میں تمہاری ابرِ رحمت ہوں


میمونہ عباس خان

میری سانسوں کی نگہباں!
میری ماں!!

تمہاری گود میں اتری نہیں ہوں میں
ابھی تک گھپ اندھیری کوکھ میں ہوں
تمہارے دل کی دھڑکن سے جڑی ہیں دھڑکنیں میری
میرے بارے میں اکثر سوچتی ہو اور اپنے آپ مسکاتی ہو سارا دن
تمہاری مسکراہٹ سے مرے ہر سُو دیے جلتے،کنول کے پھول کھلتے ہیں
مجھے جلدی ہے آنے کی
اور اپنی انگلیوں کی نرم پوروں سے تمہارے ہونٹوں پہ کھلتے کنول چُننے کی …
۔
مگر وجدان میں ڈوبے کنول کملا گئے ہیں آج
تم اپنی ڈاکٹر سے آج مل کر… میرے آنے کی گواہی سن کر آئی ہو
اور میرے باپ کو وحشت ذدہ، مایوس ہوتا دیکھ کر گھبرا گئی ہو
میں اپنی بند آنکھوں سے تمہارے چہرے پر لرزاں، وہ سارے خوف کے تاریک سایے دیکھ سکتی ہوں
اب یہ تاریکی مرے اطراف بھی چھانے لگی ہے
۔
ہائے میری ماں!
تمہاری کوکھ میں دبکی ہوئی میں
اجنبی ان سرد و بیگانی نگاہوں سے ٹھٹھرتی ہوں
جو میرے آنے سے یکدم تمہاری اور آئی ہیں
۔
اب یہاں پر روشنی کم ہے
کنول مرجھاگئے ہیں
تمہاری بے بسی سونے نہیں دیتی
اور تمہاری مسکراہٹ سے دِیے روشن نہیں ہوتے!!!
۔
مگر ماں!
تم نے سرگوشی میں ایک دن یہ کہا تھا
اگر بیٹی ہوئی میری تو وہ رحمت بنے گی
تو پھر یہ خوف کیسا ہے؟
تمہیں ڈرنا نہیں ہے اب اندھیروں سے
تمہاری زندگی میں روشنی بن کر اجالا میں کروں گی
جنہیں رحمت سے وحشت ہے
انہیں جتلاؤں گی اب
رحمتوں کی ابر میں جو بھیگتے ہیں
اجالے بھی انہی کے در پہ ماتھا ٹیکتے ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں