کامریڈ حیدر بخش جتوئی: افکار و کردار

پچاسویں برسی کی مناسبت سے

تحریر: اثر امام

باباءِ سندھ کامریڈ حیدر بخش جتوئی مؤرخہ سات اکتوبر 1901 گاؤں بکھو دیرو, (اُس زمانے میں تحصیل ڈوکری) ضلع لاڑکانہ, میں جناب الہداد خان جتوئی کے گھر میں جنم لیا. ابھی ان کی عمر دو سال ہوئی تھی کہ والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا جس کے بعد انہیں والد, دادا اور پھوپھی نے پالا پوسا. انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں بکھو دیرو ہی میں حاصل کی. اس کے بعد انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنے کیلیے 1911 میں گاؤں پٹھان, حالیہ تحصیل باقرانی کے ہائی اسکول میں داخلہ لیا. 1918 میں سندھی فائنل کا امتحان سندھ بھر میں پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا. جس پر سندھ حکومت نے ان کیلیے اسکالرشپ منظور کی تھی. اس کے بعد ان کا داخلہ سندھ مدرسۃ الاسلام اسکول لاڑکانہ (موجودہ لاڑکانہ گرلز ڈگری کالج) میں ہوا. یہاں پانچ جماعتوں کی تعلیم جو عموماً پانچ برسوں میں مکمل ہوتی تھی, کامریڈ جتوئی نے ہر سال کا نصاب چھ ماہ میں مکمل کر کے ڈھائی سال کے عرصے میں انگریزی کی پانچ جماعتیں مکمل کرلیں. اس کے بعد لاڑکانہ کے مشہور پائلٹ اسکول میں داخلہ لیا. ان کی ذہانت کی تحسین کیلیے یہاں ان پر ہاسٹل, بورڈنگ اور اسکول فی معاف کردی گئی تھی. علاوہ ازیں انہیں بارہ روپے ماہانہ اسکالرشپ دی جاتی تھی. 1923 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا. 1924 میں کراچی کے ڈی. جے کالج میں داخلہ لیا. یہاں پر بھی ان سے کوئی فی وصول نہیں کی جاتی تھی. الٹا تیس روپے ماہانہ اسکالرشپ ملتی تھی نیز مسلم اسکالرشپ کے پندرہ روپے ماہانہ بھی ملتے تھے کیونکہ مسلمان طالبِ علموں میں بھی ان کی پہلی پوزیشن تھی. الغرض ہونہار بٹوا کے چکنے چکنے پار والا محاورہ کامریڈ جتوئی پر سو فیصد صادق آتا تھا. 1928 میں انہیں روینیو ڈپارٹمینٹ میں ہیڈ منشی کی ملازمت مل گئی. دلچسپ بات یہ ہے کہ کام وہ ہیڈ منشی کا کرتے تھے لیکن حکومت ان کی کارکردگی سے اس قدر متاثر تھی کہ انہیں مختار کار First Class Magistrate کی تنخواہ اور مراعات دیتی تھی. کامریڈ نے جلد ہی مذکورہ بالا عہدے کیلیے امتحان دیا اور اس مرتبہ بھی پورے سندہ میں پہلی پوزیشن سے امتحان پاس کر کے First Class Magistrate تعینات ہوئے. انہوں نے اس کے بعد بھی ذہانت اور جانفشانی کے ساتھ محنت جاری رکھی اور ڈپٹی کلیکٹر کے عہدے پر ترقی پائی. اس زمانے میں یہ بہت بڑی کامیابی تصور کی جاتی تھی کیونکہ اس طرح کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر مقامی افسروں کی بجائے انگریز افسر تعینات ہوتے تھے. کامریڈ جتوئی 1945 میں اس اہم ملازمت سے مستعفی ہو کر کل وقتی سیاستدان بن گئے. اس زمانے میں ایک طرف سندھ وڈیروں, جاگیرداروں کا قوم دشمن رویہ اور کردار, انہیں میسّر آسائشیں اور عیّاشی, کسانوں کی افلاس زدہ زندگی اور کسمپرسی, انگریز سامراج سے آزادی کی جنگ لڑنے والے محبِ وطن انقلابیوں کے خلاف سامراجی جبر و تشدد تھا تو دوسری طرف کامریڈ عبدالقادر میوہ خان کھوکھر جیسے کسان لیڈروں کی سربراہی میں سندہ کے وڈیروں, جاگیرداروں کے خلاف سندہ ہاری کمیٹی کی شاندار تحریک بھی موجود تھی. روشنی کی اس کرن نے کامریڈ جتوئی کو اپنی طرف متوجہ کیا اور 1945 میں ہی انہوں نے سندھ ہاری کمیٹی میں شمولیت اختیار کر لی. یہ 1930 کا زمانہ تھا جب محترم جی. ایم. سید, مسٹر جیٹھ مل پرسرام, جناب جمشید مہتا, کامریڈ عبدالقادر میوہ خان کھوکھر اور شیخ عبدالمجید سندھی کی کوششوں سے سندھ ہاری کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن کامریڈ جتوئی کی شمولیت کے بعد سندھ ہاری کمیٹی ایک نئے رنگ روپ, جوش و جذبے کے ساتھ ابھرنے لگی. کامریڈ جتوئی نے اپنے سیاسی نظریات کو عملی شکل میں پیش کرنے کیلیے سندھ ہاری کمیٹی کے علاوہ ہفت روزہ اخبار "ہاری حقدار” کا سہارا بھی لیا. اس اخبار کو جاری کرنے کا مقصد سندھ کے بے یار و مددگار کسانوں کو زبان دینا تھا.
1948 میں 30 اور 31 مئی کو سندھ کے شہر رتو دیرو میں دو روزہ ہاری کانفرنس کے دوران کامریڈ جتوئی کو سندھ ہاری کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا. کامریڈ جتوئی کی صدارت کے دوران سندھ بھر میں مسلسل اور متواتر ہاری کانفرنسیں منعقد کی جانے لگیں جن کی وجہ سے کسانوں کی شعوری سطح بلند ہوئی اور ان کی صفوں میں انتشار کی جگہ اتحاد و یگانگت آتی گئی.
15 مارچ 1953 کو تجر باغ لاڑکانہ (حالیہ جناح باغ) میں سندھ سطح کی ایک یادگار تاریخی ہاری کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت خود کامریڈ جتوئی نے کی تھی. اس کانفرنس میں محترم جی. ایم سید کے علاوہ میاں افتخار الدین, پیر الٰہی بخش, کامریڈ برکت آزاد, قاضی فیض محمد, عبدالکریم گدائی, غلام محمد لغاری, رسول بخش پلیجو, قادر بخش نظامانی اور دیگر قائدین شریک ہوئے اور کانفرنس کو خطاب کیا.
مارچ 1957 کو لالو رائنک تحصیل وارہ (اُس وقت لاڑکانہ ضلع) میں ون یونٹ مخالف ہاری کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت بھی خود کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے کی تھی.
1948 میں سندھ ہاری کمیٹی نے "ادھ بٹئی تحریک” یعنی فصلوں کی پیداوار کا آدھا حصہ کسان اور آدھا زمیندار کا ہونا چاہیے. اس تحریک کا آغاز کرنے کیلیے سندھ کی سب سے بڑی اناج منڈی کے طور پر شہرت کے حامل شہر شہدادکوٹ (اُس زمانے میں لاڑکانہ ضلع) کا انتخاب کیا گیا. اس تحریک میں کامریڈ جتوئی کے ساتھ مولوی نذیر جتوئی, مولوی عزیز اللہ جروار, کامریڈ عبدالواحد سومرو, نبی بخش تنیو اور الٰہی بخش قریشی وغیرہ شامل تھے. گو کہ اس تحریک کا آغاز کرنے پر شہدادکوٹ سے سندھ ہاری کمیٹی کے کارکنان اور مقامی قیادت کو گرفتار کیا گیا لیکن یہ اس حقیقت کا اظہار بھی تھا کہ سندھ ہاری کمیٹی نے اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے سندھ کے وڈیروں اور جاگیرداروں کو ہلا کے رکھ دیا تھا.
باباءِ سندہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے 3 اپریل 1950 کو سندہ بھر کے کسانوں کو کراچی میں سندہ اسیمبلی بلڈنگ کے باہر اکٹھا ہونے کی اپیل کی. نتیجتاً پندرہ ہزار سے زیادہ کسان اکٹھے ہوئے. سندہ ہاری کمیٹی نے باباءِ سندہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا تب تک جاری رکھا جب تک وڈیروں اور جاگیرداروں کی اسیمبلی نے کسانوں کے حق میں سندھ ٹیننسی ایکٹ نامی قانون منظور کیا.
کامریڈ جتوئی نے سندھ پر صدیوں سے قابض وڈیروں, جاگیرداروں, سرداروں, نوابوں اور پیروں کے خلاف انتخابات لڑنے کیلیے کسانوں اور مزارعوں کو بطور امیدوار کھڑا کیا. نتیجتاً قبل ازیں جنہیں سرکاری کارندوں اور اپنے چیلے چانٹوں کے ذریعہ گھر بیٹھے ووٹ مل جایا کرتے تھے, اب ان وڈیروں, نوابوں, سرداروں اور پیروں کو اپنی عالیشان رہائش گاہوں سے نکل کر غریبوں کی بستیوں اور جھونپڑیوں میں جانا پڑتا تھا. جاگیرداروں اور نوابوں کی سیاست کے ایوانوں میں کامریڈ جتوئی اور اس کی ہاری کمیٹی نے تہلکہ مچا دیا تھا. انہوں نے عام انتخابات میں وڈیروں کا کھل کر اور بڑے پیمانے پر مقابلہ کیا. تاہم سندھی معاشرے پر جاگیردارانہ گرفت کی مضبوطی, پسے ہوئے طبقات کی کم تر شعوری سطح کی وجہ سے سندھ ہاری کمیٹی کا کوئی بھی امیدوار بشمول کامریڈ جتوئی, کامیاب نہیں ہو سکا. اس سلسلہ میں 1950 میں دادو کے پیر الٰہی بخش کی خالی کردہ نشست پر کامریڈ جتوئی نے بنفسِ نفیس انتخابات میں حصہ لینے کی ٹھانی اور ان کا مقابلہ اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندھ خانبہادر محمد ایوب کھہڑو کے سالے کے ساتھ ہونا تھا. کھہڑو حکومت نے غیر جمہوری اور جابرانہ طرز اختیار کرتے ہوئے کامریڈ جتوئی کو نامزدگی فارم بھرنے سے پہلے ہی اغوا کرا لیا. بعد ازاں 1951 میں بھی کامریڈ جتوئی نے قمبر (اُس زمانے میں لاڑکانہ ضلع) سے نامور جابر خاندان کے فرد سردار سلطان احمد خان چانڈیو کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے. چانڈیو سردار کے ایماء پر اس کے ایجنٹوں اور کسانوں نے باباءِ سندہ کے اوپر پتھراؤ کیا, انتخابی مہم میں شامل قافلہ کے ٹائر پھاڑ دیے گئے. کامریڈ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کو اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر بے آب و گیاہ زمین میں پھینک دیا گیا. 10 مارچ 1951 کے انتخابات کے خلاف ہاری کمیٹی نے اپیل دائر کی. اس اپیل کی شنوائی کے بعد سلطان احمد چانڈیو کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا گیا. کیونکہ کامریڈ جتوئی نے بڑی عرق ریزی کے بعد دستاویزی ثبوت فراہم کرکے یہ ثابت کردیا تھا کہ انتخابات کے وقت سلطان احمد چانڈیو کی عمر قانوناً انتخابات لڑنے جتنی نہیں تھی. معزز عدالت نے فقط سلطان احمد چانڈیو کو نااہل ہی نہیں قرار دیا بلکہ اس اسکول ماسٹر کو بھی سزا سنائی تھی جس نے چانڈیو سردار کو جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا. اس عدالتی فیصلے کے بعد سندہ کے وڈیروں کا کامریڈ جتوئی کے خلاف غصہ مزید بڑھ کر شدت اختیار کر گیا. سندہ حکومت وڈیروں کی تھی چنانچہ کامریڈ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا.
بابائے سندہ کامریڈ حیدر بخش جتوئی قانونی اور آئینی لڑائی لڑنے میں بھی یقین رکھتے تھے. انہوں نے سندھ اور سندھ کے کسانوں پر ہونے والے ریاستی جبر و تشدد نیز حکومت کے غیر آئینی اقدامات کے خلاف متعدد بار عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور بہت سے مقدمات میں جیت انہی کی ہوئی.
بنگالیوں (اس وقت کا مشرقی پاکستان) کو کنٹرول میں رکھنے کیلیے پاکستان کے حاکموں نے 15 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ قائم کیا جس کی حمایت سندھ کے ابن الوقت وڈیروں اور وطن دشمن حکمرانوں نے بھی کردی. انہوں نے اس طرح اپنی سیاسی مایوسی اور ناکامی کا انتقام سندھ دھرتی اور اس کی محکوم عوام سے لیا. ون یونٹ کے قیام کی حمایت کر کے انہوں نے سندھ کی سیاسی و اقتصادی آزادی کا گلا گھونٹ کر اس کی تھذیبی شناخت کو بھی مرکز کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا. یہی نہیں بلکہ اس وقت سندھ حکومت کے خزانے میں موجود کروڑوں روپے بھی مرکز کو دے دیے گئے تھے. سندھ پر اتنا بڑا ظلم کسی غیر نے نہیں بلکہ اپنے ہی Son of Soil اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ سندہ خانبہادر محمد ایوب کھہڑو کی حکمرانی کے دوران ہوا. خانبہادر کھہڑو کے اس عمل کے خلاف شروع میں تو کچھ سیاستدانوں نے شور مچایا لیکن بعد میں رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے. البتہ کامریڈ جتوئی خاموش ہونے والوں میں سے نہیں تھے. وہ پہلے سندھی سیاستدان تھے جنہوں نے ون یونٹ کی شدید مخالفت کی. انہوں نے سندھ بھر کا دورہ کیا اور ون یونٹ مخالف مہم چلائی. اس دوران متعدد شہروں میں پریس کانفرنسوں کو خطاب کیا, پمفلیٹ لکھے اور جگہ جگہ تقسیم کیے. ریل گاڑیوں اور بسوں میں سفر کیا اور تقریریں کر کے عوام کو آگاہ کیا کہ ون یونٹ کی وجہ سے سندھ کو کس طرح اور کون سا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے. ان کا ایک پمفلیٹ One Unit and Democracy ضرور پڑھنا چاہیے. اس نے ون یونٹ مخالف مہم میں جان ڈال دی تھی. انگریزی زبان میں لکھے اس پمفلیٹ نے سندھ کی آواز کو دیگر صوبوں اور ملک سے باہر تک پنہچانے میں مدد دی. خان عبدالغفار خان, اجمل خٹک, عبدالولی خان, نواب اکبر بگٹی, سردار عطاء اللہ مینگل, سردار خیر بخش مری اور میر غوث بخش بزنجو جیسے قائدین نے اس کے بعد کامریڈ جتوئی کا کھل کر ساتھ دیا. حب الوطنی اور محنت کشوں کی حکمرانی کی حمایت کرنے پر ناراض ہو کر خانبہادر کھہڑو کی حکومت نے 1956 میں کامریڈ جتوئی کو ایک بار پھر گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا. اس مرتبہ انہیں شاہی قلعہ لاہور کی اندھیری کوٹھری میں قید کیا گیا. قید و بند کی تمام تر صعوبتیں اور مشکلات بھی اس بہادر اور بے لوث شخص کے حوصلے نہیں توڑ سکیں. باالاٰخر انہیں آزاد کیا گیا. 1958 میں جب جنرل ایوب خان نے پاکستان میں فوجی آمریت قائم کی تب باقی سب اقدامات کے ساتھ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کو گرفتار کر کے تین سال کیلیے کال کوٹھری میں ڈال دیا گیا. 1958 میں مرکزی حکومت نے سندھ پر ناجائز ٹیکسز عائد کیے تو کامریڈ جتوئی نے اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف بھی جنگ چھیڑ دی. انہوں نے انگریزی زبان میں چالیس صفحات پر مشتمل پمفلیٹ Unfair Land Taxation in Sindh جاری کیا. اس میں انہوں نے دلائل اور اعداد و شمار سے ثابت کیا تھا کہ ملک کے دیگر علاقہ جات کے مقابلے سندھ پہلے ہی زیادہ ٹیکس ادا کر رہا تھا. اس لیے نئے ٹیکسز عائد کرنا قطعی غلط فیصلہ تھا. کامریڈ جتوئی کو ایک بار پھر گرفتار کر کے بلوچستان کے مچھ جیل میں قید کردیا گیا. وہ اس کے بعد بھی 1962 تک سندھ اور پنجاب کی مختلف جیلوں میں سڑتے رہے. آزاد ہوئے تو ایوب خان کے پیش کردہ آئین کے خلاف انگریزی زبان میں پمفلیٹ جاری کیا اور ایک مضبوط عملی جدوجہد کا آغاز کیا. ایوبی آمریت نے دسمبر 1967 سے اپریل 1968 تک قید میں ڈال دیا. اسی مقدمے کی ایک پیشی پر کامریڈ جتوئی نے اپنی مشہور نظم "جیئے سندھ, جیئے سندھ, جامِ محبت پیئے سندھ” پیش کی تھی. اس پر اٹارنی جنرل نے اعتراض کیا تھا کہ یہ بھارتی ایجنٹ ہے لیکن جج صاحب نے کہا تھا کہ "جیئے سندھ” کہنا کوئی جرم نہیں بلکہ یہ ایک قومی اور ثقافتی نعرہ ہے. اسی نظم کی اگلی لائنیں ہیں "جیئے ہاری اَیں مزدور, جیئے ہاریانی پر نور” یعنی سندھ کے ساتھ ساتھ سندھ کا کسان مرد و عورت, مزدور مرد و عورت زندہ باد ہوں. اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کامریڈ جتوئی کی آنکھوں میں جس سندھ کی آزادی, خوشحالی اور ترقی کے خواب تھے وہ وڈیروں جاگیرداروں اور پیروں کا نہیں بلکہ مزدور اور کسان کا سندھ تھا. حب الوطنی اور طبقاتی سیاست پر مشتمل یہ تحریک دیسی حکمرانوں خواہ ان کے بین الاقوامی استحصالی قوتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح تھی جسے مسلنے کچلنے کیلیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا. لیکن آزادی اور سماجی انصاف کی شمع کے پروانے بھی کب باز آنے والے تھے بقول فیض:
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق,
نہ اُن کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی.
کامریڈ جتوئی سندھ کے بے کس کسانوں کا مقدمہ قلم, ادب, صحافت, قانون, عقل, ذہانت اور سیاست کے ذریعہ لڑتے رہے. سندھ کو وڈیروں, جاگیرداروں, سرداروں, نوابوں اور پیروں کی بجائے کسانوں اور مزدوروں کا سندھ والا تعارف اور شناخت عطا کرنے والا یہ بہادر اور نڈر شخص, کسانوں کا مسیحا, محبِ وطن اور کمیونسٹ قائد قید و بند کی مسلسل صعوبتیں برداشت کرنے, جیلوں میں ناقص اور مضرِ صحت خوراک ملنے اور علاج معالجہ کی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل بیمار اور لاغر رہنے لگا. باالاٰخر فالج کے حملے کی وجہ سے مستقل طور پر صاحبِ فراش ہو کر 21 مئی 1970 کو 69 برس کی عمر میں سندھ اور سندھ کے کسانوں کو ہمیشہ کیلیے الوداع کہہ کر داغِ مفارقت دے گئے. ان کی وصیت کے مطابق انہیں آبائی قبرستان کی بجائے حیدرآباد میں کلہوڑو حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو کی مزار کے احاطے میں دفن کیا گیا.


اثر امام بایاں بازو کے سیاسی کارکن اور لکھاری ہیں. ان کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے.
asarimam@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں