چینیوٹ میں چترالی خاتون اور بیٹی کے قاتلوں کو سزا دی جائے

چترال میں غربت زدہ مجبور خواتین کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے.

رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال: چینیوٹ میں چترال سے تعلق رکھنے والی خاتون اور اس کی نو ماہ کی بچی کے قتل کے خلاف احتجاجی جلسہ جمعہ کو منعقد ہوا جس میں قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دینے اور مقتولین کو انصاف مہیا کرنے کا مطالبہ کیا گیا.

جلسہ کا اہتمام تمام سیاسی جماعتوں نے کیا تھا جس کی صدارت مولانا اسر ار الدین الہلال، خطیب بازار مسجد نےکیا۔

احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ چترال تورکہو سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا پنجاب کے ضلع چینیوٹ میں شادی ہوئی تھی. گزشتہ دنوں اس کےدرندہ صفت شوہر نے مبینہ طور پر بیوی کا قتل کرکے اس کی جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور بچی کا بھی گلا کاٹا.
اس نے میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ لڑکی کی باپ کے کہنے پہ اس نے یہ گھناونی حرکت کی ہے۔

احتجاج میں شریک لوگوں نے ڈی پی او چترال کا مستعدی کا مظاہرہ کرنے اور ملزمان کوگرفتار کروانے پر شکریہ ادا کیا۔
مقررین نےانتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ چترال میں جومنظم اور بااثر گروہ غربت زدہ خواتین کیشادی کے نام پر اسمگلنگ میں ملوث ہیں ان کے خلاف کاروائی کیا جائے۔ مقررین نے ایسے عناصر کی شدید الفاظ میں مذمت کیا جو چند ٹکوں کے خاطر چترال کی بیٹیوں کادوسرے علاقوں میں بااثر لوگوں کے ساتھ شادی کرواتے ہیں اور ان سے پیسے بٹورتے ہیں جن کی بعد میں یا تو طلاق ہوجاتا ہے یا ان کی لاش چترال پہنچتی ہے۔
مقررین نے کہا کہ اب تک 70 خواتین کا قتل ہوا ہے جن کی چترال سے باہر شادی ہوئی تھی۔

انہوں نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ عورت دشمن روایات اور رسموں کی حوصلہ شکنی کریں.
اس موقع پر انہوں نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں از خود نوٹس لے کر ملزموں کو سزا دیں تاکہ آئندہ کوئیاس قسم کے گھناونے جرائم نہ کریں۔

جلسہ سے شریف حسین آف کوغذی، اخونزادہ رحمت اللہ، عبدل ولی خان ایڈوکیٹ،عنایت اللہ اسیر، جندولہ خان لال، شبیر احمد صدر تاجر یونین،مولانا اسرار الدین الہلال اور دیگر نے اظہار حیال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں