چترال: ماں باپ کو بے دردی سے قتل کرنے والے بیٹے کو دو مرتبہ سزائے موت کی سزا سنادی گئی

چترال: ملزم محمد عرفان ولد محمد کاشف نے 13 جون2015 کو آیون صحن گاؤں میں والدین کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال جاوید الرحمان نے ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت سنادی
چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے آیون کے دیر صحن گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد عرفان ولد محمد کاشف نے 13.06.2015 کو اپنے والد محمد کاشف اور والدہ خودراؤ بی بی کو پے در پے کٹارے کے وار کرکے قتل کئے تھے۔ تھانہ آیون پولیس نے ملزم کے حلاف زیر دفعہ 302 تعزیرات پاکستان مقدمہ درج کیا تھا۔
ملزم پر استغاثہ نے تمام شواہد عدالت میں پیش کئے اور آج ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چترال جاوید الرحمان نے ملزم کو اپنے والدین کو بے دردی سے قتل کرنے کی جرم میں دو مرتبہ سزائے موت اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔عدالتی فیصلے میں حکم سنایا گیا کہ ملزم کو تادم مرگ لٹکایا جائے۔
ملزم دفعہ زیر دفعہ 544(A) ضابطہ فوجداری کے تحت مقتولین محمد کاشف اور خودراؤ کے شرعی و قانونی ورثاء کو ایک ایک لاکھ روپے فی مقتول بطور معاوضہ ادا کرے گا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم محمد عرفان مزید ایک سال قید گزارے گا۔ عدالتی حکم کے مطابق مذکورہ بالا سزائے موت کا اطلاق پشاور ہائی کورٹ کے تصدیق کے بعد ہوگا۔ اس نسبت ریفرنس برائے اطلاق سزا ترتیب دینے کے بعد معزز عدالت عالیہ پشاور ہائی کورٹ بلا تاخیر مرسل کی جائے۔ حکم سزائے موت زیر دفعہ 374ضابطہ فوجداری تکمیل پذیر ہو۔
عدالتی حکم میں یہ بھی سنایا گیا کہ مال مقدمہ کٹار و دیگر مال مقدمہ بحق سرکار ضبط ہوکر بعد از گزرنے میعاد اپیل نگرانی حسب ضابطہ تلف ہو۔ جبکہ دیگر مال مقدمہ حسب ضابطہ نمٹایا جائے۔ تاہم اس نسبت اپیل کے میعاد کو ملحوط نظر رکھا جائے۔
مجرم کا سزا وارنٹ مفصل جاری ہوکر متعلقہ سپرنٹنڈنٹ جیل برائے عملدرامد سزا حسب قانون بھجوایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں