مقدمہ گلگت بلتستان : سپریم کورٹ کے1999ء کاتاریخی فیصلہ-2

گلگت بلتستان میں آرڈرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔


تحریر۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ


اس کیس کی قانونی پچیدگیوں کو سمجھنے کے لئے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں چند اہم سوالات پر بحث کی گئی جن میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا ناردن ایریاز کے لوگوں کو آیئن پاکستان کے تحت اپنے بنیادی حقوق طلب کرنے کا حق حاصل ہے؟
کیا وفاق پاکستان شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے لوگوں کو بنیادی حقوق مہیا کرنے سے انکار کر کے اپنی آیئنی زمہ داریاں پوری نہیں کررہا ہے؟
ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ بات سمجھ نہ آنے والی ہے کہ کن بنیادوں پر شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے انکار کیا جاتا ہےجن حقوق کی ضمانت آیئن دیتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں لکھا کہ بنیادی حقوق کی دو اقسام ہیں پہلی قسم کے حقوق میں شخصی حقوق شامل ہیں۔
آیین پاکستان1973 کے تحت ارٹیکل ٩،١٠،١١،١٢،١٣،١۴،٢١،٢٢،٢۴ ہیں جو شہری اور غیر شہری کے درمیان تفریق نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ ارٹیکلز شخص کی بات کرتے ہیں
جبکہ حقوق کی دوسری قسم جو کہ صرف ملک کے شہریوں سے متعلق ہیں جن میں آئین کے ارٹیکل نمبر ١۵ تا ٢٠ اور ارٹیکل ٢٣، و ٢۵ شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرگراف نمبر چودہ میں لکھا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ناردرن ایریاز میں ادارے بحثیت defacto Executive, defacto legislature اور Defacto judiciary کام کرتے ہیں اس لیے ان اداروں کے Acts قانونآ درست ہیں،
وفاق نے دلیل دی کہ ان علاقوں پر
Doctrine of Defacto Administration
لاگو ہوتا ہے۔اور پاکستان نے ناردن ایریاز پر گزشتہ پچاس سالوں سے موثر طریقے سے کنٹرول جاری رکھا ہے اور بحثیت فرما نرواں کام کر رہا ہے۔اور وفاق نے یہ بھی کہا کہ اس حیثیت کو بین الاقوامی برادری خاص کر اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔

وفاق پاکستان کے جواب دعٰوی کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شمالی علاقہ جات ( گلگت بلتستان ) کے لوگوں کے پاس پاکستان کی شہریت اس حد تک ہے کہ ان کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کئے گیے ہیں اور ان کے لیے پاکستانی تعلیمی اداروں اور وفاقی حکومت میں ملازمتوں کا کوٹہ مختص ہے۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے زیادہ تر قوانین کا اطلاق شمالی علاقہ جات پر1947سے1999 تک بذریعہ مختلف اعلان ناموں کے ڈریعے وقتا فوقتا کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ ١٩۵١ بذریعہ Adaptation Order 1981 شمالی علاقہ جات میں 20/6/1979 اور ٣٠/٩/١٩٨١ میں بزریعہ نوٹیفیکشن ڈپٹی سیکریٹری کشمیر افیرز /ناردرن ایریاز کے زردیعے لاگو کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کے زیادہ تر قوانین ناردرن ایریاز میں لاگو ہیں بشمول سٹیزن شپ اس لیے ناردرن ایریاز کے لوگ پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح بنیادی حقوق مانگ سکتے ہیں اور ساتھ ہی وہ ٹیکس ادا کرنے اور دیگر محصولات مکمل طور پر لاگو ہو تو ادا کرنے کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ نے لکھا کہ یہاں تک کہ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ جس پر پاکستان نے دستخط کئے ہیں، کے تحت بھی لوگوں کی نسل، حیثیت اور ماخذ کے بنا ہی انسانوں کے کچھ بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ جس کے بارے میں شقیں ا تا ١٠ اور ١٣ ، ١۵ و ٢١ کے بابت یونیورسل ڈیکلریشن کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے آئین میں درج بنیادی حقوق یونیورسل ڈیکلیریشن میں درج مندرجہ بالا حقوق کی عکاسی کرتے ہیں، جو کہ انٹرنیشنل کنونشن آف سول اینڈ پولیٹیکل رایئٹس، یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق اور امریکی کنونشن برائے انسانی حقوق کے مطابق ہیں۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کسی ملک میں بنیادی حقوق کو اس وقت معطل کیا جاتا ہے جب بیرونی جارحیت اور بیرونی خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہو۔

ایسی صورتحال کے متعلق ایک لاطینی محاورہ ہے کہ when there is an armed conflict, the law remain silent .یا قومی جنگ میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے، یہاں تک کہ اس کے حصول کے لئے افراد کی آزادیوں اور شہریوں کے دیگر حقوق کو قربان کیا جاسکتا ہے، مگر شمالی علاقہ جات میں ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں بہت واضح طور پر لکھا ہے کہ یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رایٹس کے مندرجہ بالا شقیں اور موجودہ مقدمے میں بہت مطابقت ہے۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ریاست جموں وکشمیر کے بارے میں فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں بذریعہ استصواب رائے ہونی ہے۔

اس لیے یہ بات طے ہے کہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح آئین پاکستان میں درج بنیادی حقوق کا مطالبہ کریں۔اس کورٹ کا یہ ماننا ہے کہ انصاف تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔اور یہ حق ایک آزاد عدلیہ کی غیرموجودگی میں ممکن نہیں۔
آزاد عدلیہ جو غیر جانبدار ، منصفانہ اور Adjudicatory frame work انصاف اور عدل ہو یعنی ایک جوڈیشل درجہ بندی موجود ہو۔
ایسی عدالیتں جنھیں افراد اور ایگزیکٹیو کے ذریعے چلائی جاتی ہو کو آزاد عدلیہ نہیں کہا جاسکتا۔

آئین پاکستان کے شق 2A میں بیان کیا گیا ہے کہ ریاست عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے اپنے پاور اور اتھارٹی کو استتمال کرتی ہے۔

جہاں تک جمہوریت کے اصول، آزادی، مساوات، برابری، صبر،, عدل اور سماجی انصاف کا تعلق ہے اور جنھیں اسلام نے بھی واضح طور پر بیان کیا ہے، پر مکمل طور پر عمل کیا جائیے.

آئین پاکستان کے ارٹیکل 2A اور 17 کے تحت شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو اپنے علاقے پر حکومت کرنے اور ایک آزاد عدلیہ کے ذریعے اپنے بنیادی حقوق کو لاگو کرنے کے حقدار ہیں۔

اس فیصلے کے پیراگراف نمبر ٢٦ میں لکھا گیا ہے کہ چونکہ ناردرن ایریاز (گلگت بلتستان) کی جغرافیائی حدود بہت حساس ہیں اور اس علاقے کی سرحدیں ہندوستان، چین، تبت اور سابق سوویت یونین سے ملتے ہیں اور اس علاقے کو ماضی میں بھی مختلف طریقوں سے چلایا گیا ہے لہذا عدالت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کہ کون سے نظام حکومتکے ذریعے آئین کے مندرجہ بالا اختیار کی تعمیل کی جا سکتی ہے۔نہ ہی یہ عدالت یہ حکم دے سکتی ہے کہ کہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائیندگی دی جائے۔اس مرحلے پر یہ ملک کے وسیع تر مفاد میں بھی نہیں ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ کے تحفظ اور نگرانی میں استصواب رائے ہونا باقی ہے۔اس لیے مندرجہ بالا سوالات کا فیصلہ پارلیمنٹ اور ایگزیٹو نے کرنا ہے۔

یہ عدالت زیادہ سے زیادہ یہ حکم دے سکتی ہے کہ مناسب انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات کئےجائیں تاکہ آیئن کے تحت شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو مندرجہ بالا حقوق مل سکے۔

آیک ازاد عدلیہ کے ذریعے انصاف تک رسائی کے لیے شمالی علاقہ جات میں چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کے برابر لایا جاسکتا ہے جس میں پاکستان کے ہائی کورٹ میں تعیناتی کے میعیار پر پورے اترنے والے ججوں کی تعیناتی کیا جائے۔اور چیف کورٹ کے اختیار سماعت کو بڑھا کرآئنیی عذر داریوں کو سننے کے اختیار کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ بنیادی حقوق جو آئین میں درج ہیں کو لاگو کرسکے۔وہاں ایک اعلٰی عدلیہ ہو جہاں چیف کورٹ کے احکامات اور فیصلوں کو چیلنچ کیا جاسکے۔

اس لئے ہم ان مندرجہ بالا اپیلوں کو قبول کرتے ہوئے فیڈریشن کو حکم دیتے ہیں کہ وہ چھ ماہ کے اندر اندر مناسب انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات اٹھائے اور متعلقہ قانون آرڈرز ، رولز، اعلان ناموں میں ضروری ترامیم کرے اور یقین دہانی کروائے تاکہ شمالی علاقہ جات کے عوام اپنےبنیادی حقوق یعنی اپنے منتخب نمائیندوں کے ذریعے اپنے آپ پر حکومت کرسکے اور ایک آ زاد عدلیہ کے تحت انصاف تک رسائی حاصل کر یں اور آئین کی ضمانت کے تحت ان کے بنیادی حقوق کو نافذ کیا جاسکے”۔

اس فیصلے پر گزشستہ بیس سالوں سے عملددآمد نہیں ہو سکا ہے، البتہ سال ٢٠٠٩ میں گکلگت بلتستان سیلف گورنیس اینڈ ایمپاورمینٹ آرڈر گلگت بلتستان میں نافذ کیا گیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ علاقے کے عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے آرڈر 2018 لاگو کیا گیا جس پر سخت عوامی ردعمل آیا تو تحریک انصاف کی حکومت نے ایک ترمیمی آرڈر لایا جسے بھی عوام نے رد کیا اسی اثنا سپریم کورٹ آف پاکستان نے گلگت بلتستان کی آیئنی حثیت پر سترہ جنوری ٢٠١٩ کو ایک اور تاریخی فیصلہ دیکر گلگت بلتستان کو ریاست جموں و کشمیر کے مسئلہ کا حصہ اور متنازعہ علاقہ قرار دیا. جبکہ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے ایک اور آرڈر ٢٠١٩ بنا کر سپریم کورٹ میں پیش کیا جسے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کرتے ہوئے چودہ دنوں کے اندر گلگت بلتستان میں نافذ کرنے کا حکم دیا.

دریں اثنا حکومت پاکستان نے اس آرڈر کو لاگو کرنے سے قبل ہی اس میں ترمیم کرکے لاگو کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست گزاری ہے اور ان دنوں گلگت بلتستان میں ایک اور آرڈر ٢٠٢٠ نافذ کرنے کی خبریں گردش میں ہیں یوں آرڈرز پر آرڈرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری وساری ہے۔


اشفاق اححمد چیف کورٹ گلگت بلتستان کے ایڈووکیٹ ہیں اور قراقرم لاء کالج میں وزٹنگ لیکچرر کے طور پر بین الااقوامی قوانین پڑھاتےہی

ashfaqoneglt@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں