پہاڑی علاقوں میں برفباری کی وجہ سے ملک بھر میں شدید سردی کی لہر، چار افراد ہلاک

چترال، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر ،مری، کالام اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا

بام جہان/ہائی ایشیاء ہرالڈ رپوٹ

چترال، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مری اور کالام میں گز شتہ تین دنوں سے برفباری کا سلسہ جاری جس کے نتیجے میں پاکستان بھر میں سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے. بلتستان، اور استور میں برف باری اور برفانئ تودے گرنے سے کئی سڑ کیں بند ہوگیئں ہیں. آمدورفت میں خلل اور ایندھن کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد اور پینجاب میں تمام اسکولوں میںسردیوں کی چھٹیوں میں توسیع اور اسکولوں کو 12 جنوری تک بند رکھنے کااعلان کیا گیا ہے۔
پیر کے روز سے بلتستان، استور، غزر، بالائی ہنزہ گوجال، چترال ، شانگلہ ٹاپ ، کالام دیر بالا اور مری میں برف باری ہوئی ہے جبکہ راولپنڈی ، پشاور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں اتوار کی رات سے ہی ہلکی بارش ہو رہی ہے۔
چترال اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے بازار میں جلانے کی لکڑی ناپید، گیس اور بجلی مہنگا ہونے کی وجہ سے لوگ خود کو گرم نہیں رکھ پا رہے ہیں اور بچوں میں سانس کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے۔ کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ لوگ شدید سردی کی وجہ سے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر اور بازار میں رش بہت کم ہوا ہے۔
چترال سے بام جہان اور ہائی ایشیاء ہیرالڈ کے نمائندے گل حماد فاروقی کا کہنا ہے کہ لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کیلئے عام طور پر لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہوتی ہے۔
اس علاقے تک گیس پہنچانے کے لئے پچھلی حکومت میں ایک اسکیم کا افتتاح بھی ہوا تھا اور سینگور کے مقام پر چالیس کنال زمین بھی خریدی گئی مگر موجودہ حکومت نے اس پر کام روک دیا۔

بجلی کی نرخ آئے روز مہنگا ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے لوگ بجلی نہایت احتیاط سے خرچ کرتے ہیں۔ جب برف باری رکتی ہے تو لوگ اپنے گھروں کے چھتوں سے برف ہٹاتے ہیں تاکہ ان کا چھت برف کے وزن سے دھنسنے سے بچ جائے اور برف زیادہ دیر تک چھت پر پڑا رہنے سے ان کے مکانا ت ٹھپکتے ہیں۔ سردی کی وجہ سے پینے کے پائپ پھٹ جاتے ہیں اور لوگوں کو پانی کی بھی قلعت کا مسئلہ درپیش ہے۔
محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض خٹک کا کہنا ہے کہ چترال میں جنگلات کی پیداوار ویسے ہی بہت کم ہے اور متبادل ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے یہا ں کے لوگ لکڑی جلاتے ہیں جس سے جنگلات پر بہت بوجھ پڑتا ہے اور اگر متبادل توانائی یا ایندھن کا بندوبست نہیں کیا گیا تو اگلے تیس سالوں میں کوئی درخت نظر نہیں آئے گا۔
مقامی لوگوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ چترال میں گیس کے منصوبے پر فوری طور پر کام کا آغاز کیا جائے اور ان کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ لوگ خود کو سردی سے بچانے اور کھانا پکانے کیلئے گیس یا بجلی کا ہیٹر استعمال کریں اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے قدرتی آفات آنے سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کو روکا جا سکے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر حکومت اربوں روپے کا معاوضہ دینے کی بجائے واپڈا یا پیسکو کو صرف چند کروڑ روپے دے تاکہ اس کے عوض لوگوں کو سستی بجلی فراہم کی جاسکے تو جنگلات بچ جائیں گے اور قدرتی آفات کم سے کم آئیں گے۔


خیبر پختونخواء میں ہلاکتیں

منگل کے روز ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کے بالائی علاقوں میں جاری بارش اور برف باری کے باعث معمول کی زندگی متاثر ہونے کے باعث پشاور اور کوہاٹ میں بارش سے متعلقہ واقعات میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔
پشاور میں ، چمکنی کے علاقے میں ب دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو 1122 کے عہدیداروں نے بتایا کہ خستہ حال مکان کی چھت گر گئی جس سے چار افراد ہلاک ہوگئے۔ بچانے والوں نے 30 منٹ کے آپریشن کے بعد انہیں باہر نکالا۔
ریسکیو کے عملے نے بتایا کہ ان میں سے دو کی موت ہوگئی اور دو دیگر افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت اعجاز علی خان اور رب نواز کے نام سے ہوئی ہے ، اور زخمیوں میں دلاور اور سعید بھی شامل ہیں۔
کوہاٹ میں ، پیر کی شب شدید بارش کی وجہ سے گھمکول کے افغان مہاجر کیمپ نمبر 1 میں مکان گرنے کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت دو افراد زندہ دفن ہو گئے ۔
کیمپ کے رہائشی حبیب اللہ نے بتایا کہ ایک زور دار آواز سننے کے بعد مقامی رضاکار باہر بھاگے اور دیکھا کہ ایک مکان گر گیا ہے۔
رضاکاروں اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے لاشوں کو باہر نکالا اور انہیں اسپتال منتقل کردیا۔
ہلاک شدگان کی شناخت لال بی بی اور حشمت خان کے نام سے ہوئی ہے ۔ اس واقعے میں متعدد مویشی بھی ہلاک ہوگئے تھے۔
مانسہرہ میں ، جاری بارش اور برف باری نے ہزارہ کے بالائی علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور ٹریفک نظام کو بری طرح متاثر کیا جبکہ منگل کے روز چیترپلین کے علاقے میں ایک حادثے میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔

موسم کی پہلی شدید برف باری پیر کے اوائل میں ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں شروع ہوئی اور منگل کو وقفے وقفے سے جاری رہی۔
ضلع مانسہرہ کے سائرن ، کونش اور کاغان وادیوں اور کوہستان اور طورغر اضلاع کے کچھ حصوں میں لنک روڈس بلاک ہیں۔
پاکھل بجلی کا فیڈر جو برف باری کے آغاز کے بعد پھنس گیا تھا اسے بحال نہیں کیا جاسکا۔
کے علاقے میں قراقرم ہائے وے پر ٹرک پھسل گیا اور ایک مسافر وین سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوئے – چتر پلین میں
دیر بالا کے پہاڑی علاقوں ، بشمول لواری ٹاپ ، کمراٹ ، تھل ، ڈوگ درہ ، اپر براول ، دوبینڈو درہ اور عیشری درہ ، میں درجیہ حرارت -7 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ ان علاقوں میں دو سے پانچ فٹ برفباری ہوئی جس سے بالائی کوہستان ، ڈوگ درہ اور دیگر علاقوں میں زیادہ تر لنک سڑکیں بند ہوگئیں۔
یہاں کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ دیر شہر میں کم سے کم درجہ حرارت -2 ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ ضلع دیر بالا کے پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو اشیائے خوردونوش کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے کچھ مکینوں نے بھی بجلی کی معطلی کی شکایت کی۔
شانگلہ میں ، ضلع کے مختلف حصوں میں 10 سال کے بعد زبردست برف باری ہوئی ، جس نے تقریبا تمام اہم راستوں کو بند کردیا اور سڑکوں کو ٹریفک سے جوڑ دیا ، جس سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔
ہفتہ کی شام برف باری کا ایک تازہ جادو شروع ہوا اور یہ منگل کو بھی جاری رہا۔ پچھلے چار دنوں کے دوران اجمیر ، پیر خانہ ، یختنگے ، شانگلہ چوٹی ، چیہڑ ، کاپر بانڈہ اور گتال میں چار فٹ تک برفباری ہوئی۔ پچھلے چار دنوں کے دوران ہونے والی شدید برف باری کے باعث 70 فیصد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔خار میں قبائلی ضلع باجوڑ کے کچھ حصوں سے شدید برف باری کی اطلاع ملی ہے۔مکینوں کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں 10 انچ تک برفباری کی اطلاع ہے۔
حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں سائبیرین ہواؤں نے تباہی مچا دی ہے ، جہاں موسم کی صورتحال سخت ہوگئی ہے۔
خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اسکولوں نے سردی کی لہر کے پیش نظر سردیوں کی تعطیلات میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے -رات کے وقت درجہ حرارت میں گراوٹ کے نتیجے میں ملک کے بیشتر حصے سردی کی لپیٹ میں ہے۔
پی ایم ڈی کے ڈائریکٹر ظہیر احمد بابر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے بعد موسم خشک رہے گا اور آئندہ چند روز کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں سردی کی لہر برقرار رہے گی۔
روز مرہ کی پیش گوئی کے مطابق ، میٹ آفس نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بالائی خیبر پختونخوا ، بالائی پنجاب ، اسلام آباد ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے دور دراز علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری کے ساتھ بارش کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں