مشرف کی آئین توڑنے کی سزا غیر قانونی اور باباجان و دیگر سیاسی کارکنوں کی سزائیں قانونی کیوں اور کیسے؟

تحریر: احسان علی ایڈوکیٹ

لاہور ہائی کورٹ کے ایک فل بنچ نے ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو آئین شکنی جیسے سنگین جرم پہ دی گئی سزا کو محض اس بنیاد کالعدم قرار دیا ھے کہ جس خصوصی عدالت نے جنرل مشرف کو سزا دی ھے اسے قانون کے تحت وفاقی کابینہ کی منظوری کے ذریعے قائم نہیں کیا گیا تھا اور جو عدالت آئین و قانون کے تحت قائم نہ ھو ایسی عدالتوں کی طرف سے دی گئی تمام سزائیں قانون کی نظر میں ازخود کالعدم ہیں۔

جنرل مشرف کی آئین شکنی کیس کو سننے والی عدالت قانون کے تحت قائم ھوئی تھی یا نہیں یہ ایک بحث طلب قانونی مسئلہ ھے اور اس کا جائزہ ابھی سپریم کورٹ نے لینا ھے البتہ جس خصوصی عدالت نے باباجان،افتخار کربلائی اور دیگر سیاسی کارکنوں کو 70 سے 90 سال کی طویل ظالمانہ سزائیں دی ہیں اس خصوصی عدالت اور ایک انتظامی حکم کے تحت ٹھیکہ پہ قائم گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدالت کی آئینی و قانونی حیثیت پہ بڑے سوالیہ نشانات ہیں.

سب سے پہلے جس انسداد دھشت گردی ایکٹ کے تحت ایک خصوصی عدالت گلگت بلتستان میں قائم کی گئی ھے وہ سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی طور پہ جنرل مشرف کی حکومت نے سال 2002ء میں ڈنڈے کے زور پہ گلگت بلتستان جیسے متنازعہ خطے کے محکوم عوام پہ مسلط کیا تھا.

پاکستان کی کسی حکومت کو آئینی طور پہ یہ اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر میں اپنی من مرضی سے کوئی بھی قانون مسلط کر دے جس قانون کو نافذ کرنے میں یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے سے قائم ایک بااختیار آئین ساز اسمبلی اورجمہوری حکومت اس کی توثیق نہ کرے وہ عدالت سراسر غیر آئینی غیر قانونی ھونے کی وجہ سے اس کی تمام سزائیں از خود کالعدم ہیں-

اس لحاظ سے گلگت بلتستان میں آئین ساز اسمبلی تو کجا یہاں پہ ایک انتظامی حکم نامے کے تحت قائم بے اختیار اسمبلی سے بھی اس قانون کو پاس نہیں کرایا گیا ھے – اس لئے اقوام متحدہ کی چارٹر ، تنازعہ کشمیر سے متعلق قراردادوں اور خود آئین پاکستان کے تحت اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق گلگت بلتستان میں قائم اس خصوصی عدالت کے سابق جج کی طرف سے باباجان و افتخار حسین کو دی گئی سزاسمیت تمام سزائیں از خود کالعدم اور قابل منسوخی ہیں۔

گلگت بلتستان میں قائم اس خصوصی عدالت کے سابق جج کے فیصلوں کے حوالے سے ایک اور انتہائی اہم قانونی سقم یہ بھی ھے کہ اس خصوصی عدالت میں مسلسل پانچ مرتبہ غیر قانونی توسیع لینے والے جج صاحب بطور جج تعینات ھونے کی بنیادی اہلیت ہی نہیں رکھتا تھا- انسداد دھشت گردی ایکٹ کے تحت جج بننے کیلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یا سینئر جوڈیشیل مجسٹریٹ یا کسی ہائی کورٹ کا وکیل ھونا اولین شرط ھے –

اسکے علاؤہ کوئی شخص اس خصوصی عدالت کا جج نہیں بن سکتا اور گلگت میں تعینات سابق جج شہباز خان ان میں سے کسی بھی بنیادی اہلیت کے شرط پر نہیںاترتا تھا وہ محض ماتحت عدالتوں میں کام کرنے والا ایک سرکاری وکیل تھا-

نیز انسداد دھشت گردی ایکٹ کے تحت ایک جج کی مدت ملازمت میں صرف ڈھائی سال کیلئے ایک مرتبہ توسیع دی جاسکتی ھے مگر قانون کی یکسر خلاف ورزی کرتے ھوئے جج موصوف کی مدت ملازمت میں مسلسل پانچ مرتبہ غیر قانونی طور پہ توسیع دی گئی اس لحاظ سے بھی سابقہ جج موصوف کی طرف سے دیئےگئے سارے فیصلے آئین و قانون کی نظر میں بلا اختیار اور corum non judice ھونے کی وجہ سے بھی از خود کالعدم اور قابل منسوخی ہیں۔

باباجان اور افتخار کے وکیل صفائی کی حیثیت سے راقم نے جج موصوف کی عدالت میں بحث کے دوران یہ قانونی اعتراض واضع طور پہ اٹھایا تھا نیز اس خصوصی عدالت کی سزا کے فیصلے کے خلاف گلگت بلتستان چیف کورٹ میں دائر اپیل میں بھی یہی بنیادی قانونی نکتہ اٹھایا گیا تھا – اور عدالت عالیہ نے اسی قانونی نکتے کو پیش نظر رکھتے ھوئے باباجان،افتخار سمیت ہنزہ سانحہ میں سزایافتہ تمام افراد کی سزاؤں کو غیر قانونی قرار دیکر باعزت بری کر دیا تھا – مگر بعد ازاں ٹھیکہ داری نظام پہ قائم گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدالت کے سابق متنازعہ چیف جج جستس رانآ شمیم نے اپنے ملازمت میں مزید توسیع کی لالچ میں وکلاء صفائی کی بحث کو بھی سنے بغیر یکطرفہ فرمائشی فیصلہ دے دیا جس کے تحت چیف کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرکے غیر قانونی طور پہ کام کرنے والی دھشت گردی کورٹ کے غیر قانونی فیصلے کو برقرار رکھا۔

کیا آج پاکستان کی عدالت عظمیٰ کو گلگت بلتستان میں قائم اس غیر قانونی خصوصی عدالت اور ٹھیکے پہ قائم کی گئی غیر آئینی غیر قانونی سپریم اپیلٹ کورٹ کے ایک ایسے متنازعہ چیف جج رانا شمیم کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دینا چاہیئے جسے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے جج کیلئے نااہل اور کرپٹ قرار دیکر محض چھ ماہ میں ہی برطرف کیا تھا – مگر اس نااہل اور کرپٹ برطرف کردہ جج کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے کسی کی سفارش پہ گلگت بلتستان کے عوام پہ مسلط کیا تھا اور اسکی تعیناتی کے خلاف گلگت بلتستان کے وکلاء نے شدید احتجاج بھی کیا تھا ۔
لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے مشرف کیس میں خصوصی عدالت کی آئینی حیثیت بارے میں دی گئی تازہ فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر یہ سوچنے پہ مجبور ھو گئے ہیں کہ ان کے ساتھ قانون اور انصاف کے نام پہ یہ کھلواڈ کب تک چلتا رہے گا اور پاکستان کی عدالت عظمیٰ کب تک گلگت بلتستان میں انصاف کا بلدکار ھونے پہ خاموش تماشائی بنی رہے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں