عوام کی حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران ایک بار پھر عوام کے حق ملکیت پر شب خون مارنے کی تیاری کر رہے ہیں. عوام کی حق ملکیت کو ختم کرنے کے لئے لینڈ ریفارم ایکٹ کے نام سے ایک بل اسمبلی میں لائی جا رہی ہے جس کے عوض موجودہ اسمبلی کی مدت میں توسیع کے اشارے بھی دیئے گئے ہیں. تاکہ کچھ عرصہ اور سرکاری نوکری چلتی رہے.

لینڈ ریفارمز ایکٹ کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں اور اس سے گلگت بلتستان کے عوام کو کیا نقصان ہوگا؟ ان باتوں کو مختصرا نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ اس ایکٹ کے مضمرات سے عوام کو آگاہی ہو۔

حال ہی میں حکومت پاکستان نے ایک بار پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ریاست کی قانون اس وقت تک نا فذاالعمل رہے گی جب تک اس خطے کی اپنی کوئی آئین نہیں بنتی یا کسی آئین میں شامل نہیں ہو جاتی۔ لہذا یہاں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز موجود ہے اور تنازعہ کشمیر کے حل تک رہے گی.اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام بنجر اراضی، جنگلات و معدنیات و چرا گاہیں عوام کی ملکیت ہیں جسے ریاست نے یہاں کے عوام کے درمیان حد بندی کر کے ان تمام زمینوں کی عوام کو مالکانہ حقوق دئیے گئے ہیں،گھاس چرائی کا معاوضہ بھی سابقہ ریاست نے ہر علاقے کے عوام سے مالیہ کی صورت میں وصول کر چکی ہے اور سرکاری کاغذات میں اندراج بھی ہوئی ہیں. اراضی کی درجہ بندی کر کے لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے اور ریکارڈ مال میں درج کیاگیا ہے۔ اس درجہ بندی میں سر فہرست عوام کے زیر قبضہ اراضی ہیں جو ان کی ملکیت ہے؛ دوسرا اندرونی اراضی(آباد یا غیر آباد) ہے جو کہ شاملات کہلاتے ہیں یہ اراضی ملکیتی زمین سے ملحقہ شخص کی ملکیت ہے؛ تیسرا بیرون لین شاملات (غیر آباد بنجر) ہیں جس پر گاؤں کے تمام لوگوں کا برابر کاحق ہے؛ چوتھی قسم جنگلات اور پہاڑ ہں جو کہ علاقے کے مواضعات میں منقسم ہیں اور حدود تعین کئے گئے ہیں۔

ریاست کی اس زمینی منصوبہ بندی کو "نظام بندوبست” کے نام سے منسوب کیا گیا ہے. اس نظام بندوبست کے متبادل موجودہ حکومت کی طرف سے لینڈ ریفامز ایکٹ لانے کی باتیں نظام بندوبست کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے. اگر نظام بندوبست کو چھیڑا گیا تو گلگت بلتستان میں زمینوں کی تقسیم کا نظام در ہم بر ہم ہوگا۔ ملکیتی شاملات، شاملات دیہہ اور چراگاہ سب سرکاری زمین کہلا ئے گی۔زمین پر تنازعہ گلی محلے سے شروع ہوگی۔ چراگا ہ اور پہاڑی علاقے معدنیات کی وجہ سے سرکار کی ملکیت قرار پائے گی، تمام بنجر میدان حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔ جن چراگاہوں اور جنگلات میں معدنیات پائے جاتے ہیں وہ علاقئہ غیر مقامی لوگوں کے نام لیزکرنے کا حکومت کوجواز مل جائے گا۔

اگر اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کو ختم کر کے نیا لینڈ ریفامز ایکٹ لایا گیا تو گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا. ریاستی باشندے ایک ایک انچ زمین کو ترسیں گے اور غیر ریاستی باشندے گلگت بلتستان کی زمینوں کے مالک بن جائیں گے۔ عوام کو اپنی زمینوں سے بے دخل کرنے کا فارمولا بھی انتہائی آسان بنایا جائے گا، عوامی ملکیتی اراضی سرکاری ادارے اور با اثر شخصیات کے نام انتقال ہوگا. با اثر لوگ انتقال کو لے کر زمین پر قابض ہونگے۔عدالتیں انتقال اور الاٹ منٹ کے مطابق فیصلے دیں گی۔

مجھے لینڈ ریفامز کمیٹی کے ممبران سے کوئی شناسائی نہیں کہ کمیٹی ممبران لینڈمنیجمنٹ کا کتنا تجربہ رکھتے ہیں۔تاہم لینڈ ریفامز کمیٹی کی تشکیل کے پیچھے سیاسی عزائم کا پوشیدہ ہونا خارج از امکان نہیں ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کے ہوتے ہوئے اس پر عملداری کو یقینی بنانے کے بجائے نیا لینڈ ریفامز کمیشن کی تشکیل اور لینڈ ایکٹ لانے کی باتیں سمجھ سے بالا تر ہے۔

اس لینڈز ریفامز ایکٹ کے خط و خال میری عقل و فہم اور تجزیے کے مطابق کچھ اس طرح کی ہی ہو سکتے ہیں۔

1۔اس ایکٹ کے تحت خالصہ سرکار کی اصطلاح کو ڈوگروں سے منسوب کر کے ختم کی جا سکتی ہے، اس کی جگہ گورنمنٹ لینڈز یا پاک سرکار کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو تاثر دی جا سکے کہ ہم نے ڈوگروں کی خالصہ سرکار کو ختم کیا ہے۔

2۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کے حامل بنجر زمینوں کو سرکاری ملکیت قرار دے کر سرکار کی تحویل میں لی جا سکتی ہے۔ تاکہ عسکری و انتظامی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

3۔معدنیات اور قیمتی پتھر والی جگہوں کو قانون کے مطابق مائننگ اور انڈسٹریل ڈپارٹمنٹ کی ملکیت قرار دی جا سکتی ہے، اور ان علاقوں کو لیز پر دے کر کان کنی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

4۔بے گھر لوگوں کے لئے منصوبہ کے نام پر بھی ہزاروں ایکڑز زمین مختص کی جائے گی ان زمینوں کا بھی مالک حکومت ہوگا۔

5۔گلگت بلتستان میں انڈسٹری لگانے کے لئے بھی عوامی ملکیت کی ہزراوں ایکڑ زمین کو حکومتی ملکیت میں منتقل کی جا سکتی ہے۔

6۔جن علاقوں میں لوگوں کا زمینوں پر اجتماعی تنازعہ چل رہا ہے ان کو بحق سرکار قرق کرنے کا شق بھی ایکٹ میں شامل ہوسکتاہے۔

7۔شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کی تمام شاہراہوں سے متصل بنجر زمینوں کو سرکاری اداروں اور کاروباری مقاصد کے لئے حکومتی تحویل میں لیا جا سکتا ہے جس سے لوگوں کی شاملات اور شاملات دیہہ اراضی بھی حکومت کی ہو جائے گی۔

8۔ہزاروں ایکڑ عوامی ملکیتی زمین ملٹی نیشنل کمپنیوں کو تجارتی و کاروباری مقاصد کے لئے دی جا سکتی ہے جیسے حال ہی میں کئی ایکڑز زمین این ایل سی کو چھلمس داس اور مناور میں الاٹ کئے گئے ہیں اور زمینی تنازعہ عدالت میں ہے۔

9َََّ۔گلگت بلتستان میں ڈیفنس ہاؤ سنگ سوسائیٹز، کارپوریٹ ہوٹلز، سیاحتی سینٹرز اور دیگر مقصد کے لئے بھی ہزاروں اراضی کی ضرورت ہے، ان ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے بھی لینڈ ریفامز کی آڑ میں عوامی ملکیتی اراضی کو ہتھیا لی جائے گی۔

گلگت بلتستان کی تعلیم یافتہ نسل،سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں اور نوجوانوں کو درجہ ذیل چارمطالبات کو ترتیب دینا ہوگا۔
پہلا مطالبہ "آئینی حقوق دو” کی بجائےگلگت بلتستان کو”آئین دو اور عوام کو حق حکمرانی دو”.

دوسرا مطالبہ "گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل ہونے تک "آزاد کشمیر طرز کی سیٹ اپ دو”؛

تیسرا مطالبہ جب تک متنازعہ ہے گلگت بلتستان کو” ٹیکس فری زون” قرار دو؛

چوتھا مطالبہ ،گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کا لینڈ ریفامز منظور نہیں بلکہ "سٹیٹ سبجیکٹ رولز” کی خلاف ورزی بند کرو اور زمینوں پر عوام کی حق ملکیت کو تسلیم کرو۔

اگر آپ کے مطالبات معروضی حالات اور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں ہونگے تو حکومت پاکستان کو بھی ان مطالبات کو تسلیم کرنے میں آسانی ہوگی اور دنیا بھی آپ کے جائز مطالبات کو سپورٹ کرے گی۔
جہاں تک لینڈ ریفارمز ایکٹ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے یہ ایکٹ کسی بھی صورت عوامی ملکیتی قانون اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ عوام کو آنے والی نسلوں کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لئے اس ایکٹ کو پوری عوامی طاقت سے روکنا ہوگا۔


انجینئر منظور پروانہ قوم پرست رہنماء اور لکھاری ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں