن پور میں کہیں بھی پریکٹس کرنے کیلئے کوئی جگہ نہیں ملی۔ سکولوں میں سپورٹس گراؤنڈز کا تصور ہی موجود نہیں تھا جبکہ لڑکیوں کیلئے تو کھیل کی خواہش کرنا بھی جرم ہے وہ بھی ایسے میں جب وہ روزمرہ کے کھیل سے ہٹ کر فٹ بال کی طرف آنا چاہیں۔ وہ علاقے جہاں بنیادی حق تعلیم کا حصول گناہ ہے تو کھیل کیسے فروغ پاسکتے ہیں۔

زنیرہ کا کہنا ہے کہ وہ کالج اور سکول میں جب بھی سنتی تھیں کہ کہیں کھیل کے مقابلے ہو رہے ہیں تو اساتذہ سے درخواست کرتی تھیں کہ ان کا نام بھی لکھیں بیشک فٹ بال نہ ہو ٹیبل ٹینس میں ہی نام لکھ دیں۔ تاہم موقع نہیں ملتا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی جانب سے صرف اور صرف سپورٹس فنڈز کے اخراجات دکھانے کیلئے ڈرامے کیے جاتے تھے۔ گھر سے لے کر تعلیمی اداروں تک کبھی بھی پذیرائی نہیں ملتی اور نہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا تی ہے جس سے جنوبی پنجاب کی ہزاروں طالبات جو صلاحتیوں سے بھرپور ہیں وہ کھیلوں میں حصہ لینے سے محروم ہیں۔ ان کی آنکھوں کے خواب وقت گزرنے پر دم توڑ جاتے ہیں۔ہو سکتا ہے ان پر توجہ دی جاتی تو آج وہ فٹ بال کی بہت بڑی کھلاڑی کے طور پر پہچان بنا چکی ہوتیں۔

واضح رہے کہ جنوبی پنجاب کے گرلز سکولوں میں صرف2 فیصد میں سپورٹس کے گراونڈ ہیں اس کے علاوہ سکولوں میں سپورٹس گراونڈز کا تصور موجود نہیں تو 13 اضلاع میں سے کسی ایک ضلعے میں سرکاری سطح پر بھی بچیوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے لڑکیوں کے الگ سے کھیل کے میدان آج تک نہیں بنائے جا سکے۔

بدقسمتی سے لڑکیوں کیلئے کھیل کا قابل ذکر بجٹ تک مہیا نہیں کیا جاتا ہے۔ جب بھی حکومت پنجاب کی جانب سے سالانہ کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں تولڑکوں کیلئے جہاں پہلے سے منصوبہ بندی شروع کر دی جاتی ہے وہاں کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے ایک روز قبل بچیوں کے نام لکھ کر انہیں بھی کھیل کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے جبکہ عملی طور پر کھیل میں حصہ لینے والی طالبات انتہائی کم ہیں۔ ملتان شہر کی بچیوں کو تو کسی نہ کسی طرح کھیلوں کا موقع ملتا ہے دیہی علاقوں کی طالبات سرے سے محروم ہیں۔

اس سلسلہ میں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کی سپورٹس ڈائریکٹر عابدہ خان کہتی ہیں کہ یونیورسٹی سطح پر داخلہ لینے والی طالبات میں بہت کم بچیاں کھیل پر عبور رکھتی ہیں، کھیلوں کی سرگرمیوں کیلئے انہیں نئے سرے سے پہلے کھیل کا بتانا پڑتا ہے، پھر مہارت کیلئے عملی طور پر کھیل سکھانا پڑتا ہے جو ان کیلئے چیلنج ہوتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ بچیاں منفی سرگرمیوں سے دور رہ سکیں اور تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں نام روشن کریں۔ اب ہمیں کم ازکم ان کیلئے اس حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔

کوچ رانا حبیب نے بتایا کہ بچیوں کے کھیل میں رکاوٹ صرف فنڈزاور کھیلوں کے میدانوں کی عدم موجودگی ہی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی سوچ بھی حائل ہے۔ والدین کیلئے یہ بھی مسئلہ ہے کہ بچیاں مرد کوچز سے کیسے سکھیں گی۔ گھروں سے اجازت بھی نہیں ملتی ہے۔

سماجی کارکن سائرہ شوکت کے مطابق گرلز کھلاڑیوں کیلئے اس پدر شاہی نظام میں ہر سطح پر مشکلات موجود رہی ہیں۔ کھیل کے میدان نہیں ہیں، گھروں سے اجازت نہیں ملتی۔ خواتین کوچز بھی نہیں ہیں۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر جمیل کامران نے بتایا کہ بہتری کیلئے اقدامات شروع ہو گئے ہیں تاہم ابتدائی سطح سکول، گھر اور ہر ضلع میں اس مسئلہ کو سجنیدگی سے لیا جائے یہ بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے بھی ضروری ہے۔ فنڈز الگ سے تو مختص نہیں ہوتے تاہم اجتماعی بجٹ خرچ ہوتا ہے۔ کچھ سالوں سے تو جب بوائز کے مقابلے ہوتے ہیں تو گرلز کے بھی لازمی منعقد کرائے جاتے ہیں۔
بشکریہ: حسان عبداللہ، نیا دور میڈیا گروپ

اپنا تبصرہ بھیجیں