چترال کورونا سے محفوظ ضلع، تین مشتبہ مریضوں کے رپورٹ منفی آئے

چترال سے تیسرے مشتبہ مریض کا ٹیسٹ بھی منفی آیا۔

رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال: جہاں ایک طرف پورے پاکستان کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور چاروں جانب سے پریشان کن خبریں آرہی ہیں وہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جو ابھی تک اس صدی کا سب سے بڑا عالمی وباء سے محفوظ ہے . چترال ان علاقوں میں سے ایک ہت، جہاں سے ابھی تک جتنے لوگوں کا ٹیسٹ ہوا وہ سب منفی آیا.
محکمئہ صحت کے ذرائع کے مطابق اب تک تین افراد جو کراچی اور دیگر علاقوں سے ضلع میں آئے تھے اور جن کی طبیعت خراب ہونے پر پشاور ٹیسٹ کے لئے بھیجے گئے تھے ان کا رپورٹ کورونا منفی آیا ہے .
گزشتہ دنوں ایک نوجوان حنیف اللہ جو حال ہی میں کراچی سے واپس آگئے تھے، کو بخار اور نزلہ کی شکایئت کی وجہ سے پشاور تیسٹ کے لئے بھیجا گیا تھا. لیکن ان کا ٹیسٹ رپورٹ منفی آیا ہے۔

حنیف اللہ کے چا چا سابق کونسلر اقبال مراد نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ان کے بھتیجے کو شک کی بنیاد پر پشاور لے کر گئے تھے جہاں اس کا ٹیسٹ کیا گیا اور خوش قسمتی سے اس میں کورونا وائریس موجود نہیں۔

تاہم چترال کے لوگ اب بھی پریشان ہیں کیونکہ ضلع دیر بالا جو چترال کا پڑوسی ضلع ہے وہاں کورونا کے دو مریض سامنے آچکے ہیں جس کی وجہ سے چترال کو بھی حطرہ ہے اور چترال میں ابھی تک کورونا وائریس کی سکینر، لیباریٹری یا وینٹی لیٹر تک نہیں ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کی چترال کے دونوں ضلعوں میں ایک ایک وینٹیلیٹر اور ٹیسٹ کے کیٹس اور آلات فورا پہنچایا جائے. کیونکہ جس تیزی کے ستھ یہ وباء پھیل رہا ہے اس کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری طبی آلات ضلعی ہیڈکوارٹرز اسپتال مین موجود ہونا چاہئیے.

پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے 1یک ہزار سے زیادہ لوگ متاثر اور آٹھ افراد بشمول ایک ڈاکٹر اور ایک نرس کی موت واقع ہو چکی ہے.
دنیا بھر میں ایک پانچ لاکھ کے لگ بھگ لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور 13 ہزار سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں.
گلگت بلتستان میں اب تک 103 لوگ اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں اور ایک نوجوان ڈاکٹر کی موت واقع ہو چکی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں