لینگ لینڈ سکول و کالج میں مالی وتعلیمی بدانتظامی، حقائق اور مفروضے

    بام دنیاء اسپیشل

رپورٹ: کریم اللہ

ان دنوں سوشل میڈیا پر چترال کے ایک مشہور کمونیٹی تعلیمی ادارہ لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی، انتظامی و تعلیمی بے ضابطگیوں اور مسائل کے حوالے سے بحث و مباحثوں کا سلسلہ جاری ہے اب تو یہ ایشو سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں پر آگیا ہے اور گزشتہ روز سکول کے اساتذہ اورطلباء نے چترال کے ڈپٹی کمیشنر کے آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا اور اسکول و کالج کے پرنسپل کیری شوفیلڈ کے خلاف نعرے بازی کی۔
احتجاج کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مس کیری کو فی الفور ان کے عہدے سے ہٹا کر کسی ماہر تعلیم کو ادارے کا پرنسپل لگا یا جائے؛ موجودہ بورڈ آف گورنر کو فی الفور برطرف کرکے اس کی جگہ اساتذہ اور والدین پر مشتمل کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے؛ اور صوبائی حکومت اس ادارے کا انتظام سنبھالے اور سرکاری قوانین کے مطابق ادارے کا نظم و نسق چلایا جائے ۔

Prime Minister Imran Khan with his teacher Geoffrey Langlands. (File photo

بام دنیا نے مختلف سماجی حلقوں، صحافیوں، ادارے کے ملازمین اور طلباء سے موجودہ بحرانی کیفیت کی وجوہات اور حقائق جاننے کی کوشیش کیں-

مالی بے ضابطگیاں

ادارے کےتدریسی و غیر تدریسی عملہ اور بعض سماجی حلقوں کا موقف ہے کہ جب سے مس کیری نے ادارے کا انتظام سنبھالا ہے ادارہ ترقی کے بجائے تنزلی کا شکار ہے- انھوں نے بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا بھی الزام لگایا، جس کے باعث ادارے کے آمدنی اور اخراجات میں لاکھوں روپے کا فرق ہے- سا تھ ہی کالج کا انڈومنٹ فنڈ بھی ختم ہوگیا ہے- .
احتشام الرحمن چترال سے تعلق رکھنے والا نوجوان لکھاری ہے جو گزشتہ دو تین سالوں سے اس سلسلے میں تحقیقات کررہے ہیں انہوں نے بتایا کہ "میں پچھلےکئی برسوں سے نشاندہی کرتا رہا ہوں اور اس خدشے کا اظہار کرتا رہا ہوں کہ مس کیری کی پالیسیوں کے باعث نہ صرف ادارہ میں مالی بحران پیدا ہونے کے امکانات ہیں بلکہ تعلیمی معیار کے گرنے کا بھی خدشہ ہے-”

احتشام کے بقول، فیسوں میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے اب غریب تو درکنار، متوسط طبقہ کے بچوں کے لیے تعلیم کو جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے- اب یہ محض اشرافیہ طبقہ کے ادارے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب حالت یہ ہے کہ کالج کے انڈومنٹ فنڈ بھی ختم ہوگئے ہیں- اس مد میںسابق صدر جنرل مشرف نے ادارے کو 4 کروڑ روپے، جبکہ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کی جانب سے تقریباّ 12 کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے- لیکن اتنی خطیر رقم کا کوئی حساب کتاب نہیں‌. یہ کہان خرچ ہوئے؟
علاوہ ازین کالج یونیفارم اور دوسرے اخراجات کی مد میں طلباء سے ہزاروں روپے وصول کیئے جا رہے ہیں جو یونیفارم بازار میں دو ہزار روپے میں ملتی ہے وہ کالج کے ذریعے 7 سے 12 ہزار روپے کے قریب فروخت ہو رہی ہے.

انھوں نے کہا کہ اب یہ تعلیمی ادارہ کی بجائے کاروباری ادارہ بن چکا ہے۔

ایک طالب نے کہا کہ چترال کے ایک بااثر شخص کے داماد کو سکول کی یونیفارم اور اسٹیشنری کی فراہمی کا ٹھیکہ دیا گیا ہے- "جو یونیفارم بازار میں چار ہزار روپے میں ملتا ہے جس میں پینٹ، شرٹ، کوٹ، بوٹ شامل ہیں وہ یونیفارم سکول میں ہمیں دس ہزار روپے کے عوض زبردستی فروخت کی جاتی ہے۔”
ایک اور طالب علم نے کہا کہ پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ چھٹیوں کے دوران طلباء سے فیس نہیں لی جائے گی مگر نہ صرف ہم سے چھٹیوں کے دوران فیس لیتے ہیں بلکہ فیس جمع نہ کرنے کی صورت میں جرمانہ بھی وصوک کیا جاتا ہے۔ اگر دو سگے بھائی ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں تو ایک کو رعایت دینے کی بجائیے دونوں سے پورا فیس لیا جاتا ہے۔
چند طلباء نے شکایت کی کہ ان کو زیادہ تر سکول کی بسیں سعید اللہ خان پراچہ نے مفت دئے ہیں مگر ہم سے بہت زیادہ ٹرانسپورٹ فیس لی جاتی ہے۔

اساتذہ نے کہا کہ لاکھوں روپے کی لاگت سے اسٹاف ہاؤس بنایا گیا تھا جو پرنسپل کے ایک منظور نظر شحص کے جائداد قبضے میں ہے مگر اساتذہ کو اس عمارت میں جانے کی اجازت نہیں ہے- اور پرنسپل صاحبہ اپنی ذاتی مہمانوں کو وہاں ٹھراتی ہے

انہوں نے کہا کہ سکول کی اراضی میں اس عمارت کیلئے جگہہ موجود تھی مگر میس کیری نے جان بوجھ کر اس عمارت کو ایک شہزادے کے جائداد میں بنائی اور کل اگر یہ چلی جاتی ہے تو یہ عمارت اس کی ملکیت ہوگی۔

شہزادہ گل نے کہا کہ Miss Carey Schofield کوئی ماہر تعلیم نہیں ہے وہ برطانیہ میں کسی چھوٹے اخبار کی رپورٹر تھی ان کے آنے سے ہمیں یہ امید پیدا ہو گیا تھا کہ وہ بچوں کو انگریزی پڑھائے گی مگر وہ سکول میں کوئی کلاس نہیں لیتی اور مفت میں دو لاکھ پچیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ لیتی ہے۔
اس سلسلے میں ادارے کے ایک سنئیر اسٹاف نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مس کیری کی عیاشیوں کا یہ عالم ہے کہ ماہانہ صرف ان کی ذاتی استعمال میں گاڑی کا کرایہ 55 سے ساٹھ ہزار روپے ایک با اثر شخص کو دئیے جاتے ہیں.

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارے کے اندر فنڈز اور مالی معاملات کے ذمہ دار لوگوں کے مطابق مس کیری کے باقی اخراجات کا تخمینہ لاکھوں میں ہے۔
دستاویزی ثبوت کے مطابق پرنسپل نے ایک ہی چیک کے ذریعے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے بنیک سے نکالے ہیں.
سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے ادارے میںایک ہال اور دور دراز کے طلباء کی رہائش کے لئے ہاسٹل تعمیر کرنے کے لئے کروڑوں روپے فراہم کئے تھے وہ بھی ختم ہوگئےہیں- جبکہ کاغذوں میں ملٹی پرپز ہال اور ہاسٹل کا نقشہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک بی ایس سی کوالیفائڈ شخص کو اعلیٰ عہدے پر فائز کرکے انہیں ایک لاکھ سے اوپر تنخواہ دے رہےہیں جبکہ ایم اے ایم فل اساتذہ 40 ہزار روپے میں بارہ گھنٹے کام کررہے ہیں-

اسکول کے عملہ کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے بات کرتے ہوے انھوں نے کہا کہ "اگر کسی اسٹاف ممبر کےگھر میں فوتگی بھی ہوجائے تو انھیں چھٹی کی اجازت نہیں- ایمرجنسی میں چھٹی کی صورت میں ان کا ماہانہ پانچ ہزار روپے کا بونس اور ساتھ ہی 1،000 روپے ہر دن کے حساب سے کٹوتی کی جاتی ہے”-
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مس کیری کے متعلق یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ ادارے کے لئے باہر سے عطیہ لاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک ایک روپے بھی باہر سے نہیں لائی، بلکہ کالج کے جمع شدہ فنڈ ز کو بھی اپنی عیاشیوں کے لئے استعمال کررہی ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کو ایک بڑے ہوٹل میں ٹہراتی ہے جس کا خرچہ لاکھوں میں آتا ہے-
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ادارہ مالی لحاظ سے دیوالیہ ہونے کے دھانے پر ہے جس کے باعث سنئیر سکشن کے 22 میں سے 19 اسٹاف نے ان کے خلاف احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
طلباء، اساتذہ اور والدین نے چیئرمین احتساب بیورو، وزیر اعلی چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ Miss Carey Schofield کے خلاف تحقیقات کریں۔ اور اس نے جتنے مالی بدعنوانی کی ہے ان کا اس سے حساب کی جائے نیز ایک غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعے سکول کا آڈٹ کی جائے۔ طلباء اور اساتذہ نے متنبہ کیا کہ اگر میس کیری کے خلاف تحقیقات کرکے اس کا احتساب نہیں کیا گیا تو وہ اس سے بھی زیادہ پر تشدد احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوں گی
جب مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے ادارے کے ڈائریکٹر اکیڈیمک اورمس کیری کے قریبی ساتھی شیر حیدر سے پوچھا تو انھوں نے ان الزامات کی تردید کیں اور کہا کہ اگر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہے تو ان کی تحقیقات کروائی جائے اور آڈٹ کروایا جائے۔
اساتذہ کی حالیہ احتجاجی تحریک کے بابت ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مس کیری کے آنے کے بعد اساتذہ کو اچھے خاصے پیکیچ مل رہے ہیں اور ساتھ ہی ان سے کام بھی لیا جارہا ہے جس کے باعث کالج کے اساتذہ ان سے نالاں ہیں، اور وہ اسٹوڈنٹس کو لے کرمس کیری کے خلاف احتجاج کررہےہیں- حیدر کا مزید کہنا تھا کہ "دراصل اسٹاف کام کئے بنا تنخواہ لینا چاہتے ہیں، جبکہ مس کیری
ایسا کرنے نہیں دیتے اس لئے ان کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔”

تعلیمی صورتحال

احتجاجی اساتذہ اور سماجی حلقوں کا موقف ہے کہ کیری نے ادارے میں تعلیمی بہتری کے بجائے سارا توجہ نظم و ضبط پر مرکوز کی جس کا طلباء کی تعلیمی کیرئیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور رواں سال کے سالانہ امتحانات میں 24 کے قریب طلباء میٹرک کے امتحان میں فیل جبکہ نویں کلاس کے بھی 22 سے 24 طلباء مختلف مضامین میں فیل ہوچکے ہیں۔

جب ہم نے اس صورتحال کے حوالے سے ڈائریکٹر حیدر سے پوچھا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان نتائج پر جب مس کیری نے متعلقہ اساتذہ سے جواب طلبی کی تو انھوں نے پرنسپل صاحبہ کے خلاف احتجاج شروع کیا۔
جب خود ان کی بی ایس سی کوالیفیکیشن کے بابت پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: "میں نے بی ایس سی کرنے کے بعد ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایم اے اردو، بی ایڈ اور ایم ایڈ کرچکا ہوں اس کے علاوہ گزشتہ اٹھارہ برسوں سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے علا وہ مختلف تعلیمی اداروں میں ایم ایڈ اور بی ایڈ کلاسز پڑھا نے کا تجربہ رکھتا ہوں۔”
جب اس سلسلے میں لکھاری اور سوشل ایکٹویسٹ جی کے سریر سے پوچھا تو ان کا موقف تھا کہ میجر لینگ لینڈ کے دور میں گروپنگ، سیاست بازی، نظم و ضبط سے لاپرواہی اور انتظامی امور میں اسٹاف کی مداخلت ہی وہ الزامات یا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے مس کیری نے بڑے پیمانے پر ردو بدل عمل میں لایا۔

انہون نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں سیاسی اور مختلف گروہوں کی جانب سے اثر انداز ہونے کی بار بار کوششیں ہوتی رہی ہیں جس کی وجہ سے سکول انتظامیہ/ پرنسپل اور ایسے عناصر کے درمیان چپقلش، تنازعہ اور خلفشار سامنے آتے رہے ہیں۔ اس بےجا مداخلت کی بنیاد میں کمیونٹی کی عدم دلچسپی شامل ہے اور یوں سکول انتظامیہ کو کسی نہ کسی مضبوط شخصیت یا سیاسی جماعت پر تکیہ کرنا پڑ رہا ہے.

بورڈ آف گورنرز

والدین اور سماجی حلقوں نے دعویٰ کیا کہ سکول کے بورڈ آف گورنرز میں زیادہ تر اراکین غیر مقامی ہے اور صرف ون میں شو ہے۔
احتشام الرحمن نے بتایا کہ موجودہ بورڈ آف گورنرز میں چترال کے وہی لوگ شامل ہیں جو مالی لحاظ سے اشرافیہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اوروہ اپنے مفادات کے لئے مس کیری کو سپورٹ کررہے ہیں- ان کا ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے یا غریب لوگوں کے بچوں کی تعلیم سے کوئی دلچسپی یا غرض نہں-
"ہم نے کئی مرتبہ اس کے خلاف لکھا جس کے جواب میں کیری کے قریبی ساتھیوں نے میرے خلاف باقاعدہ اخباری بیان دیا ، اور وہی اشرافیہ طبقہ اب ادارے کو پرائیویٹائز کرکے خود خریدنے کے خواہاں تھے. تاہم ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی اور ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کی بھر پور کوشیشوں سے ادارے کی نجکاری وقتی طورپر ٹل گئی ہے ۔
جبکہ سریر نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ بورڈ آف گورنر کو تحلیل کرکے اس میں نیے سرے سے والدین اور سارے اسٹیک ہولڈر کو شامل کرنا چاہئے ۔
جب اس سلسلے میں ایم این اے عبدالاکبر چترالی کا موقف جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا کہ "مس کیری ایک مقامی بزنس مین کے ساتھ مل کر اس سکول کی نجکاری کرنے والے تھے مگر ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اس عمل کو روکا”۔
انہوں نے بتایا کہ سکول میں مخلوط ڈانس ہوتی ہے جو اسلامی اور چترالی اقدار کے سراسر منافی ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی-
انھوں نے کہا کہ سکول چترالیوں کی ملکیت ہے-
"ہم ایک برطانوی خاتون کو وائسرائے بننے نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کالج کے اکاؤنٹ سے بہ یک جنبش قلم لاکھوں روپے نکالے گئے ہیں جو کہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے.
ہم نے ڈپٹی کمیشنر کو ساری صورتحال سے آگاہ کرکے چترال روانہ کیا ہے ۔
اس سلسلے میں ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش نے مالی بے ضابطگیوں سے لاعلمی ظاہر کی اور کہا "کہ ابھی تک سکول کے اساتذہ نے یہ بات میری علم میں نہیں لائی ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے. ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنےکے بجائے یہ سارے مسائل عوامی منتخب نمائندوں کے علم میں لینا چاہئے تھا-
"اسٹوڈنٹس کو لے کر احتجاج کرنا غیر مہذب حرکت ہے اگر کہیں کرپشن یا کچھ اور ہوا ہے تو اس کی تفصیلات سے ہمیں آگاہ کردیا جائے تاکہ ہم صوبائی اسمبلی میں قرار داد لا کر اس عمل کی شفاف تحقیقات کروائیں گے ۔

لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کا پس منظر

برطانوی شہری اور ریٹارڈ میجر لینگ لینڈز نے چترال کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئےجنورئ 88ء میں یہاں ایک معیاری تعلیمی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس ادارے کا نام ‘سایورج پبلک سکول رکھا ۔ جسے بعد میں تبدئل کرکے ان کے اپنے نام پر’ لینگ لینڈ کمونیٹی سکول اینڈ کالج’ کر دیا گیا ۔لینگ لینڈ نے 30 سال خدمات انجام دینے کے بعد 2012 میں اپنے ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے ان کا6 جنوری 2019 میں 101 سال کی عمر میں انتقال ہوا اور انہیں لاہور میں دفنایا گیا.
میجر لینگ لینڈ برطانوی فوج سے ریٹایئر مینٹ کے بعد برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیااور مختلف تعلیمی اداروں میں بطور استاد اور پرنسپل خدمات سرا نجام دیتے رہے. ان میں ایچسن کالج لاہور اور رزمک کیڈٹ کالج شمالی وزیرستان وغیرہ شامل ہیں۔ ایچیسن کالج کے فارغ التحصیل طلباء میں اکثر سیاست دان اور فوجی افسر ان کے شاگرد رہے ہیں جن میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان، پرویز خٹک اور چوہدری نثار علی خان قابل ذکر یں۔
سایورج پبلک سکول آج بھی علاقے میں معیاری تعلیم کی علامت سمجھی جاتی ہے تاہم کچھ عرصے سے لینگ لینڈ کے رخصت ہونے کے بعد اس ادارے کا معیار گرنا شروع ہوا. ان دنوں میڈیا اور سماجی حلقوں میں اس ادارے کی خراب مالی اور تعلیمی صورتحال موضوع بحث ہے ۔

اضافی رپورٹنگ گل حماد فاروقی

اپنا تبصرہ بھیجیں