پاکستان مسلم لیگ ن کی سرپرستی میں محتلف سیاسی پارٹیوں کا جلسہ، چترال میں ن لیگ کی منظور شدہ میگا پراجیکٹ کی بندش کی مذمت

چترال(گل حماد فاروقی) پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے زیر اہتمام گول دور چوک میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت محمد کوثر ایڈوکیٹ صدر پی ایم ایل این سب ڈویژن چترال کررہے تھے۔ جلسہ میں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عبد الولی خان ایڈوکیٹ نے موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں پرکھڑی تنقید کی کہ اس سیلیکٹد وزیر اعظم نے ملک کی معیشت کو تباہی کے کنارے کھڑا کردیا۔انہو ں نے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں گرم چشمہ روڈ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالہ کرکے اس کیلئے 8 ارب روپے بھی منظور ہوکر اس کی ٹنڈر ہوا تھا اور ٹھیکدار نے کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیا مگر جونہی نواز شریف کی حکومت حتم ہوگئی تبدیلی سرکار نے اس منصوبے کو بند کیا۔
اس کے علاوہ چترال کیلئے نواز شریف کے دور میں گیس پلانٹ کا منصوبہ منظور ہوا تھا جس کا افتتاح بھی شاہد حاقان عباسی سابق وزیر اعظم نے کیا تھا مگر موجودہ حکومت نے اسے بھی بند کیا اور یہاں کے لوگ اب کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات تیزی سے حتم ہورہے ہیں اور آئے روز سیلاب کی شکل میں تباہی مچتی ہے۔ اگر چترال کیلئے گیس پلانٹ بروقت تیار ہوتا تو یہاں کے لوگ جنگلات پر کم سے کم انحصار کرتے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء محمد اسماعیل خان سرحدی، جمعیت علمائے اسلام کے سابق امیر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مولوی عبد الرحمان، پی ایم ایل این کے صفت ذرین اور محمد کوثر ایڈوکیٹ نے اظہار حیال کرتے ہوئے واضح کردیا کہ نواز شریف دور میں ہونے والے منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کی جائے اور اس پر مظالم بند کی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے آزادی مارچ میں بھر پور شرکت کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بعد میں ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور ہوا۔ قرارداد کے ذریعے نواز شریف کی تشویش ناک حالت کی پیش نظر اسے بیرون ملک علاج کی منظوری کا مطالبہ کیا گیا۔حکومت نواز شریف کے ساتھ ہونے والے مظالم بند کرے اور اسکو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرے۔
قرارداد کے ذریعے عمران خان سے فوری استعفےٰ کا مطالبہ کیا گیا کہ وہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور ملک کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے اس کی استعفے ٰ ضروری ہے۔ ملک میں تاجر دشمن اور عوام دشمن پالیسیون پر بھی تنقید کی گئی۔
قرارداد کے ذریعے کیپٹن صفدر اور دیگر رہنماؤں کو فوری رہا کی جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ آزادی مارچ میں بھر پور شرکت کی یقین دہانی کرائی کی گئی۔ جلسہ میں پر امن سیاسی کارکنوں اور سیاسی قائدین کو ہراساں کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
بعد میں یہ جلسہ مولوی عبد الرحمان کی دعائیہ کلمات سے پر امن طور پر منتشر ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں