موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غذائی قلت کو کیسے روکیں؟

تحریر: علی توقیر شیخ

موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں ناقص غذا اور بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ کا مسئلہ بد سے بدترین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اگرچہ ماہرین بہت پہلے ہی زراعت اور غذائی تحفظ کو موسم سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کرچکے تھے لیکن حالیہ وقتوں میں موسمیاتی تبدیلی اور ناقص غذا کے درمیان تعلق اب واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔

مختلف امدادی تنظیموں کی جانب سے شروع کردہ پروگرام ’اسکیلنگ اپ نیوٹریشن‘، ایک ایسا مشترکہ پروگرام ہے جو اب تک 30 سے زائد ممالک کو ان کے ہاں قومی سطح پر خوراک سے جڑی حکمت عملی جوڑنے میں معاونت کرچکا ہے۔ یہ پروگرام فصل کی ناکامیوں اور غذائی عدم تحفظ کی وجہ بعض اوقات قحط سالی، طوفان یا شدید گرمی کی لہر جیسی موسمیاتی آفات کو قرار دیتا ہے۔

تاہم چند حالیہ پروگراموں نے موسمیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافے اور بڑھتے موسمی تغیر کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ حالیہ وقتوں میں ماہرین بھی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئی پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں۔ اپنی مستقبل کی غذائی حکمت عملی میں پہلے سے زیادہ وسیع اور مربوط لائحہ عمل اپنانے کے لیے پاکستان کے پاس یہی اچھا موقع ہے۔
جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ویسے ویسے پاکستان کے لیے غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ کئی ساری فصلیں پہلے ہی بدلتے مون سون کی وجہ سے متاثر ہونا شروع ہوچکی ہیں اور پیداوار میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی، قحط سالی اور گرمی کی لہروں میں اضافے اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے حالیہ دنوں میں گندم، کپاس اور دیگر سبزیوں کی کھڑی فصلیں برباد ہوچکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں کھانے کی اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں اور غذائی دستیابی، رسائی اور قوت خرید شدید متاثر ہوتی ہے۔

ملک کی تقریباً نصف آبادی اپنی آمدنی کا 60 فیصد حصہ کھانے کی اشیا پر خرچ کردیتی ہے لیکن آنے والے دنوں میں یہ لوگ غذائی بحران کا سامنا کرسکتے ہیں۔

گورننس کی عدم توجہی کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ کو مزید تقویت مل رہی ہے اور اب جبکہ 50 برسوں میں زمین کے درجہ حرارت میں ایک ڈگری سیلسیس کی تبدیلی آچکی ہے پھر بھی غذائی عدم تحفظ کا معاملہ سیاسی ناپائیداری کا شکار نظر آتا ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر پیرس معاہدہ ناکام ہوجاتا اور آنے والے برسوں میں درجہ حرارت بڑھتے بڑھتے 2 ڈگری سیلسیس یا اس سے تجاوز کرجاتا تو کیا ہوتا؟

بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (The Inter-governmental Panel on Climate Change (IPCC نے خبردار کیا ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھی ہوئی شرح گندم اور چاول جیسی فصلوں کی غذائی قوت گھٹا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کی اجناس میں شامل پروٹین، زنک اور آئرن کی مقدار کو بھی متاثر کرتی ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بلند شرح پودوں کی اندرونی کمسٹری میں خلل ڈالتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ پودے جو پروٹین اور دیگر وٹامن کو اپنے اندر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے معیار میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔

اس وقت دنیا کی 76 فیصد آبادی اپنے روزمرہ کے پروٹین کی ضرورت پودوں سے ہی حاصل کرتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے عالمی غذائی بحران کو مزید تقویت پہنچے گی جس کے باعث لاکھوں لوگ جس خوراک پر انحصار کرتے ہیں اس میں سے ضروری غذائیت حاصل نہیں کرپائیں گے، یوں اس موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کے ہر شخص کے ساتھ بالخصوص پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں موجود 35 کروڑ 40 لاکھ بچے متاثر ہوں گے۔

آئی پی سی سی کے مطابق فضا میں 546 سے 586 پی پی ایم کاربن ڈائی آکسائیڈ (یہ کم و بیش درجہ حرارت میں 2 ڈگری سیلسیس کے اضافے کے ہی برابر ہے) کی موجودگی میں جس گندم و دیگر اناج اور دالوں کو اگایا جاتا ہے ان میں 6 سے 13 فیصد کم پروٹین، 4 سے 7 فیصد کم زنک اور 5 سے 8 فیصد کم آئرن پایا جاتا ہے۔ کاربن اخراج کی زیادتی کے باعث 2020ء تک 20 کروڑ افراد زنک کی کمی کا شکار بن سکتے ہیں۔ قومی غذائی سروے برائے 2018ء کے مطابق پاکستانی بچے پہلے ہی پروٹین، زنک اور آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔

یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت 18 ممالک میں 2050ء تک صرف گندم اور چاول سے حاصل ہونے والے غذائی پروٹین میں 5 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوسکتی ہے۔

قومی غذائی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کو اس وقت ناقص غذا سے جڑے 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے، ان میں غذائی قلت، غذائی زیادتی اور مخصوص غذائی اجزا کی کمی شامل ہے، ان مسائل کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔ اس وقت تقریباً 53 فیصد 5 برس سے کم عمر بچے خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 52 فیصد وٹامن اے اور 63 فیصد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔

تولیدی عمر کی خواتین میں وٹامن ڈی، اے اور زنک کی کمی پائی جاتی ہے۔ غذائی سروے کے اندازے کے مطابق قریب 7 کروڑ 90 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اگر معاملہ جوں کا توں رہا تو 2047ء میں جب پاکستان اپنی 100ویں سالگرہ منا رہا ہوگا اس وقت ان افراد کی تعداد 11 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

مہنگائی میں غریب صارفین غذائیت پر کم پیسہ خرچ کرنے لگتے ہیں اور یوں وزن کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے لہٰذا بچوں کی ایک بڑی تعداد ناقص غذا اور نشوونما میں رکاوٹ کا شکار بنتی جاتی ہے۔

ناقص غذا پاکستان کی نصف ماؤں اور بچوں کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ملکی پیداوار میں کمی اور قومی ترقی میں زوال آتا ہے۔

عام لوگ ایک ہی وقت میں ان 3 خطرات کی زد میں ہیں،

انہیں موسمیاتی وجوہات سے پیدا ہونے والے دباؤ اور آفات سے خطرہ لاحق ہے
غذابخش خوراک کی محدود قوتِ خرید رکھنے والے لوگ پرائس شاک کے باعث مزید مشکلات میں گھرتے جا رہے ہیں اور یوں
یہ ملکی معیشت کی پیداور میں مددگار ثابت نہیں ہوپاتے، واضح رہے کہ پاکستان کی معیشت خطے میں سب سے کم شرح نمو کی حامل معیشتوں میں شمار کی جاتی ہے۔
غذائیت کی عالمی رپورٹ برائے 2015ء کے مطابق غربا کی ناقص غذائیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے طبّی مسائل سے نمٹنے کے لیے شعبہ صحت کو ناقص غذائیت سے بچاؤ کے لیے مطلوب اخراجات سے 16 گنا زیادہ خرچہ اٹھانا پڑا۔ اس سب کے باوجود بھی حکومت ایک جامع بین الشعبہ جاتی لائحہ عمل اپنانے، موسمیاتی اور غذائی اعتبار سے جدید تقاضوں کے مطابق موزوں زرعی نظام کو تقویت پہنچانے اور موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر دلچسپی دکھانے سے کتراتی ہے۔

وزیرِاعظم نے اپنے پہلے خطاب میں بہت سی امیدیں بندھوائی تھیں لیکن موجودہ بے عملی کے ماحول نے چند ایسے اہم کاموں کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے جو وزیرِاعظم کی ذاتی توجہ کی متقاضی ہیں۔ مندرجہ ذیل میں وہ کام اور ان سے جڑے قانون سازی کے 5 اہم اقدامات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ناقص غذائیت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماں کے دودھ سے زیادہ مؤثر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ ڈبہ بند فارمولہ دودھ کو فروغ دینے والے نجی طبّی مراکز کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے اور انہیں ضابطہ بندی کے دائرے میں لایا جائے۔
دوسرا یہ کہ جلدی خراب ہونے والے پھلوں، سبزیوں، سیریل اور گوشت کی برآمدات بند کی جائے، پھر چاہے سی پیک میں زرِمبادلہ اور تجارتی توازن کے دباؤ کا سامنا کیوں نہ ہو۔ محرومیوں کی آبادی کے لیے یہ چیزیں اہم غذائی ذرائع کی حیثیت رکھتی ہیں۔
تیسرا یہ کہ 10 ارب درخت لگانے کے مشن کے ساتھ ساتھ نان ٹمبر مصنوعات اور خدمات کو فروغ دیا جائے۔ یہ ملکی باشندوں بالخصوص غربا کے لیے قلیل مغذی اور غذائی اجزا کے اہم ذرائع ہیں۔ صرف درختوں سے کام نہیں بن سکتا۔
چوتھا، اہم تحقیقی مراکز کو علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس قابل بنایا جائے کہ وہ قحط سالی، سیلاب اور گرمی کی لہر جیسے حالات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اجناس تیار کرسکیں اور ایسی اجزا تیار کی جائیں جو اہم قلیل مغذی اجزا سے بھرپور ہوں اور گرمی کی شدت برداشت بھی کرسکتے ہوں۔
اور آخری یہ کہ اگلے 5 برس کے لیے ناقص غذا کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے 500 ارب روپے اکٹھا کیے جائیں۔ آپ ایک کامیاب فنڈ ریزر ہیں۔ اپنا پہلا خطاب یاد کیجیے اور جو عزم وہاں پر چھوڑا اسے وہیں سے بحال کریں۔ ایک قومی موسمیاتی اور غذائی ایجنڈے کی تشکیل سے زیادہ غریب دوستی کا ثبوت اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

بشکریہ ڈان اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں