مشال خان کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم

مشال خان کی دوسری برسی پر جڑواں شہروں کے طلباء نے اسلام آباد پریس کلب سے سپر مارکیٹ تک ریلی نکالی


اسلام آباد

مشال خان کی دوسری برسی کے موقع پر بایاں بازو کے سیاسی کارکنوں، طلباء، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نےپاکستان کے مختلیف شہروں میں جلسے، اور مشعل بردار جلوس نکالے.
آسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے سے ریلی نکالی گٰٰی جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک میں پھیلی انتہاپسندی کو ختم کرنے کا واحد راستہ نظام تعلیم کو اہم تبدیلیاں لگانی پڑیں گی، یکساں، جدید سائنسی تحقیق پر مبنی مفت اور لازم تعلیم ہی معاشرے سے انتہاپسندی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

اسلام آباداور راولپنڈی کے سینکڑوں طلباء نے پروگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن (پی آر ایس ایف) کے جھنڈے تلے مشال خان شہید کی یاد میں ہفتے کے دن نیشنل پریس کلب اسلام آباد سے ریلی نکالی۔

ریلی کے شرکاء نے تعلیمی اداروں میں طلباء یونینوں پر لگی پابندی کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ کیمپس پر طلباء کے لئے بہتر سہولیات اور فیصلہ سازی میں طلباء کی شراکت داری کا بھی مطالبہ کیا۔

شرکاء نے یاد کرایا کہ کیسے عبدلولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنے کالے کرتوت چھپانے کے لئے مذہب کا استعمال کرکے مشال خان کو اپنے ہی ساتھی طلبہ کے ہاتھوں بیہمانہ طریقے سے قتل کروا دیا۔

شرکاء نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کی کیسے ریاست کی طرف سے ترتیب دیا گیا نصاب طالب علموں سے تنقیدی سوچ نکال کر غیر سیاسی اور جی حضوری کرنا سیکھتا ہے تاکہ حکمران سکون سے عوام پر راج کر سکیں۔

ریلی کے شرکاء نے جمعے کے دن کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر کئے گئے بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سیکولر تعلیمی نصاب نہیں لایا جاتا اور طلباء یونین بحال نہیں کی جاتیں ملک کے بیگناہوں شہری ایسے ہی انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید ہوتے رہیں گے۔

پی آر ایس ایف کے عون المنتظر نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کے ووٹ لیکر حکومت بنانے کی دعویدار تحریک انصاف نے طلباء کے مسائل یکسر نظرانداز کیا ہے۔

عون نے بتایا کہ پچھلے دن کے اخبارات میں خبر چھپی ہے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے طلب کردہ 109 عرب روپے بجٹ کے لئے صرف 59 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، یہ عمل ملک کی 117 عوامی یونیورسٹیوں میں سہولیات کی فراہمی کو مذید خراب کر دیگا۔ انہوں نے مذید کہا کہ حکومت دفاعی بجٹ تو مانگ کے مطابق بڑھا دیتی ہے لیکن باقی اداروں کی ضروریات کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کی عالیہ امیر علی نے کہا کہ کیمپس پر طلباء یونینوں پر فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں لگی پابندی جب تک قائم ہے نوجوانوں کی سیاسی تربیت نہیں ہو سکے گی نتیجتا ملک کو مایوس کن سیاسی راہنما ملیں گے۔ عالیہ صاحبہ نے مذید کہا کہ طلباء یونینوں پر لگی پابندی بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں مختصر عرصے کے لئے ختم کی گئی، پھر سپریم کورٹ کے ایک حکم کے ذریعے دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔ اس حکم نامے پر نظرثانی بہت ضروری ہے کیونکہ یہ آئیں کے آرٹیکل 17 سے متصادم ہے۔

عالیہ نے لڑکیوں کے یونیورسٹی ہاسٹلوں میں طالبات کے ساتھ روا رکھے گئے متعصبانہ برتاو کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح ہاسٹل سے آنے جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں طالبات کے کپڑوں پر لگائی گئی اور دیگر پابندیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ طالبات مخصوص قوانین ان کی آزادیاں صلب کرنے کا بہانہ ہیں

عوامی ورکرز پارٹی کے عمار رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی نفرت اور جنونیت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ ہمیں کوئٹہ ہزارگنج جیسے سانحوں میں واضح نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوجی اور سول حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر تعلیمی نساب کو تعصب سے بھر دیا، اور طلبہ اور مزدوروں کو تنظیم سازی اور سیاست سے الگ کردیا جس کی وجہ سے آج پاکستان میں عوامی اور ہنر مند قیادت کا شدید بحران بھی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقی امن اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نظام کوجڑوں سے تبدیل کیا جائے اور طلبہ اور نوجوانوں کو سوال ، تنقید اور تنظیم سازی کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اپنے معاشی اور سماجی مسائل کا کوئی حل دریافت کر سکیں۔

مشال شہید کی دوسری برسی پر نکالی گئی ریلی میں پی آر ایس ایف کی ساتھی تنظیم عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنان اور منتظمین نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ، سندھ پروگریسیو سنگت اور مختلف یونیورسٹیوں کی طلبا کونسلوں کے راہنماؤں نے بی ریلی سے خطاب کیا۔

لاہور اور کراچی میں بھی جلوس اور جلسے منعقد کیے گیے اور مشال خان کو خراج تحسین پیش کیے گئے.

اپنا تبصرہ بھیجیں