چترال کی تاریخی نہر راژوئے عدم توجہی کاشکار

حکومت فوری طور پر نہر کی مرمت کرکے ممکنہ جانی اور مالی نقصانات کو روکیں، عوام کا مطالبہ ہے .

رپورٹ: فخرعالم

چترال کی وادی کھوت میں واقع تاریخی اہمیت کے حامل آبپاشی کی نہر راژوئے حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے مقامی دیہات کیلئے مستقل خطرہ بن گئی ہے۔ سینکڑوں سالوں سے 10 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل تورکھو کے کئی دیہات کی آبپاشی اور پینے کی ضروریات پورا کرنے والی راژوئے کا پانی حالیہ سالوں میں کئی بار ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے نشیب میں واقع آبادی میں تباہی مچا دی ہے ۔تاہم مقامی آبادی کی بارہا مطالبہ کے باوجود حکومت اس نہر کی مرمت اور اسے پختہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔

اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اگست کے مہنے میں رات کے وقت ملبہ گرنے کی وجہ سے راژوئے کے پانی کے بہاؤ کا رُخ نشیب میں واقع دورزچ اور شوچندور کی آبادی کی طرف مڑ گئی جس کی وجہ سے گھروں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا. تاہم مقامی آبادی کی رضاکارانہ کوششوں کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ راژوئے نہر کچا ہونے کی وجہ سے اس میں اکثر دراڑیں پڑتی ہیں اور پانی سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرتا ہے اور آبادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پانی زمین میں جذب ہونے کی وجہ سے بڑی مقدار میں زراعتی زمین بھی دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے۔

پوچونگ کے گاؤں میں نہر کی بالائی شاخ میں دراڑ پڑنے سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس سے نہر کی نچلی شاخ بھی ٹوٹنے کو ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ایک نجی ادارے نے نہر کا سروے کیا ہے جس نے راژوئے سے ملحقہ پوچُونک، شرستُون، داغار، ہونکوٹ، لنگر، لوگار، موڑدور، دورزچ، گول، اونزک اور دوسرے دیہات کو انتہائی خطرے کی زد میں قرار دیا ہے۔ تاہم مقامی آبادی کے پُرزور مطالبے کے باوجود حکومت نے اب تک اس طرف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔

ایک مقامی رہائشی نے ہمیں بتایا کہ انکا گھر اور زمینیں نہر سے متصل ہیں اور انہیں ہر وقت کسی ناخوشگوار حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی وزیر زادہ اور ضلعی انتظامیہ کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کی درخواست دی. مگر کہیں بھی ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا نہر سے متصل علاقے ممکنہ سیلابی ریلے اور دلدل کی وجہ سے آبادی کیلئے غیر موزوں ہوچکے ہیں۔ خطرے کی وجہ سے نہر سے ملحقہ کئی گھرانوں کو ہر رات نقل مکانی کرکے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔

ایک اور مقامی رہائشی، جن کا بھائی کچھ سال قبل نہر کے اردگرد احتیاطی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے راژوئے میں گر کر جان بحق ہوا تھا، کا کہنا تھا کہ پہاڑی ڈھلوان سے گزرتی نہر میں کسی بھی وقت چھوٹی سے دراڑ پڑنے یا ملبہ گرنے سے پانی نیچے واقع دیہات کا مکمل صفایا کر سکتی ہے. لیکن محکمہ اب پاشی و انہار کے حکام کو اس خطرے کا اب تک احساس نہیں ہے۔ انہوں نے مقامی انتظامیہ، سیاسی قائدین اور علاقے میں فعال این جی اوز سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سنگین حادثے سے پیشتر اس خطرے کا ادراک کرکے ممکنہ جانی اور مال نقصان کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں