مچھ میں ہزارہ محنت کشوں کے قتل اور حکومتی روئے کے خلاف گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہرے

دہشت گردی اور تکفیری سوچ کا خاتمہ اور ہزارہ مظلوم محنت کشوں کے لواحقین کو انصاف اور خطے میں سامراجی پراکسی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

بام جہان رپورٹ

اسکردو/ہنزہ/گلگت: گذ شتہ اتوار بلوچستان کے علاقہ مچھ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے11 محنت کش کانکنوں کے قتل عام کے خلاف جمعہ کے روز بلتستان ڈویژن، دنیور، جوتل اور ہنزہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ ان مظاہروں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کیں اور دہشت گردی کو روکنے میں سیکوریٹی اداروں کی ناکامی اور تحریک انصاف حکومت کی بے حسی پر شدید تنقید کیا گیا۔
ان احتجاجی جلوسوں میں سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے اپنے تقاریر میں وفاقی اور بلوچستان کی حکومتوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویوں اور بیانات خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کے بیان جس میں انہوں نے ہزارہ قبیلہ کے لوگوں کو بلیک میلر کہا ہے، کو ہدف تنقید بنایا ۔

اسکردو میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 11 محنت کشوں کے قتل پر مظارہ کیا گیا۔

شرکاء نے مختلف قراداد وں کے ذریعے بلوچستان کے ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے مظلوم لوگوں کا مسلسل قتل عام اور بالخصوص مچھ کے مقام پر تیرہ بے گناہ کان کنوں کے قتل عام کو ریاستی اداروں اور حکومت کی ناکامی قرار دیا اور مطالبہ کیاکہ ان دہشتگردوں کو بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے جو اس واقعہ میں ملوث ہیں۔
ایک قرار داد میں سر زمین ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سلطان نذیر اور اسلام آباد کے نوجوان اسامہ ستی جنہیں پولیس کے اہلکاروں نے بے گناہ قتل کیا ہے ، کے واقعات میں ملوث اہلکاروں کو عبرت کا نشان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایک اور قرار داد کے ذریعے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کروانے پر معمور تمام سامراجی قوتیں اور ان کے کاسہ لیس حکممرانوں اور ممالک کی شدید الفاظ میں مذمت اور اس سازش کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے خطے میں سامراجی پراکسی جنگ کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا.

اسکردو چوک ئادگار پر احتجاجی جلسہ

شرکاء نے ایک اور قرار داد کے ذریعے ملک میں تکفیری سوچ کے حامل انسان دشمن انتہا پسند عناصر کے مذموم مقاصد کی مذمت کیں اور سیکوریٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک اور اداروں سے ایسے عناصر کو پاک کریں۔
سب سے بڑا احتجاجی ریلی اسکردو میں ہوا. شرکاء بعد نماز جمعہ امامیہ جامع مسجد سے یادگار شہداء تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد شر یک تھے .
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے نائب امام جمعہ سید باقر الحسینی، شیخ جواد حافظی، پیپلزپارٹی کےرکن گلگت بلتستان اسمبلی غلام شہزاد آغا، سیاسی و سماجی رہنماء نجف علی سمیت دیگر مقررین نے مچھ سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کیں اور اسے سامراجی قوتوں اور انکے پٹھو حکمران طبقوں اور ممالک کی سازش قرار دیا۔
مقررین نے مچھ کے مظلوموں کے لواحقین سے ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار اور دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور ان کے خلاف جدوجہد کرنے کا عزم کیا۔

ہنزہ علی اباد میں احتجاجی
۔دھرنا

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مسلسل اس قسم کے واقعات کا ہونا سیکیورٹی اداروں کے لئے کھلا چیلینج ہے۔
مقررین نے کہا کہ ماضی کے اور اب اس واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کی تاحال گرفتاری میں ناکامی افسوسناک ہے۔
مقررین نے کہا وزیراعظم کا متاثرہ لواحقین کے اسرار کے باوجود مچھ جانے میں تاخیر پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے مظلومین کی دادرسی اور لواحقین سے ملاقات کی بجائے انہیں بلیک میلر قرار دینا قابل مذمت اور شرمناک عمل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مظلوموں کے متاثرہ خاندانوں اور پوری قوم سے معافی مانگنا چاہیئے۔
اسکردو کے علاوہ شگر، کھرمنگ، گا نگچھے اور روندو ، جوتل، نگر اور ہنزہ میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

ہنزہ

‏ مقامی رپورٹر سلیم برچہ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں جاری دہشتگردی خصوصاً ہزارہ قبیلہ کے ساتھ ہونے والے بربریت کے خلاف اور کراچی میں قتل ہونے والے طالب علم سلطان نذیر کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے علی آباد میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ۔
گنش سے برآمد ہونے والا ریلی علی آباد کے مختلف مقامات سے ہوتا ہوا ہنزہ پریس کلب کے سامنے پہنچا جبکہ نماز جمعہ کے بعد مسجد علی سے مرکزی ریلی وہاں پہنچا اور ایک بڑا جلسہ کی شکل اختیار کیا۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حال ہی میں نو سال کی اسیری کے بعد رہا ہونے والے عوامی ورکرز پارٹی کے انقلابی رہنماء بابا جان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مظلوم عوام بالخصوص ہزارہ قبیلہ کے ساتھ یہ پہلا موقع نہیں ایسے واقعات پچھلے 40 سالوں سے مسلسل ہوتے آرہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اور حکومتی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ محنت کش عوام کی حفاظت کو یقینی بنائے ایسے بر بریت کے واقعات کو روکے۔
"ہماری پارٹی مظلوموں ، محنت کشوں کی پارٹی ہے اور ہمیشہ مظلوموں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی آرہی ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔”
انہوں نے کہا کہ ستر سالوں سے جو نظام ہم پر مسلط ہے اس کے نتیجے میں یہ ظلم و بربریت اور استحصال جاری ہے ۔ جاگیردار، سرمایہ دار اور بیوروکریسی اور اشرافیہ طبقہ کے لوگ مختلیف شکلوں اور ناموں سے ہر پانچ سال بعد اقتدار میں آتے ہیں اور عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔ اس فرسودہ نظام کے نتیجے اور حکمران اشرافیہ طبقہ کی وجہ سے اکثریتی عوام کو تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ نہ تعلیم ہے، نہ صحت کی بنیادی سہولتیں ہمیں حاصیل ہے نہ روزگار کے مواقع ہیں اور نہ ہماری زندگیوں کو تحفظ حاصیل ہے ۔ آئے دن دہشت گرد مذہبی اقلیتوں، مظلوم قوموں کے محنت کشوں اور محکوموں کا قتل عام کرتے ہیں ۔ اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ تمام محنت کشوں اور غریب عوام کے مشترکہ جدوجہد کے ڈریعے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے نوجوانوں، خواتین ، بزرگوں، محنت کشوں اور تمام مظلوم اقوام سے اپیل کی کہ وہ ظلم کے اس سرمایہ دارانہ ،جاگیردارانہ ، لوٹ کھسوٹ اور انسان دشمن نظام کے خلاف اٹھ کحڑے ہوں اور اس سے چھٹکارا حاصیل کرنے کے لئے ۔ ۔ میں حال ہی مین نو سال بعد جیل سے نکلا ہوں اگر عوام کے حقوق اور سماجی انصاف کے لئے دوبارا جانے کی ضرورت پڑی تو میں دریغ نہیں کروں گا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد اسحاق جوادی نے کہا کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان خود لواحقین سے ملنے اور انہیں یقین نہیں دلاتے کہ اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے انہیں عبرتناک انجام تک پہنچانے کا وعدہ نہیں کرتے۔ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا
انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کرنا بند کرے اور پنا تاریخی کردار ادا کریں۔
شیخ اسحاق نے مطالبہ کیا کہ ریاستی اداروں میں بیٹھے دہشتگرد افراد اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کیائے ، ملک میں بسنے والے تمام مذاہب اور اقوام کا احترام اور انکی حفاظت کو یقینی بنائے بصورت دیگر عوام کو اپنی جان ومال کی حفاظت کرنا ہوگا ۔
انہوں نے شرکاء سے اپیل کیا کہ اب وقت آگیا ہے کی وہ رنگ ونسل علاقہ، زبان اور قبیلوں میں تقسیم ہونے کی بجائے ایک ہو کر ملک میں جاری دہشتگردی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کا خاتمہ کریں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما فدا کریم نے کہا کہ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم اور دہشت گردی انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔
دہشتگردوں کے ہاتھوں نہتے شہریوں کا خون تبدیلی سرکار کے جھوٹے دعووں اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ ملک میں بسنے والے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کرے ۔لیکن افسوس کا مقام ہے کہ وہ ملک میں جاری دہشتگردی، لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما ظہور الٰہی کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسے واقعات پہلی مرتبہ نہیں ہوئے ہیں ۔ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائے تو ایسے انگنت واقعات ملتے ہیں چاہے وہ مزدور ہو یا پھر خواتین ہوں یا طالبعلم اس ملک میں کہیں پر بھی شہری محفوظ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے اور حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے کیونہ ان اداروں میں بیٹھے لوگ شرا فت، اور حب الوطنی کا لبادہ اوڑے ہوئے ہیں اور مظلوم و محکوم عوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کوآئندہ کے لیے عبرت کا نشانہ بنایا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں