چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ اور اہم معاملات میں ان کے فیصلے

عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا شمار خیبر پختونخوا کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنھوں نے انتہائی اہم معاملات میں فیصلے دیے ہیں اور پشاور کے وکلا ان فیصلوں کو ’بولڈ‘ فیصلے سمجھتے ہیں۔

یاد رہے ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ 70 سے زیادہ افراد کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

بی بی سی نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کے چند اہم فیصلوں کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ سے بات کی۔

ملٹری کورٹس کے خلاف درخواست گزاروں کے حق میں دیے گئے فیصلے کے بارے میں لطیف آفریدی کہتے ہیں ’چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ملٹری کورٹس سے موت کی سزا اور عمر قید کی سزا پانے والے افراد کی ان درخواستوں پر فیصلہ دیا ’جسے لینڈ مارک‘ سمجھا جاتا ہے۔‘

لطیف آفریدی کا کہنا تھا ’اس بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے موجود تھے لیکن جسٹس وقار احمد سیٹھ نے انفرادی طور پر تمام افراد کے فیصلوں کو پڑھا اور پھر ان کے بارے میں فیصلے دیے تھے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس پر حکم امتناع جاری کر دیا تھا جس وجہ سے کسی کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی۔‘

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ سے جب پوچھا گیا کہ ملٹری کورٹس کے سزا یافتہ افراد کے حق میں فیصلے کو ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ یہ شدت پسندوں کے حق میں ہے تو ان کا کہنا تھا ’عدالتیں واقعات اور دستیاب شہادتوں پر فیصلہ کرتی ہیں اور اس بارے میں چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے تمام ریکارڈ طلب کیا اور اس سب کو دیکھنے کے بعد ہی انھوں نے فیصلہ کیا تھا۔‘

لطیف آفریدی کہتے ہیں’ انگریزی ضرب المثل ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے اور عدالت کو جب تک ملزم کے خلاف مکمل شواہد دستیاب نہ ہوں تو وہ کسی کے خلاف فیصلہ نہیں کرتی۔‘

طیف آفریدی نے مزید بتایا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز ریگولیشن 2011 فار فاٹا اینڈ پاٹا کے بارے میں چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلے کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا اور یہ افراد ملٹری اداروں کے زیرِ حراست رہے۔

’وقار احمد سیٹھ نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ان مراکز کو اپنی تحویل میں لینے کا حکم جاری کیا۔ اس بارے میں بھی سپریم کورٹ نے حکم امتناع جاری کر دیا تھا اس لیے اس پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے‘۔

یاد رہے چند روز قبل چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے بڑے منصوبے بی آر ٹی یا بس ریپڈ ٹرانزٹ کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کو حکم دیا تھا کہ اس بارے میں انکوائری مکمل کریں اور رپورٹ 45 دنوں کے اندر پیش کریں۔

ایف آئی اے نے اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں اور صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس مرتبہ حکم امتناع حاصل نہیں کریں گے لیکن وہ اعلیٰ عدالت میں جا کر اپنا مؤقف ضرور پیش کریں گے۔

اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو سے تحقیقات کا کہا تھا لیکن اس فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔
قار احمد سیٹھ کون ہیں؟
چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک متوسط کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انھوں نے اپنی تعلیم پشاور کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہے۔

انھوں نے اسلامیہ کالج سے گریجویشن کی اور لا کالج پشاور یونیورسٹی سے پہلے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے 1985 میں عملی وکالت کا آغاز کیا۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ 1990 میں ہائی کورٹ اور پھر 2008 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ انھیں 2011 میں ایڈیشنل سیشن جج تعینات کیا گیا اور اس کے بعد وہ بینکنگ کورٹس سمیت مختلف عدالتوں میں تعینات رہے۔

وقار احمد سیٹھ نے 2018 میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے کا حلف لیا۔

ان کے والد سیٹھ عبدالواحد سینیئر سیشن جج ریٹائرڈ ہوئے جبکہ ان کے نانا خدا بخش پاکستان بننے سے پہلے 1929 میں بننے والی صوبے کی پہلی اعلیٰ عدالت میں جج رہے تھے۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے علاوہ اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا تعلق بھی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی۔

اس کے علاوہ جسٹس مظہر عالم، میاں خیل، سابق جسٹس داؤد اور سابق جسٹس یونس تھیم کا تعلق بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ’چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ، قاضی انور ایڈووکیٹ کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے اور ابتدا سے ہی روشن خیال انسان ہیں۔‘

’انھوں نے لیبر لاز اور سروس لاز میں مہارت حاصل کی اور ساتھ ساتھ سول اور کریمنل کیسز بھی کرتے تھے۔‘

لطیف آفریدی کے مطابق ’جسٹس وقار احمد سیٹھ اپنی محنت سے اس مقام پر پہنچے ہیں اور ان کے فیصلے بولتے ہیں۔ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ایسے افراد کے مقدمات کی طرف زیادہ توجہ دی ہے جو مالی حیثیت نہیں رکھتے یا ایسے مقدمات کو ترجیح دیتے رہے جن مقدمات میں عام طور پر عدالتوں میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔‘

یاد رہے جسٹس وقار احمد نے سابق چیف جسٹس دوست محمد خان کے پشاور ہائی کورٹ میں قائم انسانی حقوق سیل کو بحال کر دیا تھا۔ اس سیل میں کسی بھی درخواست پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور سائل کو کوئی اخراجات بھی برداشت نہیں کرنے پڑتے۔
بشکریہ: بی-بی-سی اردو ڈاٹ کام

اپنا تبصرہ بھیجیں