چترال، مستری خانوں میں کام کرتے بچوں پر چائلد پروٹیکشن کمیشن خاموش کیوں؟

تحریر: گل حماد فاروقی

چترال کے مستری خانوں کی حالت زار نہایت ناگفتہ بہ ہے جہاں کام کرنے والے موٹر مکنیک کے پاس نہ تو حفاظتی سامان ہیں اور نہ ا ن کے تحفظ کیلئے کسی سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

موٹر میکینک ایسوسی ایشن کے صدر اور اپنے تئیں مستریوں کی حفاظت کیلئے تگ و دو کرنے والے محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ ان مستری خانوں میں کام کرنے والے مستری خود محفوظ نہیں ہیں، یہ لوگ سارا دن پٹرول، ڈیزل اور کیمیکل سے کھیلتے ہیں اور گاڑی کے نیچے جاکر ان کی مرمت کرواتے ہیں مگر ان کے پاس ہیلمٹ ہے نہ دستانے اور نہ ہی محفوظ بوٹ۔

محمد اسحاق کے مطابق کچھ عرصہ پہلے ایک مستری اس وقت جاں بحق ہوا جب وہ ایک بیٹری کو مرمت کررہا تھا کہ وہ اچانک دھماکے سے پھٹ گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں نوجوان طبقے کی اکثریت منشیات کی لعنت میں مبتلا ہے ہیں، ان کو منشیات سے بچانے کیلئے میں نے ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا جس میں 45 مختلف ٹیموں نے حصہ لیا مگر کسی نے کوئی تعاون نہیں کی۔

مستری خانوں میں کم عمر بچے بھی کام کرتے نظر آئے جن میں سے اکثر ٹی این این کے ساتھ بات کرنے سے کتراتے تھے تاہم چند بچوں نے بتایا کہ وہ پچھلے پانچ سالوں سے یہ کام کررہے ہیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ جب آ پ کے ہم عمر بچے صبح پینٹ شرٹ پہن کر ٹائی باندھ کر سکول جاتے ہیں اور آپ گندے کپڑے پہن کر مستری خانے جاتے ہو تو کیسے محسوس ہوتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دکھ ہوتا ہے مگر کیا کریں ہماری مجبوری ہے، والدین ہماری تعلیم کے خرچے پورے نہیں کرسکتے۔

ان بچوں میں سے اکثر کے والدین معذور، نادار ہیں جن کا واحد سہارا یہ بچے ہوتے ہیں، ان بچوں کی عمر سکول جانے کی ہے، ان کے ہاتھ میں پنسل، قلم اور کاپی ہونا چاہئے تھی مگر پنسل کی جگہ ان کے ہاتھو ں میں ہتھوڑا، پلاس اور اوزار دکھائی دیتے ہیں۔

چند بچوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر حکومت یا کوئی غیر سرکاری ادارہ ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرے اور ان کے والدین کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرے تو وہ تعلیم حاصل کرنے ضرور سکول جائیں گے۔

مستری ایسوسی ایشن کے صدر محمد اسحاق نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ ان غریب بچوں کی تعلیم کا سرکاری طور پر بندوبست کیا جائے اور ان کے والدین کو کچھ خرچہ دینے کا بندوبست کیا جائے تاکہ یہ بچے مستری بننے کی بجائے ڈاکٹر، انجنئیر اور بڑے آدمی بن کر ملک و قوم کا خدمت کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں