‘پارلیمانی آرکائیوز کا شعبہ قائم کیا جائے’

بام جہان رپورٹ

اسلام اباد: ایک غیر سرکاری ادارہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں نئی نسل اور محققین کو ملک کی پارلیمانی تاریخ سے روشناس کرانے اور جمہوری اداروں پر تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے پارلیمانی آرکائیوز کا شعبہ قائم کیا جائے جو پارلیمانی تاریخ اور جدوجہد سے متعلق دستاویزات کو محفوظ بنا سکے تاکہ محققین، طلباء اور سیاسی کارکن اس سے استفادہ حا صیل کر سکیں.

آرکائیوز کے عالمی دن کے موقع پر جو 9 جون کو منایا جاتا ہے، پارلیمانی ریسرچ گروپ کے کنوینر ظفر اللہ خان نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ دستور ساز اسمبلی کے اراکین کے جس رجسٹر پر بانی پاکستان قائد اعظم ًمحمد علی جناح نے 10 اگست 1947 کو دستخط کئے تھے اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا. کہا جاتا ہے کہ جب 1962 میں ڈھاکہ کو پارلیمانی دارلحکومت بنایا گیا تھا تو سارا ریکارڈ وہاں بھیج دیا گیا تھا.

ظفر اللہ خان جن کو پارلیمانی تاریخ سے دلچسپی ہے اور اس پر گہری نظر رکھتے ہیں، نےمطالبہ کیا کہ یہ ریکارڈ یونیسکو کی مدد سے واپس حاصیل کیا جانا چاہئیے.
اگرچہ پارلیمانی اداروں کی ایوان میں ہونے والی کاروائی 100 فی صد دستاویز کی شکل میں محفوظ ہے . قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر 1947 سے اب تک کی کاروائی جب کہ سینیٹ آف پاکستان کی 2009 کے بعد کی کاروائی ڈیجٹل صورت میں میسر ہے.

انہوں نے کیا کہ صوبائی اسمبلیوں کو بھی اپنے اپنے موثر پارلیمانی آرکائیوز بنانے چاہئے.

پارلیمانی ریسرچ گروپ نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی اسلام آباد میں عمارت جہاں 1973 کا آئین منظور ہوا تھا کو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا میوزیم بنایا جائے.
گروپ کا کہنا ہے کہ "میوزیم اور آرکائیوز قوم کو اس کی سچی تاریخ بتاتے ہیں تاکہ قومی امنگوں کے ترجمان سفر کی کہانی ہماری یاد داشتوں سے غائب نہ ہوجائے، اور نئی نسل کو پڑھنے، دیکھنے اور سیکھنے کا موقع ملے.”

اپنا تبصرہ بھیجیں