مت جھنجھوڑو ..!!

مت جھنجھوڑو !!

دیکھو ! ہم کو مت جھنجھوڑو ..!

ہم مردہ ہیں ..!

ہم لاشیں ہیں ..!

اپنے اندر دبی ہوئی سہمی سی لاشیں ..!

مت جھنجھوڑو ..!

جب تم کھل کر ہنستے ہو تو خوف آتا ہے ..!

تم جب کچھ بھی کہتے ہو تو ڈر لگتا ہے ..!

ہم مردوں میں ہنسنے بولنے دیکھنے کی کوئی ریت نہیں ہے ..!

قبرستان ہے !

قبرستان میں جینے کی کوئی پریت نہیں ہے ..!!

ہم اپنی قبروں میں خوش ہیں ..!

سینوں کی ان قبروں میں اک ٹھنڈک ہے ..!

جو مری ہوئی ہے ..!

مری ہوئی ٹھنڈک میں اپنے شبد نہ پھینکو ..!

ان شبدوں میں آگ چھپی ہے ..!

زندہ کرنے والی آگ ..!

قبرستان میں جینے کا سنگیت کہاں تک گاؤ گے ؟؟

تھک جاؤ گے ..!

ہم وہ مردے نہیں جو زندہ ہو سکتے ہوں ..!!

ہم اندر سے مرے ہوئے ہیں ..

ہم سچ مچ کے مردے ہیں ..!

تم سے پہلے بھی تم جیسے لوگ یہاں پر آئے تھے ..!

لمبے بالوں ،گہری آنکھوں اور دہکتے شبدوں والے ..!

ہم میں سے کچھ پاگل مردے ،

جن کے اندر جینے کی چنگاری شاید مری نہیں تھی ..

ان کے شبدوں کی گرمی سے جی اٹھے تھے ..!

ہم اندر سے مرے ہوؤں کی موت کی یہ زنجیر نہ توڑو…!!

مت جھنجھوڑو ..!!
مت جھنجھوڑو ..!!
ہم مردہ ہیں ..!!

علی زریون

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں