چترال اور وسط ایشیا کے تاریخی روابط-(3)

تحریر: گل مراد خان حسرتؔ

سنگ علی کے بیٹوں نے تقریباً 1700ء میں رئیس شاہ محمود سے اقتدار چھین لیا تو وہ یارقند چلا گیا۔ تقریباً 1730ء اور 1735ء کے درمیان وہ یارقند سے ایک فوج لے کر چترال پر حملہ آور ہوا۔ خوشوقت اور خوش آمد اس جنگ میں قتل ہوئے اور شاہ کٹور نرسَت براول کی طرف کوچ کر گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کا بیٹا سنگین علی ثانی بھی اس کے ساتھ ملا۔ خوش آمد کا بیٹا شاہجہان اپنے چند مصاحبین کے ساتھ یارقند چلا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یارقند میں انہوں نے ایک خطرناک اژدھا کو ہلاک کیا اس لئے اسے ڈوڈول کا خطاب ملا۔ یہ وہ دور ہے جب کاشغر میں چغتائی حکومت ختم ہوچکی تھی اور 1713ء میں کاشغر پر الماق یا قلماق کا قبضہ ہوچکا تھا۔ رئیس شاہ محمود کے اس دوسرے دور کا ایک اصل سند ملا ہے جس پر 1153ہجری کی تاریخ درج ہے جوکہ 1740ء بنتا ہے۔ ممکن ہے کہ شاہ محمود کچھ باج و خراج مغلستان اور کاشغر کے قالماق سردار قنگ تاجی کو بھی بھیجتا ہو کیونکہ تاریخ قپچاک خانی میں اس دوران بلور کو قلمق سردار کا باجگزار دکھایا گیا ہے۔

منگول حکمران چغتائی خان

1759ء میں چینیوں نے سنکیانگ کو فتح کیا۔ چینی ترکستان براہ راست منچو حکمرانوں کے زیرنگین آنے کے بعد چترال اور چینیوں کے تعلقات کے بارے میں معلومات چینی دستاویزات میں تفصیل کے ساتھ معلوم ہوتے ہیں۔ روسی سکالر Kusnecov کے مطابق 1760ء میں خوش آمد ثانی خوشوقت، جو بلور یعنی چترال بالا کا حکمران تھا، نے اسی سال مشرقی ترکستان کے چینی حکام کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ 63-1762ء میں اس نے چینی حکام سے اپنی حفاظت کے لئے اپیل کی کیونکہ بدخشان سے میر سلطان شاہ کی کمان میں ایک فوج اس پر حملہ آور ہوئی تھی۔ میر سلطان شاہ نے پہلے جنوبی چترال میں محمد شفیع کٹورے کو شکست دے کر شاہ عبد القادر بن رئیس شاہ محمود کو وہاں حکمران مقرر کیا۔ پھر مستوج آکر شاہ خوش آمد کا اس کے قلعے میں محاصرہ کرلیا۔ آخرکار چینی حکام کے سفارتی دباؤ کی وجہ سے محاصرہ ختم کرکے واپس چلا گیا۔ چینی ذرائع کے مطابق 1764ء تا 1769ء اور اس کے بعد 1790 تک مستوج سے باقاعدگی سے خراج چینی حکام کو پہنچایا جاتا رہا۔

کٹور دور میں بدخشان سے چترال پر جن دو حملوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں پہلا شاہ کٹور ثانی اور سلیمان شاہ خوشوقتے دور کا ہے۔ ان دو خاندانوں کے درمیان ھمیشہ خانہ جنگی جاری رہتی تھی چنانچہ ایک دفعہ شاہ کٹور ثانی نے سلیمان شاہ کے خلاف میر کوہکن بیگ ازبیک والئے قندوز و بدخشان سے امداد طلب کی۔ میر ایک بڑی فوج لے کر درہِ بروغیل کے راستے چترال میں داخل ہوا اور مستوج میں شاہ کٹور ثانی سے مل کر ورشگوم کی طرف سلیمان شاہ کے مقابلے کے لئے روانہ ہوا۔ جونہی یہ لشکر یاسین پہنچا سلیمان شاہ نے کوہکن بیگ سے ملاقات کرکے اس کو تخفے تخائف پیش کیے اور میر کے جو دشمن اس کے ہاں پناہ لیے ہوئے تھے ان کو میر کے حوالے کیا۔ چنانچہ اس طریقے سے جنگ ٹل گئی اور میر مستوج کی طرف واپس چلا آیا۔ شاہ کٹور ثانی نے اسے دعوت دے کر اپنے ساتھ چترال کی طرف لے گیا اور راستے میں نوڑ ریشت کے تنگ راستے میں اپنے آدمیوں کے ذریعے اسے دھکا دلوا کر نیچے دریا میں گرا دیا اور اس کی فوج کو نہتا کرکے بدخشان کی طرف روانہ کیا۔

دوسرا حملہ امان الملک کے دور کا ہے جب بدخشان کی حکمرانی کا دعویدار اور معزول میر جہاندار شاہ امان الملک کے پاس پناہ لیے ہوئے تھا اور بدخشان کا میر محمود شاہ اس کو اپنے لیے خطرہ خیال کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک لشکر لے کر درہِ بروغیل عبور کرکے چترال میں داخل ہوا اور جب آگے بڑھ کر دربند پہنچا تو چترالی جنگجووں کو والئیِ مستوج غلام محی الدین المعروف پہلوان خوشوقتے کی کمان میں مورچہ بند اپنا منتظر پایا۔ چترال کے جنگجوؤں نے مختلف حربے آزماکر ان کو بے دست و پا کردیا اور دو دنوں کی لڑائی کے بعد میر بھاری نقصان اٹھا کر پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔

لوٹ مہتر امان الملک

چترال اور وسط ایشیا کے روابط میں فیصلہ کن دور وہ تھا جب والئیِ افغانستان امیر شیر علی خان نے بدخشان کو فتح کرکے اس کو اپنے زیرنگین کرلیا اور چترال پر بھی حریصانہ نظر رکھنا شروع کیا۔ لہٰذا امان الملک نے چترال کو کابل کی جارحیت سے بچانے کے لئے اقدامات کیے اور 1877ء میں مہاراجہ کشمیر سے دوستی کا معاہدہ کیا۔ اس دوران گریٹ گیم کا بھی آغاز ہوچکا تھا۔ روس وسط ایشیاء کے خانوں کو روندھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور برطانوی ہند کے فوجوں کے قدم گلگت تک پہنچ چکے تھے۔ انگریز روسیوں کی آمد کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے اور اسے اپنے سرحدات سے دور رکھنے کیلئے جتن کر رہے تھے۔ ان حالات میں چترال ان کی نظروں میں اہمیت اختیار کرگیا۔ دوسری طرف امان الملک بھی برطانوی ہند کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہاں تھا۔ اس سلسلے میں 1878ء میں بڈلف نے چترال کا دورہ کیا۔ اس کے بعد 1885ء میں لاک ہارٹ کی قیادت میں ایک مشن نے چترال آکر مہتر کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں چترال کے رابطوں کا رُخ تاریخ میں پہلی بار وسط ایشیاء سے مڑ کر جنوبی ایشیاء کی طرف ہوگیا اور 1895ء میں برطانوی ہند کا اقتدار چترال پر قائم ہونے کے بعد یہ جنوبی ایشیاء کا حصہ بن گیا۔ تاہم وسط ایشیا کے ساتھ تجارت، مسافروں اور حاجیوں کی آمدورفت پھر بھی کسی حد تک جاری رہی. مگر روس اور چین کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد یہ سلسلہ بھی منقطع ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: https://baam-e-jahan.com/%da%86%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%d8%b3%d8%b7-%d8%a7%db%8c%d8%b4%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b7-1/

موجودہ زمانے میں وسط ایشیا کی تمام ریاستیں آزاد ہوچکی ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے جو تہذیبی، ثقافتی، تاریخی اور سماجی رشتے ہیں ان کو دوبارہ بازیافت کرنے اور بحال کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے آمدورفت کے جدید ذرائیوں کا ہونا ضروری ہے۔ پاکستان کو وسط ایشیاء سے جوڑنے کے لئے چترال میں آسان اور نزدیک ترین گزرگاہیں ہیں لیکن ابھی تک اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ چترال سے اگر بہتر سڑکیں گزار کر وسط ایشیاء کے ممالک سے ملائی جائے تو اس میں نہ صرف پاکستان کو معاشی اور تجارتی فائدے متوقع ہیں ۔بلکہ چترال اور وسط ایشیاء کے قدیم روابط کی ازسرنو تجدید بھی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: https://baam-e-jahan.com/%da%86%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%d8%b3%d8%b7-%d8%a7%db%8c%d8%b4%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a8%d8%b7-2/

نوٹ: مضمون میں تاریخی واقعات صرف موضوع کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔ یہ چترال کی مکمل تاریخ نہیں ہے۔

حوالہ جات
پروفیسر اسرارالدین، تاریخِ چترال کے بکھرےاوراق
مرزا حیدر دوغلات، تاریخ رشیدی
محمد سیئر، شاہ نامہ
مرزا غفران، تاریخ چترال فارسی
مولوی حشمت اللہ، تاریخ جموں
مرزہ غلام مرتضی، تایخ چترال اردو
آصف جیلانی، تاریخ وسط ایشیا
منظوم علی، قراقرم ہندوکش
محمد عرفان، شاہ امان الملک
شاہ محمود اور شاہ عبد القادر اصل اسناد فارسی
Chitral’s History, by Holzworth Wolfgang
The Tribes of Hindu Kush, by John Biddulph
History of Northern Areas, by Prof Ahmed Hassan Dani
Sirindia, by A Stein
Wakhan, by Dr Faizi
The Early Empires of Central Asia, Nac Govern
Turkistan Down to Mongols, by W. Berthhold,

ان کے علاوہ دیگر رسالوں، آن لائن ویب سائٹس اور نوٹس وغیرہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔

گل مراد خان حسرت کا تعلق چترال سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں