نوجوان ڈاکٹر اُسامہ ریاض کورونا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہارگئے

تین ہفتہ قبل جگلوٹ اور پڑی میں کورونا وائرس اسکرنینگ کے فرائض انجام دیتے ہوے وہ وائرس کے شکار ہوئے اور انہیں گلگت ہسپتال داخل کرانا پڑا.


بام جہان

گلگت بلتستان کے ایک نوجوان فرض شناس ڈاکٹر اسامہ ریاض کورونا وائرس کے مریضوں کی سکریننگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے خود اس خطرناک وائرس کےشکار ہونے کے باعث جان کی بازی ہار گئیے ہیں۔ یہ گلگت بلتستان میں کورونا سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔

گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات نے میڈیا کو ان کے موت کی تصدیق کی اور کہا کہ ” کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر اسامہ ریاض جام شہادت نوش کرگئےہیں ۔”

ڈاکٹر اسامہ گلگت سے 20 کلو میٹر دور پڑی بنگلہ اور سونیار جگلوٹ میں زائرین کی سکریننگ کیمپ میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے کورونا وائرس کےشکار ہوئے تھے ۔ بیس دن پہلے اچانک ان کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ بیہوش ہو کر گر پڑے۔ انہیں ضلعی اسپتال گلگت منتقل کیا گیا۔ گزشتہ جمعے کی رات ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں ونٹیلیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا –

ڈاکٹروں کے مطابق ان کے گردے اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ ریاض میں کورونا وائرس کی تصدیق چند دن قبل ہوئی تھی۔

وزیر اعلی حافظ حفیظ الر حٰمن نے ڈاکٹر اسامہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں قومی ہیرو قرار دیا ہے ۔

حالات زندگی اور تعلیم

ڈاکٹر اسامہ ریاض کا تعلق ضلع دیامر کے علاقے چلاس سے تھا ۔

وہ لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈپارٹمینٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض حسین کے صاحبزادےتھے۔

قائداعظم میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اگست 2019 میں انہوں نے پپیلز پرائیمری ہیلتھ انیشیٹیو (پی پی ایچ آئی ) گلگت میں بطور ڈاکٹر کام شروع کیا تھا۔
انہوں نے اسی سال فروری میں ایف سی پی ایس پارٹ ون کا امتحان بھی پاس کیا اور جولائی میں سپیشلائزیشن میں داخلہ کے منتظر تھے۔

صحافی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر رشید ارشد نے اسامہ کی موت پر افسوس کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ "ان کی شہادت نے ہمیں یہ سبق دیاہے کہ وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جو دکھی انسانیت کو بچانے کے لئے قربان ہوتے ہیں۔ موت تو برحق ہے لیکن ایسی موت کا کیا کہنا جس پر انسانیت کو فخر ہو۔۔۔۔اسامہ آپ کی جوانی کی موت پر پوری قوم سوگوار ہے ۔لیکن آپ کی یہ قربانی ہم بھول نہیں سکتے۔”

ہائی ایشیاء میڈیا گروپ شہد ڈاکٹر اسامہ ریاض کے ارتحال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور ان کے غمزدہ والدین اور عزیزو اقارب سے دلی تعزیت اور ہمدری کا اظہار کرتا ہے.

ہم حکومت سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ مرحوم کے والدین کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے گی اور صف اول میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گی.اور ان کے دیرینہ مسائل اور مطالبات کو حل کرنے کے لئے فوری طور پر اقدامات اٹھائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں