پتاک کی تہوار

زیب قرطاس

تحریر: شیرجہان ساحل


ہر سال فروری کی پہلی اور دوسری تاریخ کو گرم چشمہ چترال کے مخصوص حد بندی کے اندر پتاک تہوار منایا جاتا ہے جووسط الیشیاءکے عظیم شاعر اور مدبیر سیدنا پیر ناصر خسرو (رحمتہ اللہ علیہ) کے بتائے ہوئے رسم کا حصہ ہے۔ پتاک سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نشانی یا علامت کے ہیں۔ پتاک تہوار کو مناتے ہوئے گھروں میں ایک خاص نشان لگایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ چلہ جو کہ سخت سردی یعنی 21 دسمبر سے 31 جنوری تک کا عرصہ ہوتا ہے جسے چلہ قرار دیا گیا ہے یعنی اس سخت سردی سے بچ نکلنے کے بعد پتاک لگا کر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ابو معین حامدالدین ناصر خسرو جو لعل بدخشان کے کہلاتا 28 اگست 1004کو تاجکستان کے شہر قبادیان میں پیدا ہوٰے اور 1088 میں افغانستان کے صوبہ بداخشان میں وفات پا گٰیے.
وہ ایک عظیم شاعر، سیاح، فلسفی، مورخ اور مسلم اسکالر کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔آن کی شاعری آرٹ اور فلسفہ کا خوبصورت امتزاج ہے. ان کے فارسی کلام اور فلسفہ اور حالات زندگی کے بارے مین آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر Alice C. Hunsberger کئ کیتاب NASIR KHUSRAW — The Ruby of Badakhshan, A Portrait of the Persian Poet, Traveller and Philosopher نے 2000 میں لندن سے چھاپی ہے.
ایک روایت کے مطابق پیر ناصر خسرو گرم چشمہ خود تشریف لائے اور اسلام کی تبلیغ کیں ۔ آن کی زیارت گرم چشمہ میں موجود ہے جہاں ہر وقت زائرین کے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں