پروگریسیو اسٹوڈینٹس فیڈریشن کی KIU کے ظلباء سے اظہار یکجہتی

قراقرم آنٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلباء فیسوں میں اضافہ، اور دیگر تعلیمی حقوق کے لیے احتجاج

بام جھان رپورٹ

پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی آر ایس ایف) اسلام آباد۔ راولپنڈی نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے جو گلگت بلتستان کے واحد اعلی تعلیی ادارہ میں فیسوں میں اضافے کے خلاف شاہراہ قراقرم پر احتجاج کر رہے ہیں۔
پی ار ایس ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے طلباء اور نوجوانوں کو سستی اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں غفلت برتنے والے نظام اور حکمرانوں سے نجات پانے کے لئے جدوجہد کرنا چاہیے.

فیسوں میں حالیہ اضافے نے جی بی کے مقامی متوسط ​​طبقے کے طلبا کے لئے تعلیم کو ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بڑی تعداد کی عدم موجودگی ، معیاری تعلیم اور فیسوں میں اضافے نے جی بی کے طلباء خصوصا ایسی خواتین طالب علموں کو جو بہت زیادہ سفر نہیں کرسکتے ہیں کے لئے بہت ساری پریشانیوں کا باعث بنا ہے۔
پی آر ایس ایف نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے احتجاج میں شامل ہونے کے خواہشمند طلبا کو دھمکی دینے کی مذمت کی ہے۔
پی آر ایس ایف اسلام آباد۔ راولپنڈی حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ جی بی میں اعلی تعلیم کے لئے مناسب فنڈ مختص کی جائے اور فیسوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لیا جائے.
گلگت بلتستان میں عوام کے لئے سستی اور معیاری تعلیم کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ اعلی تعلیمی ادارے جلد از جلد قائم کریں۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) کے طلباء و طالبات کی ایک بہت بڑی تعداد نے پیر کے روز اپنے مطالبات کے حق میں ایک زبردست مظایرہ کیا اور گلگت شہر کے مظافات دنیور کے مقام پر قراقرم ہائی وے کو بند کردیا اور نعرے بازی کیں.۔ان کے بنیادی مطالبات میں 2011ء کے وزیر اعظم فیس معاوضہ اسکیم کی بحالی، فیسوں میں اضافہ کی واپسی، ہوسٹیل اور ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کی فراہمی شامل ہیں.

موجودہ حکومت نے 2011ء کے وزیر اعظم فیس معاوضہ اسکیم کو ختم کیا. جس کے نتیجے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافہ کیا. اس فیصلےسے گلگت بلتستان میں ماسٹرز ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے 950 سے زیادہ طلباء و طالبات متاثر ہوئے ہیں.
.طلباٰ کا کہنا تھا کہ صدرپاکستان عارف علوی کی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے لیے 2011 میں جاری کی گئی Fee Reimbursement Scheme کو بحال کریں گے تاہم ایسا نہ ہوسکا۔اس کے خلاف گزشتہ کئی ہفتوں سے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں قراقرم یوتھ فورم کے بینر تلے طلباء وقتا فوقتا احتجاج کر رہے ہیں. لیکن ایسا لگتا ہے کہ 29 نومبر کے ملک گیر طلباء یکجہتی مارچ نے ان کے اندر ایک نئے جان ڈال دی ہے. اور ان کو حوصلہ ملا ہے.
ایک خاتون اسٹوڈینٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کیہ آج ہم حکمرانوں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے جامعہ سے باہر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں.
طلباء رہنماءوں نے اپنی تقریروں میں موجودہ ھکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں اور مقامی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ ان کے مطالبات کو فورا منظور کیا جاے بہ صورت دیگر وہ بڑی شاہراوں کو بند کریں گے.

این ایس ایف گلگت بلتستان نے بھی قراقرم یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے اور اپیل کی کی گلگت بلتستان کے تمام ترقی پسند قوم پرست طلباء تنظیمیں متحد ہو
کر جدوجہد کرٰیں.

چیلاس

محکمہ تعلیم کی جانب سے بچیوں کیلئے خاتون ٹیچر فراہم نہ کرنے کے خلاف دیامر کی خواتین بھی میدان میں اتر آئیں۔انھوں نے گرلز پرائمری سکول کھرتلوٹ میں خاتون ٹیچر نہ ہونے پر احتجاجاً سکول پر تالا لگا کر بند کردیاگیا. سکول میں زیر تعلم طالبات نے بھی احتجاج کرکے محکمہ تعلیم دیامر کے خلاف شدید نعرہ بازی کی. اس سکول میں تعینات تین فیمل ٹیچر چلاس اور گلگت شہر میں رہائش پذیر ہیں اور اپنی جگہ دوسروں کو سکول میں تعینات کروائے ہیں ان کو انگلش اور سائنس کی کتابیں پڑھانی نہیں آتی.
انحوں نے دھمکی دی کہ جب تک سکول میں تعینات ٹیچر خود اپنے فرائض صحیح طرح انجام نہیں دیں گے سکول بند رہے گا۔
والدین نے کہا کہ گھر بیٹھ کر تنخواہیں لینے والی آساتذہ با اثر شخصیات کی بیٹیاں اور بیوئیاں ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے. آنھوں نے وزیر اعلی اور محکمیہ تعلیم کے اعلی حکام سے اپیل کیں کہ وہ اس کا نوٹس لیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں