چترال میں قدرتی آفات میں کمی کا عالمی دن منایا گیا

بام جہان رپورٹ

ماہرین ارضیات کا ماننا ہے کہ چترال زلزلہ کے لحاظ سے خطرے والی زون میں شمار ہوتا ہے جہاں ہر وقت بڑے پیمانے پر زلزلے کا خطرہ رہتا ہے.
ان خیالات کا اظہار ماہرین نے گزشتہ دنوں چترال میں قدرتی آفات میں کمی کا عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا.۔
اس سلسلے میں جامعہ چترال میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیرا عظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات ملک امین اسلم نے یونیورسٹی کے لان میں پودا بھی لگایا۔

قدرتی آفات کی شرح نقصان میں کمی لانے کے عالمی دن کے موقع پر یونیورسٹی آف چترال کے ہال میں منعقدہ تقریب سے ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ اس آگاہی مہم کے موقع پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبد الولی خان مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ پراجیکٹ ڈایئریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے تقریب کی صدارت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے بتایا کہ قدرتی آفات میں زیادہ تر انسان کا اپنا ہی ہاتھ ہوتا ہے اور وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ارد گرد کےماحول کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ تقریب گلوف ۲ پراجیکٹ کے مالی تعاون سے منایا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ چترال ریڈ زون میں شامل ہے جہاں ہر وقت بڑے پیمانے کا زلزلے کا خطرہ رہتا ہے اسی طرح موسمیاتی تبدیلی سے صدیوں پرانے برفانی تودے بھی پھٹ رہے ہیں جس سے تباہ کن سیلاب آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولین میں دو مرتبہ گلیشیر پھٹنے سے سیلاب آیا اسی طرح وادی یارخون میں پہلی بار برفانی توہ پھٹا جس سے تباہ کن سیلاب کی ضد میں ایک جوان لڑکی بھی جاں بحق ہوئی اور 26 مکانات بھی تباہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ GLOF-II پراجیکٹ میں محتلف اداروں کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کیا جاتا ہے جس میں محتلف وادیوں کی کیس سٹڈی تیاری ہوگی اور ان علاقوں کو قدرتی آفات کی شکل میں نقصان سے بچانے کیلئے محتلف منصوبوں پر کام ہوگی۔
ماہرین نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ بھی ماحولیات کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ حکومت اکیلا سب کچھ نہیں کر سکتا۔
پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے کہا کہ حکومتی اداروں کو چاہئے کہ تعمیرات کیلئے جامع منصوبہ وضع کرے جس میں چترال کے ماحول کے متعلق ایسے میٹیریل استعمال جو زلزلے یا سیلاب کی شکل میں زیادہ جانی نقصان کا باعث نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں جو پلاسٹک تھیلے ملتے ہیں ان پر پابندی لگانا چاہئے اور اس کی جگہہ کپڑے کی تھیلے استعمال کیا جائے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ برفانی تودوں، جھیلوں اور پانی کے ذخائر کے پاس گندگی نہیں پھینکنا چاہئے تاکہ ان گندگی سے ان گلیشیر کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی سے یہ گلیشیر نہایت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سیلاب کی صورت میں تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ تقریب میں مختلف ماہرین نے اظہار حیال کیا۔
گلوف ٹو پراجیکٹ کے ترجمان نے کہا کہ اس منصوبے میں ایسے حطرناک علاقوں اور وادیوں کا سروے کیا جائے گا جہاں گلیشیر پھٹنے کا حطرہ ہو اور ان وادیوں میں آس پاس کی آ بادی کو بچانے کیلئے محتلف حفاظتی تدا بیر اپنائے جائیں گے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں چترال یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے بھی شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں