پختونخواء اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا مستقبل

تحریر:کریم اللہ

پنجاب اورخیبر ُختونخواء میں بلدیاتی اداروں کو ختم ہوئے ایک سال بیت چکے ہیں۔ مگر دوبارہ انتخابات کی نوبت نہ آئی اگر انتخابات کرنا ممکن نہ تھا تو ان اداروں کو ختم کرنے کی ضرورت کیا تھی۔۔۔؟ قانونی لحاظ سے کسی بھی جمہوری ادارے کو تحلیل کرنے کی صورت میں تین سے چھ ماہ کے اندر اندر دوبارہ انتخابات ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم عمران خان ان دنوں کے پی اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات پر زور دے رہے ہیں کیا موجودہ ایمرجنسی جیسی صورتحال میں پنجاب اور کے پی میں بلدیاتی انتخابات ممکن ہے۔۔۔۔؟؟
اس وقت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی بھی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرنے والی ہے کیا حکومت وقت اس اسمبلی کو تحلیل کریں گے۔ ایسا کرنے کی صورت میں تین سے چھ ماہ کے اندر الیکشن کا انعقاد ضروری ہے. کیا کرونا وباء کے اس پھیلاؤ میں گلگت بلتستان اسمبلی کے لئے انتخاب ممکن ہے۔۔۔؟؟
زمینی حقائق یوں ہے کہ نہ تو پنجاب و کے پی میں بلدیاتی انتخابات کروانا ممکن ہے اور نہ ہی گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا الیکشن ممکن۔
ایسی صورت میں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی مدت میں چھ سے ایک سال کا اضافہ کیا جائے بجائے نگران سیٹ اپ پر انحصار کرنے کے۔
اگر جی بی اسمبلی تحلیل کردیا گیا تو اس کا نتیجہ کے پی اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں جیسی ہوگی ایک سال تک انتخابات التواء میں رہیں گے جو کہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ سراسر مذاق کے مترادف ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں