مقدمہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا فیصلہ

تحریر ۔اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق کی بابت آزاد جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن نمبر 1990/61 بعنوان ملک محمد مسکین وغیرہ بنام گورنمنٹ آف پاکستان بذریعہ سیکرٹری کشمیر افیرز اینڈ ناردرن افیرز ڈویژن اسلام آباد وغیرہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے چونکہ
اس مقدمے نے گلگت بلتستان کی متنازع ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ تعلق پر جاری سیاسی بحث کے ساتھ ساتھ ایک قانونی بحث کو بھی جنم دیا جو تاحال جاری ہے۔
اس اہم کیس کا فیصلہ 8 مارچ 1993 میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عبدل مجید ملک، خواجہ محمد سعید اور محمد ریاض اختر نے کیا اور پہلی بار آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر کھل کر قانونی بحث کی گئی۔
دوران سماعت گلگت بلتستان کے بارے میں آزاد کشمیر حکومت کا سرکاری موقف بھی کھل کر سامنے آیا جس سے عدالت نے اپنے فیصلے میں شامل کرکے ریکارڈ کا حصہ بنایا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان پر لائن آف کنٹرول کے آر پار کی مقبول کشمیری سیاسی رہنماؤں کے موقف اور بیانیے کا آذاد کشمیر حکومت کے اس سرکاری موقف کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک بات بلکل واضح ہوجاتی ہے کہ گلگت بلتستان پر آزاد کشمیر حکومت کا سرکاری موقف اور آر پار کے مقبول سیاستدانوں کا بیانیہ درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا سب سے اہم حصّہ ہے ۔
اسی بناء پر آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے ججزز صاحبان اس رٹ پٹیشن پر تفصیلی فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ” اقوام متحدہ میں کشمیر کے سوال پر حکومت پاکستان کے تیار کردہ پیپر کے صفحہ نمبر 273 میں جنگ بندی کی لکیر کےشمالی اطرف کے علاقے یعنی (گلگت بلتستان) کی جنگ آزادی کی بابت لکھا گیا ہے کہ28 اکتوبر 1947 کو گلگت سکوٹس نے ریاست جموں وکشمیر آرمی کے مسلم عناصر کے مدد سے ایک کامیاب "فوجی بغاوت” کی اور فوجی گورنر برگیڑئیر گھنسارا سنگھ اور ریاست کے غیر مسلم عناصر و سول انتظامیہ کو غیر مسلح کرکے گرفتار کیا اورخزانہ، اسلحے اور ایمونیشن کی بڑی کھیپ بشمول سامان، کپڑے اور سپلائی کو قبضے میں لے لیا اور ریاستی آرمی کے مسلم عناصر نے تقریباً چار سو جوانوں اور رضاکاروں کو جمع کرکے مسلح کیا اور آزاد آرمی نے گلگت وزارت بمقام استور آپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا اور جنوری 1948 کے وسط میں ایک مضبوط فوجی دستہ بلتستان روانہ کیا۔
بلتستان کے تمام مقامی راجے جو کہ مسلمان تھے انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کی مذمت کرکے پاکستان و آزاد کشمیر کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا۔
سول انتظامیہ قائم کرنے کے بعد کرگل کے علاؤہ دیگر تمام علاقوں سے رضاکاروں کو بھرتی کرکے منظم طور پر بٹالینز میں شامل کیا گیا ۔”
واضح رہے کہ مقررہ معیاد سے پہلے ہی جولائی 1947 میں برطانیہ نے ساٹھ سال کا گلگت لیس ایگریمنٹ 1935 کو ختم کرکے گلگت ایجنسی کا علاقہ مہاراجہ ہری سنگھ کو واپس کیا اور یہ علاقے مہاراجہ کی ریاست میں شامل ہوگئے۔
جس کے بعد 20 جولائی 1947مہاراجہ نے بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ جو کہ ریاست جموں وکشمیر کی افواج کا سب سے سینیئر افسر تھا اسے گلگت وزارت کا گورنر مقرر کیا۔
آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں گھنسارا سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ گھنسارا سنگھ اپنی یادداشتوں میں گلگت بلتستان کی آزادی کے بارے میں لکھتے ہیں
کہ "یہ بات پہلے ہی عیاں ہو چکی تھی کہ گھنسارا سنگھ 30 جولائی کو گلگت پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے 1 اگست 1947 میں گلگت اور گلگت ایجنسی کا انتظام سنبھال لیا۔

بقول گھنسارا سنگھ تین اور چار اگست 1947کو یاسین میں انقلاب شروع ہؤا اور پولیٹیکل ایجنٹ لفٹننٹ کرنل Becon بیکن کو گرفتار کیا گیا ۔ فیصلے میں
برگیڈئیر گھنسارا سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اکتوبر 31 اور ایک نومبر کو رات دو بجے تقریباً ایک سو گلگت سکوٹس جن کی قیادت میجر بروان ، لفٹننٹ حیدر خان اور صوبیدار میجر بابر خان کر رہے تھے انہوں نے میرے گھر کا محاصرہ کیا اور مجھے ہاؤس ارسٹ کرنے کا اعلان کیا، اور کپٹن احسان علی، کپٹن حسین، کپٹن سید، لفٹننٹ حیدر،صوبیدار بابر خان اور وزیر ولایت علی نے ایک عبوری حکومت تشکیل دی جس کا سربراہ صوبیدار ریئس خاں تھا ۔
تین نومبر 1947کو سکوٹس لائن گلگت میں رسم پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جہاں ریاست جموں وکشمیر کے تمام سول افسران نے پاکستانی پرچم کو سیلوٹ پیش کیا،اور گلگت کی چارج عبوری حکومت کے حوالے کیا گیا ۔
گلگت میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت سے باہر نکال کر پاکستان بیجھا گیا جسے 15 جنوری 1949 کو Suchetgarh کے مقام پر آذاد کیا گیا۔
اپنی یادداشتوں کے پیرا نمبر7 1l میں بریگیڈئیر گھنسارا سنگھ نے گلگت ایجنسی کی ٹوٹنے کی ایک اہم وجہ میر آف ہنزہ اور نگر کو قرار دیا ہے جو بقول گھنسارا سنگھ اس وقت سرینگر میں ریاست کے مہمان تھے اور واپس آنے سے قبل انہوں نے واضح طور پر ریاست جموں وکشمیر کے چیف منسٹر کو کہا تھا کہ اگر ریاست نے انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تو وہ گلگت میں پاکستان قائم کریں گے چونکہ ریاست کے مسلمان افسران جنھیں گلگت تعینات کیا گیا تھا وہ گلگت میں پاکستان کے قیام کےلئے بہت مشاق ہیں۔
لہذا اس مقصد کے لیے انہوں نے برطانیہ کے افسران سے ہاتھ ملایا۔
میجر بروان اور کپٹن متھسن مہا راجا کے خلاف اور پاکستان کے حامی تھے جنھوں نے گورنر گھنسارا سنگھ کی تقدیر کو گلگت سکوٹس کے ذریعے sealed کیا۔
کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں پاکستان کے وزیر خارجہ سرمحمد ظفر اللہ خان کی 16جنوری 1948 کو, سیکورٹی کونسل کی 228 ویں اجلاس میں خطاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو Documents on Kashmir problem کے عنوان سے 1991 میں شائع ہوئی ہے۔
سر محمد ظفر اللہ خان نے اپنی اس خطاب میں کہا کہ ریاست آف کشمیر کو موجودہ حکمران کے پردادا نے برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی سے 1846 میں پچھتر ہزار روپیہ ( نانک شاہی) میں خرید لیا تھا ۔
ریاست جموں وکشمیر کی آبادی کمیونیلی اس طرح تقسیم تھی کہ جموں کے علاؤہ کشمیر پراپر میں 93 فیصد مسلمان ہیں، جبکہ جموں میں 62 فیصد مسلمان آبادی ہے جموں وکشمیر میں کل ملا کر 78 فیصد مسلمان آبادی ہے کل ابادی تقریباً 4,000,000 ہے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ
گلگت جو کہ ایک بلند بالا پہاڑی ریجن ہے جس کے نارتھ ویسٹ میں ایک حصہ کا بارڈر USSR کے ساتھ لگتا ہے جس میں تمام آبادی مسلم ہے۔
بنجر پہاڑیوں اور بلند پہاڑوں پر مشتمل اس خطے کا کل رقبہ اٹھائیس ہزار مربع میل ہے۔
یہ خطہ اپنی خوبصورتی اور اعلیٰ فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشور ہے۔ مگر جو نہیں معلوم ہے وہ اس خطے کی غریبی ہے جس سے ایک صدی سے وہاں کے عوام ڈوگرہ حکومت کی ظلم وجبر میں وہ بھگت رہے تھے اور وہاں کے عوام نے یکم نومبر 1947 کو اس سے چھٹکارا حاصل کیا ۔
آزاد کشمیر کے جج صاحبان ایک طویل بحث کے بعد صحفہ نمبر 144 کے پیرگراف 193 میں لکھتے ہیں کہ اس کیس کے حوالے سے کورٹ میں اٹھائے گئے تمام اہم ایشوذ کا تنقیدی تجزیے کے بعد یہ نتائج اخذ کئے گئے۔
1.یہ کہ شمالی علاقہ جات ریاست جموں وکشمیر کا حصہ رہے ہیں جو کہ 15 اگست 1947 سے پہلے ایک ریاست کے طور پر وجود رکھتی تھی۔
2.یہ کہ ان علاقوں کو یہاں کے مقامی باشندوں نے ریاست کے افواج کی مدد سے آزاد کروایا تھا۔
3۔ڈوگرہ افواج سے آزاد ہونے کے فوراً بعد ان علاقوں کے انتظامی معاملات عارضی , بنیادوں پر عارضی طور پر طے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس فیصلے میں 28 اپریل 1949 کے معاہدہ کراچی کے بابت لکھا گیا ہے کہ یہ ایک عارضی معاہدہ تھا جس کے تحت عارضی طور پر گلگت بلتستان کو حکومت پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں دیا گیا تھا لہذا بعد میں اس کی جگہ آزاد جموں وکشمیر کے نظام نے لیا، اس لئے گلگت بلتستان کی انتظامی کنٹرول کو واپس آزاد کشمیر حکومت کے حوالے کیا جائے۔
4.یہ کہ شمالی علاقہ جات آزاد جموں وکشمیر کا حصہ ہیں اس لئے حصے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
5.اذاد جموں کشمیر میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد یہ لازمی ہے کہ شمالی علاقہ جات کے عوام کو بقیہ آزاد جموں وکشمیر کے ساتھ جوڑا جائے اور انہیں حکومت اور دیگر اداروں میں مخصوص نمائندگی دی جائے۔

6. شمالی علاقہ جات میں کشمیر کی طرح جمہوری ادارے اور کورٹس آف لا بنائے جائے۔
7.ناردن ایریاز کو آزاد جموں وکشمیر سے جدا کرنے سے سیکورٹی کونسل کی 30 مارچ 1951 اور 24 جنوری 1957 کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے آخری صفحہ نمبر 152 میں لکھتے ہیں کہ جب تک ریاست جموں وکشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جمہوری طریقے سے آزادانہ اور شفاف ریفرنڈم نہیں کروایا جاتا، اور ریاست کا حثیت طے نہیں ہوتا، تب تک تاریخی اور قانونی اعتبار سے ناردرن ایریاز بشمول آذاد کروائے گئے علاقے بشمول آذاد کشمیر پر ایکٹ 1974 نافذ اور حاوی رہے گا۔
اس لئے ناردرن ایریاز کو اور باشندگان سٹٹ سبجیکٹس کو غلط طور پر آزاد جموں وکشمیر سے علحیدہ ایک طرفی انتظامی نظام کے انڈر رکھا گیا ہے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔اس لئے ہم اس پٹیشن کو قبول کرتے ہوئے یہ ڈائریکشن دیتے ہیں۔
ا۔ازاد حکومت فوراً ناردرن ایریاز کا انتظامی کنٹرول سنبھالے اور اس کی ایڈمنسٹر یشن آزاد جموں وکشمیر کے ساتھ ملا دے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت پاکستان حسب ضرورت آذاد کشمیر حکومت کو مدر فراہم کریں۔
3.ایکٹ1974 کے مطابق ناردرن ایریاز کے باشندہ ریاست تمام حقوق حاصل ہونگےاور ان کو حکومت اور آزاد کشمیر اسمبلی ، کونسل ،سول سروسز میں، اور دیگر قومی اداروں میں نمائندگی ملے گی اور قانون کے مطابق آذاد کشمیر حکومت تمام اقدامات اٹھائے گی جو عبوری آئین ایکٹ کے فریم ورک تحت تمام انتظامی اور جوڈیشل نظام کے تحت قائم کریں گی۔”
واضح رہے کہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا نتیجتاً سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کردیا اور پھر مقدمہ گلگت بلتستان نے نیا رخ اختیار کیا جس کا ذکر اگلے مضمون میں کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں