جی-بی کے نوجوانوں کے ساتھ پولیس گردی کی مذمت

وزیر آعلی نے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لینے کا حکم صادر کیا.

بام جہان رپورٹ

اسلام آباد: گلگت بلتستان کے مختلیف ترقی پسند قوم پرست سیاسی و سماجی رہنماوں نے لالک ڈاون کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے عام شہریوں، نوجوان کارکنوں، اور صحافیوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور مانسہرہ میں گلگت بلتستان کے بسوں پر پولیس کا دھاوا اور ظلباء کو حراساں کرنے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور حکومت سے ان واقعات کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.

سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو مرغا بنانے اور تشدد کرنے کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں. جس پر لوگوں نے شدید تنقید کیا تھا.

نوجوان وکیل، اور سیاسی کارکن آصف ناجی نے ‘بام جہان’ اور ‘ہائی ایشیاء ہیرالڈ’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حکومتی اہلکار اور قانون کے رکھوالے اس بڑے عالمی بحران اور مصیبت کی گھڑی میں لوگوں کو مدد اور سہولت فراہم کرنے کی بجائے ان کو بد سلوکی کا اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں.
ان کا کہنا تھا کہ "ہم حکومت اور ریاست سے پہلے ان کے کہے بغیر اپنے لوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں اور رضا کارانہ طور پر کورونا وائرس کے خلاف آگاہی مہم چلا رہے ہیں. ایسے وقت میں طلبہ کو مدد فراہم کرنے والےبلتستان اسٹوڈینٹس فیڈریشن (بی.ایس.ایف) کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور سہولت بہم پہنچانے کے ان کو بلا جواز تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.
تفصیلات بتاتے ہوئے ایڈووکیٹ آصف ناجی نے بتایا کہ، بی.ایس.ایف گمبہ سکردو کا صدر جو ہینگس بلاک میں پھنسے طلبہ جو اپنا سامان چھوڑ کر گئے تھے کو ان کے گھروں تک پہنچا رہے تھے تو اس کے ساتھ پولیس نے بد سلوکی کی ہے اور تھانے لے جا کر تشدد کیا ہے ۔

انھوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بحران کے وقت کسی احتجاج کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ اپنا ریلیف آپریشن اور آگاہی مہم جاری رکھیں گے.
ایڈووکئٹ آسف نے پولیس کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پولیس کو حکم دیں کہ وہ خوف و دہشت پھیلانے اور عوام کی تذلیل اور رضا کاروں پر دھونس جمانے اور تشدد کی بجائے ان سے تعاون کریں ان کو سہولیات فراہم کریں. عام لوگوں پر تشدد کرنے کی بجائے ان سے ہمدری سے پیش آئیں اور ان کو اس وباء سے بچنے کیلئے آگاہی دیں.

انھوں نے جی بی حکومت اور پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، پولیس، انتظامیہ، بلدیہ، سالڈ ویسٹ منجمنٹ اور رضا کاروں کو ماسک کٹس اور سینیٹائیزرز مہیا کریں۔

انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئیے کہ فوری طور پر ھنگامی بنیادوں پر غیر ترقیاتی شعبہ سے فنڈ کو صحت کے شعبے کی طرف موڑیں اور ہسپتالوں میں جدید علاج معالجے کی سہولیات فراہم کریں، کرونا ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کریں، اسپتالوں میں فللفور وینٹیلیٹرز کی فراہمی کے لئے اقدامت کریں،دوکانداروں اور عام لوگوں میں مفت ماسک اور سینیٹائیزرز تقسیم کریں، دوکانوں پر جراثیم کش سپرے کریں. ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لالک ڈاون کے دوران معمولات زندگی کو بحال رکھنے کیلئے فری انٹرنیٹ مہیا کریں اور طلبہ کیلئے آن لائن کلاسیں شروع کریں. بینکوں اور دیگر دفاتر کا کام بھی آن لائن کر دیں۔
نوجوان وکیل نے مزدوروں، محنت کشوں اور غریب طبقہ کیلئے مفت راشن کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

ایڈووکیٹ آصف نے گلگت میں چند صحافیوں کے ساتھ بد سلوکی کی بھی مذمت کی اور مطالبہ کیا کی صحافیوں کو معلومات تک آزادانہ رسائی کو یقینی بنایا جائے، ان کو مراعات دیں تاکہ وہ حقائق سے عوام کو باخبر رکھیں.
ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں کسی بھی ادارے کی طرف سے اپنے حدود سے تجاوز کو روکنے کیلئے اور شفافیت کیلئے عدلیہ کو بھی اعتماد میں لیں اور اہم فیصلوں میں شریک کریں.تاکہ وہ پوری صورتحال پر نظر رکھیںاور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو روکیں۔
یہ مشکل وقت ہے انسانیت خطرے میں ہے ایسے وقت میں اپنے مخصوص سیاسی سماجی نظریاتی و ادارہ جاتی خول سے نکل کر ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ مشکلات ضرور ہیں مگر بطور انسان ہم مل کر اس مشکل سے گلگت بلتستان کے لوگوں اور پوری دنیا کو نکال سکتے ہیں۔ جس کیلئے ہم کسی بھی سطح پر کسی بھی صورتحال میں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں. انھوں نے کہا کہ طلبہ کارکن اور ہمدرد پہلے سے ہی حکومت کے کسی مدد کے بغیر کام کر بھی رہے ہیں.

دریں اثناء قراقرم نیشنل موومنٹ نے بھی پولیسگردی کی شدید مذمت کیں.
کے.این.ایم کے رہمن شیر بابو نے ایک پریس ریلز میں گلگت بلتستان کےعوام پر سڑکوں، بازاروں اور کھیتوں میں پولیس کے ہاتوں تذلیل پر افسوس کا اظہار کیااور کہا کہ جو لوگ وبائی مرض کے خلاف اپنے لوگوں کی حفاظت اور راحت کے لئے کام کر رہے ہیں ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انھوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ مانسہرہ پولیس نے مسافروں کی بسوں پر حملہ کیا اور گلگت بلتستان کے ان طلباء کو نشانہ بنایا جنہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں ہاسٹلوں سے بے دخل کیا گیا ہے. حکومت گلگت بلتستان کو چاہئے کہ وہ ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کریں اور قراقرم ہائی وے پر سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
یہ ستم ظریفی ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں جی بی طلباء کورونا وائرس کی اسکریننگ اور حفاظتی سامان کے بغیر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں گلگت بلتستان کے تمام طلبہ اور شہری اپنے آبائی علاقوں کا سفر کرنے سے پہلے اسکریننگ اور ٹیسٹ کریں۔
کے این ایم کے رہمنائ کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دفاعی بجٹ کو کم کر کے صحت، تعلیم اور روزگار کےلئے وسائل کو خرچ کریں۔

پولیس زیادتیوں کے بارے شکایات پر حکومت کا موقوف جاننے کے لئے ہم نے جب گلگت بلتستان کے ترجمان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وزیر اعلٰی نے شہریوں کو لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر سزا دینے کی خبر کا سختی سے نوٹس لیا اور حکام کو حدایت کیں کہ وہ ذکمہ داروں کے خلاف تحقیقات کریں. اس پر ہوم سیکریٹری نے ایکشن لے لیا ہے.
ہوم سیکرٹری محمد علی رندھاوا نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت جاری کردیں ہیں کہ وہ لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر شہریوں کو سزا نہ دے۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں سے نرم لہجے میںگفتگو کریں اور ان کو جسمانی دوری، آئی سولیشن اور لاک ڈاون کے متعلق سمجھایئں،۔

اپنا تبصرہ بھیجیں