پرانا یاسین اور نیا یاسین..

تحریر: صلاح الدین

میں نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں جو شاید میری زندگی کے سب سے اچھے اور میرے آبائی گاؤں یاسین کے پہچان تھے… ہو سکتا ہے اُس سے پہلے کا دور اور بھی خوبصورت اور مثالی ہوں لیکن میں زیادہ پیچھے نہیں جانا چاہتا ہوں. صرف اس دور کا ذکر کروں گا جو میں نے خود دیکھاہے.

نوے کی دہائی میں میں نے اپنے گاؤں میں جو دیکھا وہ اب یکسر تبدیل ہوگیا ہے. مجھے اپنے علاقے کی ثقافت، رہن سہن، لوگوں کے بات کرنے کا انداز، لوگوں کی سادگی اور ان کے رویوں میں بہت زیادہ تبدیلی نظر آتی ہے. مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب محلے کے بچوں کا مل کر کھیلنا، محلے کے بزرگوں کا ایک جگہ اکھٹے کر گپ شپ کرنا، نوجوانوں کا اپنے بڑوں کا احترام کرنا، نوجوانوں کا گھر والوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانا،ایک دوسرے کی مدد کرنا وغیرہ

میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوں گا کہ لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں بہت تبدیلی رونما ہوئی ہے. مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب لالک جان شہید ہوئے تو پاکستان نے ان کی بہادری کے اعتراف میں پاکستان کے سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا. اس موقع پر پورے گلگت سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے یاسین کا رخ کیا تھا. ہمارے لوگوں نے دیگر علاقوں سے آنے والے مہمانوں کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا تھا.

ان دنوں یاسین میں پکی سڑک نہیں بنی تھی، بہت پسماندگی تھی.لیکن لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے. ایک دوسرے کے لیے دلوں میں نفرتیں نہیں تھیں. جب روڈ بنا تب سے یاسین میں آہستہ آہستہ ہر طرح سے تبدیلی آنے لگی۔ لوگوں کی آمدو رفت آسان تو ہوگیا لیکن رویوں میں سردمہری آنے لگی.

تب دل میں ایک خواہیش تھی کہ یاسین بھی ایک دن شہر بن جائے اور ہر قسم کی سہولیات میسر ہوں۔ لیکن صرف ہم وقتی فائدے کے بارے میں ہی سوچتے تھے. لیکن ان مسائل کا کسی کو خیال نہیں آیا تھا جو آنے والے میں ہمیں سامنا کرنا تھا۔جوں جوں دن گزرتے گئے یاسین میں ہونے والی تبدیلی نے اپنا رنگ دکھنا شروع کردیا۔
فائدے کم اورمسائلِ زیادہ سامنے آنے لگے. علاقے کے لوگوں کی رہن سہن پہلے جیسی نہیں رہی، محلے کے بچے گھروں تک محدود ہونے لگے،
نوجوانوں کا گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا ختم ہوگیا، محلے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا رواج بھی ختم ہوتا گیا. خودکشی، قتل، چوری جیسی واردات میں آئے روز اضافہ ہوگیا. لوگوں نے ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا تو دور کی بات لوگ اپنی خوشی کی بات بھی دوسروں سے شیئر کرنا چھوڑ دیا.

میں تو ایسی تبدیلی کے حق میں تھا جو لوگوں کےمسائل کو دور کرتا. میں سوچتا ہوں کہ اس دور میں علاقے کے نوجوانوں میں برداشت کا مادہ کیوں ختم ہوتا جاتا ہے؟ بچے اپنے مسائل اپنے والدین کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کرتے؟ نوجوان اپنی زندگی کے چراغ کو اپنے ہاتھوں کیوں گل کرتے ہیں؟

میں آج اس یاسین کی تلاش میں ہوں جب خوشی کا موقع ہو کہ غمی کا پورا محلہ اکھٹا ہوجاتا تھا. لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے تھے اور مسائل کو مل جل کر سامنا کرتے تھے اور حل بھی ڈھونڈ نکالتے تھے. بدقسمتی سے آج ہم کہیں سیاست، کہیں قوم، کہیں لسانیت اور کہیں مذہب کے نام پر تقسیم در تقسیم ہیں.نوجوانوں کو آگے بڑھ کر ان نفرتوں کو مٹانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں