پہاڑوں کے درمیان بکھری جنت

تحریر: حسین علی شاہ


اگر خواہش ہو اور اس کو پوری کرنے کی آپ میں ہمت بھی ہو تو کوئی چیز مشکل نہیں۔

میرے والد صاحب کی خواہش بھی ہمیشہ سے شوروغل سے دور قدرت کے حسین مناظر کی آغوش میں کچھ لمحے گزارنے کی ہوتی ہے اس لئے جب بھی وقت ملتا ہے اور صحت ساتھ دیتی ہے تووہ پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔

ضلع غذر کے پہاڑوں کے پیچھے قدرت کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ جہاں کا سبزہ زار دنیا میں شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے۔ آبادی کے بارے میں سوچے تو وہاں موجود بڑے دل والے گڈریوں کے چھوٹے کچے مگر آرام دہ آشیانے ملتے ہیں جو کہ صرف گرمیوں میں آباد رہتے ہیں۔ گائوں میں جب گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے تب یہ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ ان چراگاہوں اور سبزہ زاروں کا رخ کرتے ہیں۔

<%img class=”aligncenter size-full wp-image-6541″ src=”http://baam-e-jahan.com/wp-content/uploads/2020/04/DSC05661.jpg” alt=”” width=”100″ />

چاروں طرف لہلہاتی گھاس ایسے نظر آتی ہے جیسے کسی نے اپنے ہاتھوں سےخوبصورت پھولوں کی کیاری ترتیب دی ہو۔ ہر طرف جا بجا کھلے پھولوں کی وجہ سے فضا مختلف خوشبووں سے معطر رہتی ہے۔ یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں پرندوں کو بھی انسانوں کا خوف نہیں رہتا۔ ہر طرف گونجتی ان کی سریلی آوازیں جب پہاڑوں سے ٹکرا کے لوٹتی ہیں تو دل میں اک عجیب سی رومانیت پیدا کرتی ہیں۔ چھوٹی آبشاروں سے گرنے والا صاف میٹھا پانی پہاڑوں سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے تو پھر ہرطرف ایک موسیقی کا گمان ہوتا ہے۔ سرد ہواؤں کا پہاڑوں کے درمیان سے گزر جانے کی آواز کو باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جب سرد ہوائیں ان چٹانوں سے ٹکراتی ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے سازو سُر کے کسی ماہر نے رباب کے تاروں پہ ہلکے سے انگلیاں پھیری ہوں اور اس کے رباب کی مدھم آواز اس جگہ گونجتی رہتی ہو۔

اونچے پہاڑوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھیلوں کے میٹھے پانی سے جیسے ہی سرد ہواوں کا ٹکرائو ہوتا ہے تو پانی کے اند رارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ سب دھنیں جب مل جاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ شاید کوئی سنگیت کار راگوں میں ڈوب کر کوئی ایسی شاہکار دھن ترتیب دینے کی سعی کر رہا ہو جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے۔ یہ جگہیں غذر کے پہاڑوں کے پیچھے دنیا کی نظروں سے اوجھل نالے ہیں, جہاں کا سفر آپ کے لئے دنوں کا بھی ہو سکتا ہے اور ہفتوں کا بھی۔

گاؤں میں جون، جولائی کی گرمی میں تپتے بدن کو ان نالوں میں گرم رکھنے کے لئے سلیپنگ بیگس کی ضرورت پڑتی ہے۔ میرے ابو ان خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہر سال ان وادیوں میں جاتے ہیں اور وہاں کی خوبصورتی کو جی بھی لیتے ہیں۔

عمر کے 65 برس مکمل کرنے کے بعد آج بھی وہ اس بات پہ قائل ہیں کہ ان جگہوں میں ہی جنت ہے اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ وہاں اتنے دن گزارے کہ دوبارہ وہاں جانے کی خواہش دل میں پیدا ہی نہ ہو لیکن انسان میں خواہش کم کیوں ہوجائے بھلا اور وہ بھی تب جب آپ پہاڑوں کے دامن میں رہتے ہوں اور آپ کو پہاڑوں سے دیوانگی کی حد تک محبت ہو۔
ایسے ہی ایک سفر میں کچھ تصویریں ایک موبائل کیمرے کی آنکھ میں قید ہوگئیں ہیں۔ یہ تصویریں ضلع غذر کے گلمتی نالے کی ہیں, جو گلمتی گاؤں سے لب نالہ اندر ایک دن کی پیدل مسافت پہ واقع ہے۔ ضلع غذر کے اندر دریا کے دونوں اطراف ان نالوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے ہیں اگر آپ نے ایک گاؤں کے نالے کی طرف سے سفر کا آغازکیا ہے تو آپ ہرنالے تک جاسکتے ہیں بشرطیکہ آپ پہاڑوں کے درمیان راستہ بھٹک نہ جائے۔

ان جگہوں میں انسان کی آبادکاری کا ابھی دور دور تک کوئی آثار و گمان ہی نہیں پھر بھی یہاں ہر وادی کو ایک نام دیا گیا ہے۔ یہاں پہ بہنے والے نالے، پہاڑ، میدان، جھیلیں، آبشار، جھرنے سب کے نام ہیں۔ یہاں وہ پھول کھلتے ہیں جو اکثر گائوں میں یا کسی بھی باغبان کے باغ میں موجود نہیں ہوتے۔

ایسی جگہیں قدرت کا شاہکار ہیں۔ ان جگہوں میں جا کے انسان خود کو تروتازہ اور پر سکون محسوس کرتا ہے۔



حسین علی شاہ پیشہ کے اعتبار سے ایک بینکار ہیں اور لکھنے کا شوق رکھتے ہیں ان کی تحریریں بام جہان کے صفحات پر آپ کوآئندہ باقاعدگی سے پڑھنے کو ملیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں