نگر میں برفانی چیتا کا شکارکرنے کے جرم میں پانچ افراد کو جیل بھیج دیا گیا

دو افراد کو دو دو سال قید اور پچاس پچاس لاکھ روپے کا جرمانہ اور دو دیگر افراد کو ایک ایک سال قید اور جرمانہ جبکہ ایک شخص کو ایک ماہ کہ سزا ہوئی ہے

بام جہاں رپورٹ

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات مجسٹریٹ نے پانچ افراد کو معدومیت کے شکار برفانی چیتا کو شکار کرنے پر سزا سنائی ہے اور جیل بھیج دیا ہے.
ان افراد کو 2 اگست کو ہوپر نگر میں ایک برفانی چیتا کا شکار کرنے کی جرم میں سزا سنائی گئی ہے.
تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز پانچ اگست کو ڈی ایف او وائلڈلائف ہنزہ نگر/وائلڈلائف میجسٹریٹ جبران حیدر نے سرسری سماعت کے بعد محمد سلیم اور محمد ساکنان ہوپر نگر کو دو دو سال قید اور پچاس لاکھ روپے فی کس جرمانہ کی سزا سناکر جیل بھیجدیا گیا. عدم ادائیگی جرمانے کی صورت میں مجرموں کو مزید چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔

مجسٹریٹ نے دو دیگر لوگوں کو ایک ایک سال قید اور جرمانے کی سزا جبکہ ایک شخص کو ایک ماہ قید کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔

محکمہ جنگلی حیات کے ذرائع کے مطابق دو اگست کو مخبر نے خادم عباس کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف گلگت بلتستان کو اس واقعے کی اطلاع دی تھی. جس پر انہوں نے ڈی ایف او وائلڈلائف ہنزہ و نگر کو فوری کاروائی کرنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے مبینہ شکاری کے متعلق مختلف سوشل میڈیا اور دیگرذرائع کو استعمال کرتے ہوئے معلومات اکھٹا کیا اور مشکوک لوگوں کے گرد گھیرا تنگ کی.اور ان کے مشترکہ دوستوں کا بھی سراغ لگا کر اصل مجرم تک پہنچ گئے۔

بعد ازاں نگر پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی مدد سے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے. ٹیم نے ملزم کے تین دیگر ممکنہ جگہوں پر بھی چھاپے مارے. لیکن ملزم پولیس کو جل دینے میں کامیاب ہوا.

آخرکار اس کے والد اور بھائیوں کی مدد سے مجرم کو پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے. دوران تفتیش اس نے مزید چار ساتھیوں کے نشاندہی کی جس پر پولیس نے ان لوگوں کو بھی مختلف مقامات سے گرفتار کرکے شامل تفتیش کیا.

سیکریٹری جنگلات جنگلی حیات و ماحولیات گلگت بلتستان نے تمام اداروں کے سربراہان کا بہترین تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے اپنئ کوشیشیں اور باہمی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی جنگلی حیات کی غیر قانونی شکار اورقدرتی جنگلات کی غیرقانونی کٹائی اور سمگلنگ پر قابو پایا جاسکے۔

انہوں نے اس موقع پر شاندار کارکردگی دکھانے پر اس آپریشن میں حصہ لینے والے محکمہ جنگلی حیات ہنزہ نگر کے تمام عملہ خصوصا ڈی ایف او جبران حیدر، آر ایف او رومان غیاث، آر ایف او نیک عالم اور دیگر عملہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور انہیں شاباش دیا ہے۔

یاد رہے برفانی چیتا معدوم ہونے والے جنگلی حیات میں شمار ہوتا ہے. اس کی تعداد پاکستان میں تقریبآ 400 رہ گئی ہے. ہوپر کو برفانی چیتا کا مسکن سمجھا جاتا ہے اور اس کو کنزرویشن ایریا قرار دیا گیا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں