ٹرانسپورٹرز کی اپر چترال انتظامیہ کے جاری کردہ کرایہ ناموں کو پاؤں تلے رونڈ ڈالا

ٹرانسپورٹرز کی اپر چترال انتظامیہ کے جاری کردہ کرایہ ناموں کو پاؤں تلے رونڈ ڈالا
کریم اللہ
اپر چترال ضلعی و تحصیل انتظامیہ نے ڈرائیور برادری کے ساتھ مل کر ضلع کے کونے کونے کے لئے کرایہ ناموں کا اجرا کیا تھا ساتھ ہی یہ تاکید بھی کی گئی تھی کہ سارے ڈرائیور کرایہ نامہ اپنی گاڑیوں میں آویزان کرنے کے پابند ہونگے ۔ مگر انتظامیہ کا یہ فیصلہ محض سوشل میڈیا تک محدود رہا اور دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باؤجود بھی ان کرایہ ناموں پر عمل درآمد کرنے یا کرانے کی نوبت نہیں آئی اس کے علاوہ مختلف جگہوں میں غیر قانونی اڈھ بنا کر عوام کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ کسی ایک ڈرائیور نے بھی اپنی گاڑی میں کرایہ نامہ آویزان نہیں کیا۔ مثلا بونی ٹو ریشن سرکاری کرایہ 100 روپے فی مسافر جبکہ ڈرائیور حضرات 150 روپے فی مسافر کے حساب سے لے رہے ہیں اسی طرح بونی ٹو پرواک پائین 80 روپے جبکہ پرواک بالا کا کرایہ 100 روپے مقرر کیا گیا ہے مگر ڈرائیور حضرات پورے پرواک کے لئے 150 روپے فی مسافر کے حساب سے لے رہے ہیں۔ اسی طرح بونی ٹو مستوج بازار 150 روپے سرکاری کرایہ جبکہ ڈرائیور 200 سے 250 روپے لے رہے ہیں بونی ٹو چپاڑی اور کارگن کا کرایہ 190 اور 200 روپے مقرر ہے جبکہ ڈرائیور حضرات 300 روپے فی مسافر کے حساب سے لے رہے ہیں۔ اسی طرح پورے اپر چترال تورکہو، موڑکہو ، یارخون اور ڑاسپور کے ڈرائیور حضرات بھی من پسند کرایہ وصول کررہے ہیں ۔
سماجی حلقے ڈی سی اپر چترال اور پورے انتظامیہ سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر ان کرایہ ناموں پر عمل درآمد نہیں کروانی تھی یا اس کے لئے اقدامات نہیں اٹھا سکتے تو پھر ان کرایہ ناموں کو جاری کرنے کا مقصد کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں