نکیال حادثہ میں 4 افراد کی موت پرسیاسی رہنماوں کا اظہار افسوس

سماج بدلو تحریک اور جموں و کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء کی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور نادرہ حکام پر شدید تنقید

بام جہاں رپرٹ

نکیال: فتح پور تھکیالہ ،موہڑہ سے کوٹلی جانے والا کیری ڈبہ پیر نسوڑہ کے مقام پر حادثہ کا شکار 2خواتین اور ایک بچی سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 5افراد شدید زخمی.
پولیس ذرائع کے مطابق کیری ڈبہ (نمبر 591) کھنڈیل پیر نسوڑہ پہاڑی پر سینکڑوں میٹر گہری کھائی میں جا گری۔ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو لٹیری کے لوگوں نےکھائی سے نکال کر مقامی ہسپتال منتقل کیا. جبکہ ایک شدید زخمی عورت کو کوٹلی منتقل کر دیا گیا.جاںبحق افراد کا تعلق موہڑہ دھروتی سے ہےاور وہ شناختی کارڈ بنوانے جا رھے تھے ۔

جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماء شیر نواز ایڈووکیٹ نے اس حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا بھی اظہار کیا .

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی، پبلک رائٹس موومنٹ اور کمپئین فورم "سماج بدلو تحریک” کے زیر اہتمام نکیال کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے مشترکہ جدوجہد کر رہے ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اتحاد دو سالوں سے نکیال میں نادرہ آفس کی منتقلی کے بارے میں احتجاج کر رہے ہیں. لیکن افسوس کا مقام ہے ابھی تک اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی.

اگر اس اہم عوامی مسئلہ کو حل کیا جاتا تو شائد یہ قیمتی جانیں ضائع نہیں ہوتیں.

اپنی تحریک کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہم نے سب سے پہلے نادرہ کے متعلقہ ادارہ کو درخواست دی،اس کے بعد سوشل میڈیا پر مہم چلائی. اس کے بعد دستخطی مہم چلائی اور3،500 لوگوں کے دستخط لئیے.

ایڈووکیٹ شیر نواز کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام ذرائع مثلا احتجاج، بھوک ہڑتال، دھرنا، اور پمفلیٹ و تمام قومی اخبارات کے ذریعے اس مسئلہ کو اجاگر کئے.

"ہم نے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر، وفاقی وزیر فواد چوہدری اور وزارت داخلہ و نادرہ اسلام سیکرٹریٹ کو درخواستیں لکھیں؛ نکیال کے موجودہ و سابقہ وزراء، اور تمام ضلعی و تحصیل انتطامی سربراہوں اور اہلکاروں بشمول چیف سیکرٹری سے تفصیلی ملاقات کر کے لوگوں کے مشکلات سے انہیں آگاہ کیا. انہوں نے وعدہ کیا کہ ایک ماہ کے اندر نادرہ افس منتقل کر دیا جائے گا ۔ لیکن دو سال گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔”

اے جے کے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما نے اس حادثہ کی ذمہ دار ی نکیال کے موجودہ و سابقہ وزراء، انتظامیہ سمیت آزاد کشمیر کی حکومت و ریاست پاکستان بلخصوص چیف سیکرٹری بھی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ عوام سے ٹیکس لیتے ہیں اور خرد برد کرتے ہیں لیکن عوام کی سہولت کے لئے کوئی کام نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جبکہ ان کی سماج بدلو تحریک نکیال کے اہم عوامی مسائل مثلا پانی کے لئے اواز بلند کر رہی ہے، ایک مخصوص جماعت جو اپنے آپ کو مذہب کا ٹھیکدار سمجھتا ہے اور غیرت برگیڈ کے چندعناصر سماج بدلو تحریک کے خلاف غلیظ اور گٹھیا مہمچلا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی تحریک نے عورتوں کے مشکلات کو وڈیو اور فوٹو کی شکل میں سوشل میڈیا پر شائع کیے تو ان حکمرانوں اور اسٹبلشمینٹ کے کاسہ لیسوں نے تحریک کے خلاف مہم شروع کیا اور گھٹیا زبان استعمال کئے.

انہوں نے سوال کیا کہ ان چار انسانوں کے قتل کا ذمہ دار کون ہے؟ انہوں نے ان عناصر پر سخت تنقید کیں جو لوگوں کو مذہب، برادری، اور پارٹی کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں اور تعصب و نفرت پھیلاتے ہیں اور بیوروکریسی اور حکمران طبقوں کی کاسہ لیسی اور سہولت کاری کرتے ہیں اور مسائل کو اجاگر کرنے میں بنیادی رکاوٹ بنتے ہیں
ایڈووکیٹ شیر نواز نے خبردار کیا کہ اب سماج بدلو تحریک نکیال کسی مسیئلہ پر خاموش نہیں رہے گی اور جدوجہد جاری رکھے گی اور جو عناصر ان مسائل کے ذمہ دار ہیں ان کو بے نقاب کرے گی اور عوامی کٹھرے میں لا کحڑا کرے گی.
انھوں نے تمام باشعور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پارٹی سے بالا تر ہو کر اس تحریک کے ساتھ جڑیں اور مسائل جدوجہد کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں