پاکستان: مزدوروں کی ہلاکت، داسو ڈیم کی تعمیرعارضی طور پربند


صوبہ خیبر پختونخواہ کے حساس ضلع کوھستان میں پیر اور منگل کی درمیانی شب لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں مصروف چین کی کمپنی میں کام کرنے والے آٹھ مزدوروں کی ہلاکت کے بعد مشتعل قبائل نے داسو ڈیم پر ہر قسم کا کام روک دیا ہے۔

مزدوروں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد مشتعل عوام نے شاہراہ قراقرم کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے دھرنا دے کر بند کردیا تھا جس کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو تیز بارش شروع ہونے کے بعد کھول دیا تھا۔

داسو میں موجود جرگہ کے ارکان اور انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات میں شریک محمد حفیظ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آٹھ مزدوروں کے مٹی کے تودوں کے تلے دب کر ہلاک ہونے کے بعد احتجاج شروع ہوا جس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی جو کہ قبول کرلی گئی۔
ان مذاکرات میں مقامی جرگے کا مطالبہ تھا کہ ہلاک ہونے والے ہر ایک مزدور کے لواحقین کو 40 لاکھ روپے اور ان کے خاندان کے دو افراد کو سرکاری ملازمتیں دی جائیں، مگر انتظامیہ کی جانب سے نو لاکھ روپیہ فی کس اور ملازمتوں کے حوالے سے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔ جس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس موقع پر ہم نے انتظامیہ سے کہا تھا کہ شاہراہ قراقرم پر ٹریفک بلاک ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے جو ہم نہیں چاہتے اس لیے ٹریفک کھول رہے ہیں مگر داسو ڈیم پر کسی قسم کا کام نہیں ہونے دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جرگے کے اراکان نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس سے پہلے کہ مشتعل لوگ داسو ڈیم پر جاری کام روکنے کے لیے پیش قدمی کریں انتظامیہ خود ہی کام بند کر دے۔ جس کے بعد انتظامیہ نے خود ہی کام بند کردیا تھا۔

جرگے نے کہا کہ داسو ڈیم پر اُس وقت تک کام بحال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک مزدوروں کے مطالبات تسلم نہیں کرلیے جاتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمیلہ کوھستان میں مکمل شٹ ڈاؤن ہے تاہم سڑک کھول دی گئی ہے۔

جرگے کی قیادت کرنے والے مقامی امام مسجد مولاناعطاء الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کرنے والے ادارے ورلڈ بینک نے ڈیم کی تعمیر کے لیے کچھ شرائط رکھی ہوئی ہیں جس میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ متبادل روڈ اور دیگر تعمیراتی کاموں کے دوران نکلنے والے ملبے کو دریا میں نہیں ڈالا جائے گا اور نہ ہی آبادیوں اور سڑک کے کنارے چھوڑا جائے گا جبکہ عملاً صورتحال یہ ہے کہ سارا ملبہ دریا میں پھینک دیا جاتا ہے اوراسی طرح سڑک کے کنارے پر ملبے کا ڈھیر پڑا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کے اس بارے میں متعلقہ حکام سے درجنوں مرتبہ شکایات کی گئی ہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی یہاں تک کہ جب ورلڈ بینک کی ڈیم کے معائنہ کے لیے داسو پہنچتی ہے تو اس کو بھی عوام سے دور رکھا جاتا ہے اور اب یہ صورتحال ناقابل برداشت ہے اور اس پر ٹھوس اقدامات کے بغیر مقامی لوگوں کا احتجاج ختم نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ مزدووں کی ہلاکت کا واقعہ بھی اسی وجہ سے پیش آیا تھا کہ مذکورہ پہاڑ غیر محتاط انداز میں کھدائی اور بلاسٹنگ کی وجہ سے کمزور ہوچکا تھا اور اس حوالے سے بار بار شکایات بھی کی گئی تھیں مگر کسی نے توجہ نہیں دی اور یہ حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں قبائل میں اشتعال پھیل گیا۔

سابق ناظم یونین بڑھیا کوھستان محمد افضل کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ہلاک ہونے والے مزدور کام کے بعد واپس گھروں کو جارہے تھے کہ کھدائی اور بلاسٹنگ سے کمزور ہوجانے والے پہاڑ سے مٹی کے تودے گرنے لگے جس کے ساتھ ملبہ بھی تھا اور اس میں دب کر آٹھ مزدور ہلاک ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رات کا واقعہ تھا جب مزدور اپنے گھروں کو نہیں پہنچے تو ا ن کے رشتہ دار ان کی تلاش کو نکل پڑے تھے۔

لینڈ سلائیڈنگ کے نیچے دبنے والے مزدوروں کی لاشیں کئی گھنٹے بعد اس وقت برآمد ہوئیں جب روڈ کھولنے کے لیے لینڈ سلائیڈنگ کو ہٹانے کے لیے بھاری مشنیری لائی گئی اور اس کے نیچے کار میں دبے ہوئے آٹھ مزدوروں کی لاشیں بر آمد ہوئیں۔

محمد افضل کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ غیر محتاط تعمیرات کا نتیجہ ہے۔

محمد امجد نے، جس کے اس واقعہ میں چار قریبی عزیز دادا، ماموں ، بھائی اور خالہ زاد بھائی ہلاک ہوئے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ہمارے علاقے میں کہرام مچا ہوا ہے۔ ہمارے پیارے مزدوری کرنے گئے تھے اور اسی مٹی میں دب کر ہلاک ہوگے جس کو انھوں نے کھودا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج کسی بھی صورت میں ختم نہیں ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر داسو حمید اﷲ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک بڑے واقعے کے بعد جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوجائیں روڈ کا کھل جانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کی طرف سے غیر محفوظ تعمیراتی کام اور ملبے کی وجہ سے مشکلات کی شکایات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور واپڈا بھی اس سلسلے میں کارروائی کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واپڈا نے ڈیم پر ہر قسم کا کام لوگوں میں اشتعال پھیل جانے کی وجہ سے عارضی مدت کے لیے خود ہی بند کردیا ہے اور کام بند ہونے کی دوسری وجہ علاقے میں شدید بارش کا ہونا بھی ہے۔

ان کا دعوی تھا کہ جلد ہی مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے جس کے بعد دوبارہ داسو ڈیم پر کام شروع ہوجائے گا اور مقامی لوگوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پاکستان کے لیے اہم ترین سمجھا جانے والا پانی ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ہے جو کہ اسلام آباد سے 350 کلومیٹر دور صوبہ خیبرپختونخواہ کے آخری ضلع کوھستان میں دریائے سندھ پر تعمیر کیا جارہا ہے۔

یہ ڈیم بھاشا دیا میر ڈیم کے مجوزہ مقام سے 74 کلو میٹر جنوب کی جانب واقع ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر کا ابتدائی کام شروع ہے جس میں اس وقت ڈیم کی زد میں آنے والے شاہراہ قراقرم کے روڈ کی متبادل مقامات پر تمعیر کا کام جاری ہے۔

ڈیم کی افتتاحی تقریب 2014 میں منعقد ہوئی تھی جبکہ گزشتہ سال اس پر باقاعدہ کام شروع کیا گیا اوراس کا ٹھیکہ چین کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے۔

منصوبے کے حوالے سے سرکاری ذرائع کا دعوی ہے کہ 2023 میں تقریبًا پانچ ارب ڈالر سے اس ڈیم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگا تو اس سے پاکستان کو 4320 میگا واٹ بجلی حاصل ہوگئی جبکہ دوسرے مرحلے کے مکمل ہونے پر مجموعی طور پر 5400 میگا واٹ بجلی حاصل ہوسکے گئی۔ مجموعی طور پر یہ ڈیم 242 میٹر اونچا ہوگا جس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1410 کیوبک میٹر ہوگئی۔

ڈیم کے لیے ورلڈ بینک سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے امداد فراہم کررہے ہیں جس میں ورلڈ بینک 72 کروڑ ڈالر فراہم کررہا ہے جبکہ چین اور دیگر ذرائع سے ملنے والی امداد بھی اس میں شامل ہے۔

بشکریہ بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں