مقدمہ گلگت-بلتستان: سپریم کورٹ کے فیصلے کے 20 سال–1


تحریر۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔

Ashfaq Ahmed Advocate

کہا جاتا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں دیری انصاف سے انکاری کے مترادف ہے۔ یہ تلخ حقیقت گلگت بلتستان پہ صادق آتا ہے۔ اگرچہ گلگت بلتستان کے عوام کوآیئنی، جمہوری معاشی اور تمام بنیادی انسانی حقوق سے گزشتہ سات دہائیوں سے محروم رکھا گیا ہے، میں یہاں جس تاریخی مقدمہ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں اس کا فیصلہ پاکستان کے اعلٰی ترین عدالت نے بیس سال قبل کیا تھا مگر اس پر آج تک عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ اس دوران پل کے نیچے سے کافی پانی بہہ چکا ہے۔

گلگت بلتستان کی آیئنی حیثیت کے تعین اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے 1994 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دو آیئنی درخواستیں دائر کی گئیں، جن کی سماعت چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے کی اور 28 مئی 1999 میں اس مقدمہ کا فیصلہ سنایااور یہ کیس الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان کے نام سے رپورٹ ہوا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور ایک آزاد عدلیہ کے ذریعے انصاف تک رسائی کے لیے سپریم کورٹ نے وفاق پاکستان کو چھ ماہ کی مدت کے اندر اندر اس مقدمے کے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بیس سال گزرنے کے باوجود تاحال اس فیصلہ پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔.

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر آفس برائے انسانی حقوق کی 14 جون 2018 میں جموں اینڈ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شائع کردہ رپورٹ میں اس فیصلے اور اگست 2007 میں یورپین پارلیمنٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "ناردرن ایریاز میں آئینی شناخت کے ساتھ سول رایئٹس کی بھی مکمل طور پرعدم موجودگی ہے اور لوگوں کو غربت وناخواندگی اور پسماندگی میں رکھا گیا ہے”۔.

یورپی یونین کی اس سخت رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پاکستانی حکام نے گلگت بلتستان میں 2009 میں ۔۔ نافذ کیا اور بار بار یہ دعوی کرتے رہے کہ اس آرڈر سے گلگت بلتستان کے باشندگان کو داخلی خودمختاری مل جائے گی۔ تاہم حقیقت میں ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ درحقیت 2009 کا پیکیج ۔۔حقوق سے محروم کرنے کا آرڈر تھا۔.
انسانی حقوق کمیشن پاکستان جیسے معتبر ادارہ کے ایک رپورٹ کے مطابق: "2009 کا آرڈر دوہرے سزا سے بچنے کے خلاف منصفانا عدالتی چارہ جوئی ، تعلیم، اورمعلومات تک رسائی جیسے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت نہیں دیتا ہے”۔

According to HRCP, “the 2009 order doesn’t guarantee the right to a fair trial, protection against double punishment and self-incrimination, right to education, right to "information.

یہ آردڑ در اصل سپریم کورٹ کے 1999 کے فیصلے کی روح کے منافی تھا اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات پر گلگت بلتستان کے وکلا برادری میں ایک بحث اور جدوجہد جاری تھی کہ اسی اثنا میں 17جنوری ٢٠١٩ کو گلگت بلتستان کی آیئنی حثیت اور بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں سپریم کورٹ کی سات رکنی بنچ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ اور ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کا حصہ قرار دیا۔

در اصل گلگت بلتستان کی قانونی اور آئینی حیثیت کے بارے میں گلگت بلتستان کے بیشتر سیاستداں ، دانشور اور سیاسی کارکن لاعلم ہیں اس لیے گزشتہ ستر سالوں سے مسئلہ کشمیر سے تعلق کو جواز بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ حق ملکیت اور حق حاکمیت سے محروم رکھا گیا ہے ۔ جب کہ گلگت بلتستان کے وکلاء برادری کا ایک حصہ اس فیصلہ کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد لازمی قرار دیتا ہے حالانکہ عوام خصوصاً گلگت بلتستان کے دانشوروں کی اکثریت اس فیصلہ سے لاعلم ہے اس لیے
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اس فیصلے میں درج قانونی بحث کو عوامی عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی حقائق سے آگاہی ہوسکے۔

١٩٩٩کے اس فیصلہ کے پیرگراف نمبر 1 میں مرحوم چیف جسٹس اجمل میاں نے لکھا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ اور باشندگان ناردرن ایریاز نے ان آئینی درخواستوں میں کئی ایک داد رسیوں کیاستدعا کی ہے لہذا یہ فائدہ مند ہوگا کہ ان کو یہاں۔دوبارہ پیش کیا جائے۔
اندریں حالات استدعا ہے کہ باشندگان شمالی علاقہ جات کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ فرمایا جائے اور فریق دوم (وفاق) کو حکم فرمایا جائے کہ:-

١۔ شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے باشندگان کا حق حکمرانی بحال کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں ان کی نمایئندگی کا انتظام کیا جائے جس کے لئے ضروری قانون سازی بھی کی جائے بصورت دیگر انہیں حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کے ذریعے اپنی اسمبلی قایم کرنے ،اپنے علاقے کا نظم نسق خود سنبھالنے اور اپنے معاملات خود طے کرنے سے نہ روکا جائے۔

٢۔جب تک انہیں اپنےمنتخب نمائیندوں کے ذریعے فیصلے کرنے کا حق نہیں مل جاتا اس وقت تک ان سے کسی قسم کا ٹیکس، محصول یا ڈیوٹی وغیرہ وصول نہ کیا جائے۔

٣۔ اگر شمالی علاقہ جات پاکستان کے حدود میں شامل نہیں ہیں تو سوست کے مقام پر قائم کسٹم چیک پوسٹ کوختم کرکے پاکستان کی سرحد پر قائیم کی جائے اور شمالی علاقہ جات کی تجارتی یا زندگی کی ضرورتوں سے متعلق استعمال کی دوسری اشیا کی دوسرے ممالک خصوصا چین سے آمدورفت میں مداخلت نہ کی جائے اور نہ ہی کسٹم دیوٹی وصول کی جائے۔

۴۔دفاعی مقاصد کے لئے مسلح افواج کے اقدامات کے سوا حکومت پاکستان کے نافذ کردہ نام نہاد قوانین، احکامات،اقدامات، اور نوٹیفیکیشن وغیرہ منسوخ کئے جائیں۔

۵۔مسلح افواج کے سوا جملہ پاکستانی حکام کو وہاں سےواپس بلائے جایئں اور نظم و نسق وغیرہ کے امور باشندہ گان علاقہ کے سپرد کئے جائیں۔
مزید کوئی داد رسی جو حالات مقدمہ کے تحت ضروری خیال فرمائی جائے عطا کی جائے۔

جبکہ دوسری آیئنی درخواست نمبر 17/1994 میں استدعا کی گئی کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ڈیکلریشن کو مدنظر رکھتے ہوئے آیئن پاکستان کے آرٹیکل 184 (4) کےتحت بنیادی حقوق نافذ کئے جائیں اور ناردن ایریاز کے باشندگان کو پاکستانی شہری قرار دیکر ان کو وفاق پاکستان میں مکمل نمایندگی دی جائے اور سایئلان کو پاکستان کے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے، نظر ثانی کرنے کا حق دیا جائے۔

شمالی علاقہ جات کو صوبائی حکومت کا درجہ دیا جائے ۔ (جاری ہے )


اشفاق احمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے وکیل ہیں اور قراقرم لاء کالج گلگت میں بین القوامی قانوں پڑھاتے ہیں. ان کے مضامیں بام جہان کے صفحات پر باقاعدگی کے سا تھ شائع ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں