نر کا بچہ

تحریر: آدرش

منا لیا دن.. کر لیا ایک دن عورت کے نام ؟ اچھا کیاـ مگر ایک دن منانے سے کیا تیر مار لیا؟ کیا تبدیلی آئے گی؟ کیا مردوں کے رویئے اب تبدیل ہوں گے؟ وہ مزدور عورت جو کھیتوں میں مزدوری کرتی ہے، کارخانوں میں کام کرتی ہے، محفلوں میں ناچتی ہے، گانا گاتی ہے، پاپی پیٹ کے لیئے جسم بیچتی ہے یا بھیک مانگتی ہے کیا اب وہ تمام محفوظ ہو گئے؟ کیا انہیں معمولی معمولی بات پہ مرد اپنے مردانگی کے زہم میں تزلیل نہیں کریں گے؟ کیا گھر میں دن رات محنت مشقت کرتی عورت پہ اب نام نہاد مرد تشدد سے باز آ جائے گا؟ کیا مملکت خداداد میں اب بچیوں کے ساتھ ریپ نہیں ہوں گے؟
ویسے یاد دہانی کے لیئے نہیں اپنے معلومات کے لیئے پوچھ رہا ہوں اس آٹھ مارچ کو عورتوں کی آزادی کا ترانہ گاتے بینر اٹھائے کس نے سوچا ہے یا کسی کو یاد آیا بھی کہ نہیں
سنا ہے مختیاراں مائی اب بھی انصاف کی دہائی دے رہی ہے ـ
سنا ہے کوہستان کی قتل ہونے والی عورتوں کے لیئے آواز اٹھانے والے کو بھی قتل کر دیا گیا ہے.
سنا ہے اب بھی غیرت کے نام پہ عورت ہی قتل ہوتی ہے.
سنا ہے کئی بےبس عورتیں اپنے لاپتہ بیٹوں، بھائیوں، شوہروں کی بازیابی کے لیئے در در کی ٹوکریں کھا رہی ہیں. مجال ہے جو نر کا بچہ کچھ ان کے بارے میں کہہ سکے زبان کھول سکے.
سنا ہے کھیتوں میں، دفتروں میں، رستوں میں آج بھی عورت پہ جملے کسے جاتے ہیں.
سنا ہے زینب کے بعد بھی بہت ساری بچیاں ریپ بھی ہوئی قتل بھی ہوئی یہ سب نر کے بچے کے سماج میں ہو رہا ہے ـ
نہیں ایک دن منانے سے کچھ نہیں ہوگا سماج کو بدلنا پڑے گا، سماج کو بدلے بغیر عورت کے دن نہیں بدلیں گے. ارے یہاں تو مرد غیر محفوظ ہے اس سے جڑی ہوئی عورت کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟ درندوں کے اس سماج میں عورت کی بساط کیا ہے ـ مرد سے جڑی عورت اُسی مرد ذات کے درندگی کا شکار رہتی ہے ـ سنا نا سب سے معتبر مقدس قومی اسیمبلی میں پڑھے لکھے ڈیسنٹ وزیر نے کیا کہا ” نر بچہ ” کیا اب نہیں سمجھے کہ کس ذھنی پستی میں گرے ہوئے ہیں ہم لوگ ـ اور اب بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سال میں ایک دن شہروں میں جلوس نکالنے سے، نعرے لگانے سے، بینر اٹھانے سے، ٹی شوز میں ایک دن بحث کرنے سے عورتوں کے دن بدلنا شروع ہو جائیں گے. کچھ بھی نہیں بدلے گا خام خیالی ہے. مذہبی جنونیت کے اس دیس میں کچھ نہیں بدلے گا ـ اس دیس میں شھروں سے زیادہ دیہی آبادی پر مشتمل ہے جہاں جاگیرداری وڈیرہ شاہی نواب سردار مالک ہیں وہاں تو عورت ایک جانور سے بھی بدتر زندگی گذار رہی ہے. اس کو چھوڑیئے حضور جو شھروں میں بستے ہیں سو کالڈ ایجوکیٹیڈ ان کا حال ذرہ دیکھیئے راہ چلتے، دفتروں میں بات کرتے، کھیل کے میدانوں میں کھیلتے ہوئے، کھیل دیکھتے ہوئے، سنیما میں فلم دیکھتے ہوئے، جھگڑتے ہوئے، کوئی بھی زبان میں بات کرتے ہوں یا فیس بک، ٹوئیٹر، یوٹیوب میں کسی سے اختلاف یا غصے میں جب بس نہ چلے دلیلیں ختم ہو جائیں، شخصی عقیدت یا اندھے عقیدوں پہ ٹھیس پہنچے تو گالیاں ماں بہن بیوی کو ہی پڑتے ہیں ـ سیاست کے میدان میں اسیمبلی یا جلسوں میں جب بات نہ بنے تو وار عورت کے ذات پہ ہوتا ہے ـ دیکھا نا وزیر اعظم صاحب نے اپوزیشن پہ تنقید کی تھی تو کیا کہ اپنے نام کے پیچھے یہ کیوں لگاتا ہے وہ کیوں نہیں لگاتا ـ اور کتنی تالیاں بجی ـ جب ذھنیت کا لیول یہ ہو تو کہاں سے عورت کے دن بدلیں گے ـ
اس پدر شاہی نظام کو بدلے بغیر نہ ماں کے دن بدلیں گے نہ بہن کے نہ بیوی کے ـ گھر سے نکل کر مرد جس جنگل میں جاتا ہے وہاں نر کا بچہ مرد کا بچہ بنتے بنتے وہ درندہ بن جاتا ہے ـ
اس پدر شاہی کو بدلنے کے لیئے اس نظام کو بدلنا پڑے گا کیونکہ اس نظام کے چلتے تعلیمی نظام نہیں بدلے گا ادارے نہیں بدلیں گے مظلوم کے حالات نہیں بدلیں گے تو عورت کے حالات کیسے بدلیں گے ّ ـ
دوستو معذرت مگر سچ یہی ہے کہ دن منانے سے حقیقتیں تبدیل نہیں ہوتے رویئے نہیں بدلتے رجحان نہیں بدلتے ـ ایک دن آیا اور گیا بس

اپنا تبصرہ بھیجیں